Karachi, Cockroach Party Aur Murree Ke Nojawan
کراچی، کاکروچ پارٹی اور مری کے نوجوان

پندرہ مئی دو ہزار چوبیس کی ایک تپتی ہوئی دوپہر تھی جب جہاز نے کراچی ایئرپورٹ کے رن وے کو چھوا۔ یہ میرا کراچی کا تیسرا سفر تھا۔ پہلا سفر 1999 میں ہوا تھا، دوسرا 2019 میں اور اب یہ تیسرا سفر تھا۔ لیکن اس بار معاملہ مختلف تھا۔ اس بار میں ایک ورلڈ بینک فنڈڈ میگا پراجیکٹ میں ایک بین الاقوامی فرم کے ساتھ کنسلٹنٹ انجینئر کی حیثیت سے یہاں تعینات ہونے آیا تھا اور اگلے ڈیڑھ سے دو سال اسی شہر میں بسر ہونے تھے۔
کراچی، ایک ایسا شہر جس کے بارے میں پاکستان کے ہر کونے میں کہانیاں سنائی جاتی ہیں۔ روشنیوں کا شہر، روزگار کا شہر، سمندر کا شہر، مگر جب آپ اس کے اندر اترتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ صرف ایک شہر نہیں، بلکہ تضادات کا ایک وسیع سمندر ہے۔
ابتدائی دنوں میں میرے ایک میڈیا سے وابستہ دوست، علی عمران، نے مجھے ڈی ایچ اے بخاری کمرشل کے ایک پوش علاقے میں اپنے آراستہ فلیٹ میں ٹھہرایا۔ میں صبح نکلتا، ساحل کے ساتھ ساتھ سفر کرتا ہوا چار کلومیٹر دور کلفٹن کے دفتر پہنچ جاتا اور شام کو وہی راستہ واپس۔ یوں کراچی کی اصل، کلفت بھری زندگی میری نظروں سے اوجھل رہی۔ نہ ٹوٹی ہوئی سڑکیں، نہ گھنٹوں پر محیط ٹریفک جام، نہ پرانی کھٹارا بسیں اور نہ سگنل پہ موبائل سنیچرز۔
بعد ازاں میں ڈی ایچ اے مسلم کمرشل کے ایک ایسے فلیٹ میں منتقل ہوگیا جو سمندر کے عین کنارے واقع تھا۔ میں نے اس جگہ کا انتخاب شعوری طور پر کیا تھا۔ شاید اس لیے کہ سمندر ہمیشہ سے مجھے اپنی طرف کھینچتا رہا ہے۔ رات گئے جب میں ساحل کے کنارے واک کرتا تو چاندنی میں سفید لہروں کو ٹھاٹھیں مارتے دیکھتا۔ سمندر کنارے میں دیر تک افق کو تکتا رہتا اور سوچتا کہ اس پار کون سی دنیا آباد ہے اور اِس پار ہم کس نوع کی زندگی گزار رہے ہیں۔
پھر آہستہ آہستہ میں اصل کراچی سے آشنا ہوا۔ کنکریٹ کا ایک جنگل، سبزہ ناپید، درخت کم اور تازہ ہوا ایک خواب۔ سڑکوں پر خوفناک رفتار سے دوڑتے پرانے ماڈل کے بسیں اور ڈمپر، جو روز کسی نہ کسی انسان کی جان نگل لیتے ہیں اور سب سے بڑا مسئلہ پانی، یہاں کے غیر قانونی ہائیڈرنٹس اور "ٹینکر مافیا"تھا۔ مسلم کمرشل میں قیام کے دوران میرا واسطہ بھی اس مافیا سے پڑا۔ ایک پان کی پیک تھوکتا ہوا چوکیدار، جو مہینے میں دو تین بار مصنوعی شارٹیج پیدا کرکے بیس بیس ہزار روپے ٹینکرکے نام پر وصول کرلیتا۔
میں نے کراچی کے مظلوم نوجوان دیکھے جو بیروزگاری کے عفریت سے لڑتے محرومیوں میں پروان چڑھنے کے باوجود بھی خوش تھے، شائید انھیں ادراک نہیں کہ ان سے دو ہزار میل دور شمال میں پاکستانیوں کی زندگی ان سے قدرے بہتر ہے جو کم از کم سبزہ اور درخت دیکھتے ہیں اور جن کے پاس زیر زمین پانی بھی پینے کو ہے۔
کراچی کے یہ دن مجھے آج بھارت میں ایک عجیب سیاسی و سماجی واقعہ سننے کے بعد یاد آئے۔ ایک سوشل میڈیا ایکٹوسٹ ابھیجیت دپکے، جو کبھی عام آدمی پارٹی سے وابستہ رہا تھا اور امریکہ میں مقیم تھا، نے بھارتی نوجوانوں کی بے بسی کو ایک طنزیہ علامت میں ڈھال دیا۔ بھارتی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سریا کانت نے سوشل میڈیا ایکٹوسٹ نوجوانوں کے حوالے سے ایک نامناسب ریمارک دیا اور انھیں کاکروچ سے تشبیہ دی، تو ردِعمل میں اُس نوجوان نے "کاکروچ جنتا پارٹی" کے نام سے ایک ویب سائٹ بنا دی۔ اُس نے بے روزگار، مایوس اور نظر انداز کیے گئے نوجوانوں کو دعوت دی کہ وہ اس پارٹی کا حصہ بنیں۔
یہ ایک طنز تھا، مگر ایسا طنز جو آگ کی طرح پھیل گیا۔
چند گھنٹوں میں لاکھوں رجسٹریشن، محض دو دنوں میں دو کروڑ نوجوان اس تحریک کے ساتھ جڑ گئے۔ سوشل میڈیا پر یہ ایک حقیقی سیاسی طاقت بن کر بھارتی جنتا پارٹی کے مقابل کھڑی ہوگئی۔
تب میں نے سوچا، کیا پاکستان میں بھی کبھی ایسا ممکن ہوگا؟
کراچی میں ٹیلنٹ موجود ہے۔ شہری حقوق کی بات کرنے والے جبران ناصر اور ٹوٹی ہوئی سڑکوں اور گٹروں کے ڈھکنے بدلنے والے "فکس اٹ" کے کردار عالمگیر نے بڑی شہرت حاصل کی، مگر وہ ملک گیر سطح پہ پذیرائی حاصل نہ کر سکے۔ شائید پنجاب کی عسکری اور جاگیردار اشرافیہ کراچی کے نوجوانوں کو ایک خاص حد سے آگے جانے ہی نہیں دیتی۔ مگر سوال یہ ہے پنجاب میں بھی تو نوجوان ستو پی کے سو رہے ہیں۔
کیا کبھی پنجاب میں ایک ایسی تحریک جنم لے گی، جو نسلوں سے مسلط استحصالی نظام کے سامنے کھڑی ہوسکے؟ یا پھر ہمیں بھی چیف جسٹس آفریدی سے درخواست کرنی پڑے گی کہ پاکستانی نوجوانوں کو کاکروچ کہہ دیں، تا کہ وہ بھی ری ایکشن میں آکے کوئی پارٹی کھڑی کر سکیں۔
شاید مسئلہ صرف کراچی کا نہیں۔ شاید پورا ملک ایک ایسے سیاسی اور سماجی جمود میں قید ہے جہاں نئے خیالات کو جنم لے ہی نہیں پا رہے۔ لیکن تاریخ کا اصول ہے کہ جمود ہمیشہ نہیں رہتا۔
میرے شہر مری میں بھی نوجوان جاگ رہے ہیں۔ کچھ عرصہ قبل میں نے نوجوانوں کے مری ڈیویلپمنٹ فورم کی ایک تقریب میں شرکت کی۔ ان نوجوانوں کی آنکھوں میں مجھے سپارک نظر آیا۔ انقلاب کسی بڑی شخصیت یا بڑے شہر کا میراث نہیں ہوتا۔ کیا یہ ممکن ہوگا کہ یہیں پہ سوشل میڈیا سے کوئی چشمہ پھوٹے جو ان بڑے استحصالی جغاوریوں کے آگے پورے قد سے کھڑا ہو جائے؟
فلحال تو یہ نوجوان آسان نکاح تحریک چلا رہے ہیں، لیکن خواب دیکھنے میں کوئی پابندی نہیں، کاکروچ پارٹی نہ صحیح، کوئی "امید نو پارٹی" یا "روشن مستقبل پارٹی" تو بن سکتی ہے۔ ابھیجیت دپکے بھی آپ جیسا ہی ایک عام نوجوان تھا، وہ کر سکتا ہے تو آپ کیوں نہیں اور ہاں یاد رکھئے، ان بوڑھے تھکے ہوئے لیڈروں سے تبدیلی کی توقع مت رکھیں، انھوں نے کچھ کرنا ہوتا تو پچھلی تین چار دہائیوں میں کر چکے ہوتے۔

