Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Asif Masood
  4. Aik Tareehi Kirdar: Suqrat

Aik Tareehi Kirdar: Suqrat

ایک تاریخی کردار: سقراط

تاریخ کا اصل حسن اس کے کرداروں میں ہے۔ وہ لوگ جو اپنے دور میں نہ سمجھے گئے، نہ سراہے گئے، بعض تو سولی پر چڑھائے گئے، زہر کا پیالہ پیا، قید میں سڑتے رہے، مگر ان کے خیالات زندہ رہے، ان کے الفاظ دلوں میں گونجتے رہے اور صدیوں بعد بھی انسان ان کی طرف پلٹتا ہے، رہنمائی کے لیے، تسلی کے لیے اور سچائی کی ایک کرن دیکھنے کے لیے۔ سقراط بھی ایسا ہی ایک کردار تھا۔ ایک ایسا فلسفی جس نے کچھ نہ لکھا، لیکن دنیا کی سب سے بڑی علمی روایت کو جنم دیا۔ جو خود کچھ نہ بنا، مگر اپنے شاگردوں کے ذریعے تاریخ بدل گیا اور جس نے صرف سوال پوچھے، لیکن انسان کو سوچنے پر مجبور کر دیا۔

سقراط نے پانچویں صدی قبل مسیح کے یونان میں آنکھ کھولی، جب ایتھنز علم، فن، جمہوریت اور جنگ کی چکی میں پیسا جا رہا تھا۔ وہ کوئی خوبصورت، وجیہہ یا باوقار انسان نہ تھا۔ الٹا، اس کی بدصورتی ضرب المثل تھی۔ موٹا سا ناک، بھدے نقوش، عجیب چال۔ لیکن اُس کی زبان، اُس کا اندازِ سوال اور اُس کی نگاہوں کی گہرائی ایسی تھی کہ بڑے بڑے مفکر، فنکار، جرنیل اور نوجوان اُس کے گرد کھنچے چلے آتے تھے۔ اس نے ایتھنز کے بازاروں، گلیوں، حماموں اور چوکوں کو اپنا درسگاہ بنا لیا اور وہاں وہ بس سوال پوچھتا۔ مسلسل، پیہم، گہرے، تلخ، کھرے سوال۔

اس کا طریقہ تھا، "میں کچھ نہیں جانتا، بس سیکھنے آیا ہوں۔ تم بتاؤ، تمہارا دعویٰ ہے کہ تم جانتے ہو۔ پھر مجھے سمجھاؤ" اور وہ کسی کا بھی دعویٰ پاش پاش کر دیتا۔ چاہے وہ جمہوریت پر ایمان رکھنے والا سیاستدان ہو، یا خدا کے نام پر اقتدار کا خواب دیکھنے والا پادری، یا مال و دولت کو اصل کامیابی سمجھنے والا تاجر۔ سقراط کے لیے سب برابر تھے، سب سے سیکھنا تھا اور سب کو سوچنے پر مجبور کرنا تھا۔

لیکن یہ سب اتنا آسان نہ تھا۔ کیونکہ وہ صرف سوال نہیں پوچھتا تھا، وہ آئینہ دکھاتا تھا اور آئینہ ہمیشہ محبوب نہیں ہوتا۔ خاص طور پر جب وہ سچ دکھاتا ہو۔ اس کے سوالات نے حکمرانوں کی نیندیں اڑا دیں، اس کی باتوں نے روایت پرستوں کو خائف کر دیا اور اس کے خیالات نے نظامِ تعلیم، عبادت اور عدالت کو ہلا کر رکھ دیا۔ اسے ملحد کہا گیا، نوجوانوں کو گمراہ کرنے والا قرار دیا گیا اور آخرکار اس پر مقدمہ چلا دیا گیا۔ قصور؟ یہ کہ وہ "نوجوانوں کے دماغ خراب کرتا ہے اور جھوٹے دیوتاؤں کی عبادت سے روکتا ہے"۔

سقراط چاہتا تو بچ نکلتا۔ اگر وہ تھوڑی سی معذرت کر لیتا، کچھ نرمی دکھاتا، تو اسے معاف کر دیا جاتا۔ مگر وہ کیوں جھکتا؟ جس نے ساری زندگی حق کی تلاش کی ہو، وہ جھوٹ بول کر خود کو کیسے بچا سکتا ہے؟ عدالت میں کھڑے ہو کر اُس نے کہا، "اگر تم مجھے چھوڑ دو گے، میں پھر وہی کروں گا جو اب تک کرتا آیا ہوں، لوگوں سے سوال، سچ کی تلاش اور جھوٹ کی نفی"۔ اسے زہر پینے کی سزا دی گئی۔ قید خانے میں آخری سانس تک وہ اپنے شاگردوں کو سکھاتا رہا اور پھر، پوری ہوش و حواس کے ساتھ، زہر کا پیالہ پیا۔

یہ قربانی یونانی تاریخ کی نہیں، بلکہ انسانی تہذیب کی سب سے بڑی قربانیوں میں سے ایک ہے۔ سقراط کا مرنا اُس کے نظریے کی فتح تھی۔ وہ شخص جو کہتا تھا "جانو کہ تم کچھ نہیں جانتے"، آج بھی علم کی بنیاد کہلاتا ہے۔ اس کے شاگرد، خاص طور پر افلاطون، نے اُس کی باتوں کو قلم بند کیا اور اُس کے خیالات کو آگے بڑھایا۔ افلاطون کے بعد ارسطو نے ان خیالات کو مزید پھیلایا اور یوں مغربی فلسفہ کی پوری عمارت سقراط کی اُس دھرتی پر کھڑی ہوئی جہاں وہ صرف سوال کرتا تھا۔

مگر کیا سقراط صرف ایک معصوم سادہ دل سچ بولنے والا تھا؟ یا اُس میں بھی کچھ ایسا تھا جو زمانے کے ساتھ نہ چل پایا؟ بعض مؤرخین کا خیال ہے کہ سقراط اپنی گفتگو سے دوسروں کو ذلیل کرنے لگ گیا تھا۔ اُس کا انداز تضحیک آمیز تھا، وہ دوسروں کی لاعلمی کا مذاق اڑاتا تھا۔ کچھ اسے جمہوریت کا دشمن بھی سمجھتے ہیں، کیونکہ وہ عوامی رائے کو غیر منطقی، جذباتی اور سطحی سمجھتا تھا۔ اس کا ماننا تھا کہ حکومت صرف وہ لوگ کریں جنہیں علم ہو، عقل ہو، تربیت ہو اور یہ بات جمہوری اقدار سے متصادم سمجھی گئی۔

سقراط کی شخصیت میں یہی تضاد ہے۔ وہ عام لوگوں میں رہتا تھا، مگر عام فہم کی مخالفت کرتا تھا۔ وہ آزادیِ رائے کا علمبردار تھا، مگر جاہلوں کی حکومت سے خوفزدہ بھی۔ وہ سچ کا عاشق تھا، مگر اپنی باتوں کی تلخی سے کئی دل دکھاتا تھا۔ کیا یہ اُس کی کمزوری تھی؟ یا سچ ہمیشہ ایسا ہی ہوتا ہے؟ تلخ، چبھتا ہوا، لیکن شفا بخش؟

یہی تضاد اُسے عظیم بھی بناتا ہے اور متنازع بھی۔ سقراط نے سکھایا کہ سوال کرنا ہی علم ہے۔ کہ سچائی کسی کتاب میں بند نہیں، وہ سوالات کے بیچ سانس لیتی ہے۔ کہ استاد وہ ہے جو خود کو خالی کر دے اور شاگرد کے سوال سے سیکھے۔ مگر اس نے یہ بھی سکھایا کہ سچ کی راہ میں قربانی دینا پڑتی ہے۔ ہر کوئی یہ بوجھ نہیں اٹھا سکتا۔

آج جب ہم سچ بولنے والوں کو حقیر جانتے ہیں، جب سچ بولنے والے جیلوں میں پڑے ہیں، جب سوال کرنے والے غدار قرار دیے جا رہے ہیں، تو سقراط ہمیں یاد دلاتا ہے کہ یہ کچھ نیا نہیں۔ یہ انسانی فطرت ہے کہ وہ آئینے سے ڈرے، وہ آوازوں کو دبائے، وہ سچ کو زہر دے دے۔ مگر سچ مرتا نہیں۔ وہ اگلی نسل میں جاگتا ہے، نئی زبانوں میں بولتا ہے اور نئی شکلوں میں سامنے آتا ہے۔

سقراط صرف ایک یونانی فلسفی نہیں تھا۔ وہ ایک نظریہ ہے، ایک رویہ ہے، ایک تحریک ہے۔ اس کی تعلیم ہمیں بتاتی ہے کہ ہم سوچنا بند نہ کریں۔ ہم سوال پوچھنا نہ چھوڑیں۔ ہم سچ کے لیے کھڑے ہونا نہ بھولیں، چاہے زہر کا پیالہ ہی کیوں نہ پینا پڑے۔

Check Also

Haqeeqi Idraak Aur Amli Shukar?

By Ammar Riaz Chohan