Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Ayesha Batool
  4. Aurat Ko Izzat To Bohat Mili Hai

Aurat Ko Izzat To Bohat Mili Hai

عورت کو عزت تو بہت ملی ہے

عورت کو اسلام نے وہ مقام عطا کیا ہے جو شاید کسی اور معاشرے یا نظام میں اتنی وضاحت اور عزت کے ساتھ نہیں دیا گیا۔ ماں کے قدموں تلے جنت رکھی گئی، بیٹی کو رحمت کہا گیا، بہن کو عزت اور رحمت کی علامت بنایا گیا اور بیوی کو سکون کا ذریعہ قرار دیا گیا۔ یہ سب اس بات کا ثبوت ہے کہ عورت کی حیثیت معاشرے میں بہت بلند اور محترم ہے۔

لیکن ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ عزت صرف ملنے سے قائم نہیں رہتی بلکہ اسے اپنے کردار، رویّے اور فیصلوں سے برقرار رکھنا بھی پڑتا ہے۔ عورت کو جو مقام، عزت اور احترام ملا ہے، اس کی حفاظت بھی اسی کی ذمہ داری ہے۔

آج کے معاشرے میں مختلف قسم کی عورتیں موجود ہیں۔ کچھ خواتین وہ ہیں جو ہر حال میں اپنے گھر، اپنے رشتوں اور اپنی عزت کو سنبھال کر چلتی ہیں۔ وہ صبر کرتی ہیں، برداشت سے کام لیتی ہیں اور چھوٹی چھوٹی باتوں کو نظر انداز کرکے بڑے نقصان سے بچا لیتی ہیں۔ ایسی عورتیں حقیقت میں معاشرے کا حسن ہوتی ہیں۔

لیکن دوسری طرف کچھ عورتیں ایسی بھی ہیں جو انا، ضد یا جذباتی فیصلوں کی وجہ سے اپنے ہی رشتوں کو نقصان پہنچا دیتی ہیں۔ بعض اوقات معمولی اختلافات کو اتنا بڑھا دیا جاتا ہے کہ گھر ٹوٹنے کے قریب پہنچ جاتا ہے۔ اگرچہ ہر بار قصور صرف عورت کا نہیں ہوتا، کئی مرتبہ حالات، رشتہ داروں کا دباؤ اور غلط فہمیاں بھی مسائل پیدا کر دیتی ہیں، مگر اس کے باوجود عورت کو اپنے رویّے پر غور ضرور کرنا چاہیے۔

کبھی کبھی خاموشی، معاف کر دینا اور سمجھداری سے معاملہ حل کرنا رشتوں کو بچا لیتا ہے، جبکہ ضد اور انا ایسے فیصلے کروا دیتی ہے جن کا نقصان بعد میں سب کو اٹھانا پڑتا ہے۔

عورت کا اصل حسن صرف اس کی خوبصورتی میں نہیں بلکہ اس کی سوچ، برداشت، سمجھداری اور کردار میں ہوتا ہے۔ وہ اگر چاہے تو اپنے اخلاق اور محبت سے گھر کو جنت بنا سکتی ہے اور اگر جذبات میں آکر فیصلے کرے تو وہی گھر بکھر بھی سکتا ہے۔

میرا ماننا ہے کہ جس طرح مرد کو رزق کمانے کے لیے جدوجہد کرنا پڑتی ہے، اسی طرح عورت کو اپنی عزت، وقار اور اعتماد کو قائم رکھنے کے لیے جدوجہد کرنا پڑتی ہے۔ اس جدوجہد میں صبر، برداشت، ذمہ داری، احساس اور صحیح و غلط کی پہچان بہت ضروری ہے۔

میں یہاں کسی پر تنقید نہیں کر رہی بلکہ صرف ایک چھوٹی سی بات سمجھانے کی کوشش کر رہی ہوں کہ ہمیں عورتوں کو، بیٹیوں کو، بہنوں کو اور ماؤں کو عزت تو بہت ملی ہے، مگر اسے قائم رکھنا بھی ہماری اپنی ذمہ داری ہے۔

جس طرح عورت پر گھر اور رشتوں کو سنبھالنے کی ذمہ داری ہے، اسی طرح مرد پر بھی اس کے تحفظ میں موجود عورت کی عزت، انصاف اور اچھے رویّے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ مضبوط معاشرہ تبھی بنتا ہے جب مرد اور عورت دونوں اپنی اپنی ذمہ داریاں سمجھیں اور ایک دوسرے کا احترام کریں۔

عورت بھی انسان ہے، اس سے غلطیاں ہو جاتی ہیں اور انسان غلطیوں سے ہی سیکھتا ہے۔ لیکن جو اپنی غلطیوں سے سبق نہیں سیکھتا، وہ نہ صرف اپنے لیے مشکلات پیدا کرتا ہے بلکہ دوسروں کے لیے بھی مسائل کا باعث بنتا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے عورت کو بڑے بڑے درجے عطا کیے ہیں۔ اگر وہ ماں ہے تو اپنی ذمہ داری ایمانداری سے نبھائے اور اپنے بچوں کو صحیح اور غلط کا فرق سکھائے۔ اگر بیٹی یا بہن ہے تو آزادی کا غلط استعمال نہ کرے بلکہ اسے اپنی عزت اور اچھے کردار کے ساتھ جوڑے۔ اگر بیوی ہے تو شوہر کے ساتھ محبت، عزت اور سمجھداری سے زندگی گزارے اور اگر شوہر کسی معاملے میں غلط ہو تو اسے حکمت اور نرمی سے سمجھانے کی کوشش کرے۔

آج کے دور میں سوشل میڈیا نے بھی عورت کے کردار اور عزت پر گہرا اثر ڈالا ہے۔ ضروری ہے کہ عورت اپنی عزت، وقار اور حدود کا خیال رکھتے ہوئے ہر قدم اٹھائے، کیونکہ بعض اوقات ایک غلط فیصلہ یا وقتی جذبات پوری زندگی پر اثر ڈال دیتے ہیں۔ آزادی بہت خوبصورت چیز ہے، مگر اس کے ساتھ شعور اور ذمہ داری بھی اتنی ہی ضروری ہے۔

ہر انسان، چاہے مرد ہو یا عورت، اپنے اعمال کی وجہ سے عزت پاتا بھی ہے اور کھوتا بھی ہے۔ یہاں بات عورت کی ہو رہی ہے کیونکہ عورت گھر، خاندان اور نسلوں کی تربیت کا مرکز ہوتی ہے۔

اپنی عزت کا خیال رکھیں، اپنے اعمال درست کریں، اپنے اندر صبر و برداشت پیدا کریں، درگزر کرنا سیکھیں، خوش رہیں اور دوسروں کے لیے آسانی پیدا کریں۔ اللہ تعالیٰ ہر عورت کو حکمت، صبر، اچھے فیصلے کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمارے گھروں میں محبت، سکون اور برکت عطا کرے۔

Check Also

Biscuit Bechne Wala Bacha

By Kiran Arzoo Nadeem