Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Hasnain Haider
  4. 8 Zil Hajj: Jab Hussain Ne Makka Chora

8 Zil Hajj: Jab Hussain Ne Makka Chora

آٹھ ذی الحجہ: جب حسینؑ نے مکہ چھوڑا

مکہ، جہاں ہر سال لاکھوں قدم عبادت کی نیت سے اکٹھے ہوتے تھے، اس روز ایک عجیب بےچینی اپنے دامن میں چھپائے ہوئے تھا۔ خانۂ کعبہ کے گرد طواف جاری تھا، لبیک کی صدائیں فضا میں تیر رہی تھیں، احراموں کی سفیدی دور تک پھیلی ہوئی تھی، مگر ان سفید چادروں کے بیچ کہیں سازش کے سیاہ دھبے بھی گردش کر رہے تھے۔ حرم کی دیواریں خاموش تھیں، لیکن ان کی خاموشی میں ایک اضطراب چھپا تھا، جیسے وہ جانتی ہوں کہ چند ساعتوں بعد تاریخ کا دھارا بدلنے والا ہے۔

ساٹھ ہجری کا سورج عرب کی تپتی ریت پر یوں اترا تھا جیسے آسمان نے آگ کے الاؤ زمین پر رکھ دیے ہوں۔ مکہ و مدینے کی گلیوں میں ابھی اذانوں کی بازگشت باقی تھی، مگر دلوں میں خوف کے سائے اترنے لگے تھے۔ بازار آباد تھے، قافلے چل رہے تھے، کھجوروں کے باغ لہلہا رہے تھے، مگر فضا میں ایک انجانا اضطراب تیر رہا تھا، جیسے وقت خود کسی بڑے سانحے کے انتظار میں سانس روکے کھڑا ہو۔

لوہاروں کی دکانیں ان دنوں غیر معمولی طور پر روشن تھیں۔ دہکتے انگاروں پر لوہا سرخ ہوکر چیخ اٹھتا اور ہتھوڑے کی ضربیں رات کے سناٹے میں قیامت کے نقاروں کی طرح گونجتیں۔ عرب کے بدو، جن کے چہروں پر صحرا کی سختی لکھی تھی، اپنی سنتِ ابراہیمی کے لیے چھریاں تیز کروا رہے تھے۔ کوئی دھار کو انگلی سے آزما کر مسکراتا، کوئی چمکتی چھری کو آسمان کی طرف اٹھا کر اس کی کاٹ پر فخر کرتا۔ مگر انہی دکانوں کے ایک کونے میں، شاہی حکم کے سائے تلے، تلواریں بھی سنواری جا رہی تھیں، ایسی تلواریں جنھیں چند دن بعد آلِ محمد ﷺ کے خلاف اٹھنا تھا۔

لوہار کی بھٹی میں جلتی آگ جیسے جانتی تھی کہ یہ فولاد کس خون کا پیاسا ہونے والا ہے۔ جب تلوار پتھر سے رگڑ کھاتی تو ایک چنگاری اڑتی اور یوں محسوس ہوتا جیسے فرات کے کنارے کسی بچے کی قسمت جل کر راکھ ہو رہی ہو۔ کچھ سپاہی اپنی زرہیں درست کروا رہے تھے، کچھ نیزوں کی انیاں سیدھی کر رہے تھے۔ ان کے قہقہے بلند تھے، مگر تاریخ ان کی آوازوں کے پیچھے چھپی نحوست کو سن رہی تھی۔

اسی دوران مکہ کے اندر ایک اور خاموش تیاری جاری تھی۔

یزید کے کارندے حاجیوں کے لباس میں شہر میں پھیل چکے تھے۔ ان کے چہروں پر عبادت کا غلاف تھا، مگر نیتوں میں خنجر چھپے تھے۔ حکم یہ تھا کہ اگر حسین ع بیعت نہ کریں تو حرم ہی میں ان کا خون بہا دیا جائے۔ کعبہ، جسے ابراہیم ع نے توحید کی نشانی بنایا تھا، اسے سیاست کے خون سے رنگنے کی تیاری ہو رہی تھی۔

اور پھر وہ لمحہ آیا، حسینؑ نے احرام کھول دیے!

یہ محض احرام اتارنا نہیں تھا، یہ دراصل ایک خاموش اعلانِ مزاحمت تھا۔ ایک ایسا اعلان، جس نے عبادت کے سکون پر مزاحمت کی تلوار رکھ دی۔ حج کو عمرے میں بدل کر نواسۂ رسول ﷺ نے گویا تاریخ کو یہ پیغام دیا کہ جب حرم کی حرمت خطرے میں پڑ جائے تو طواف سے زیادہ ضروری حق کا تحفظ ہوجاتا ہے۔

لوگ حیرت سے دیکھ رہے تھے۔ کوئی سمجھ نہ پایا کہ فرزندِ زہراؑ اس مقدس سفر کو ادھورا کیوں چھوڑ رہے ہیں۔ مگر حسینؑ جانتے تھے کہ یزیدیت صرف ان کی جان نہیں چاہتی، وہ کعبے کے تقدس کو بھی اپنے اقتدار کے نیچے روند دینا چاہتی ہے۔ اس لیے انہوں نے مکہ چھوڑ دینا قبول کیا، مگر حرم کو خون آلود ہونے نہ دیا۔

قافلہ روانہ ہوا۔

ریت اڑتی تھی، اونٹوں کی گھنٹیاں بجتی تھیں، بچوں کی معصوم آوازیں کبھی خاموشی کو توڑ دیتیں اور صحرا دور تک پھیلا ہوا ایک بےرحم سمندر محسوس ہوتا تھا۔ چند خیمے، چند وفادار چہرے، کچھ عورتیں، کچھ بچے اور بیچ میں حسینؑ، جن کے چہرے پر عجب سکون تھا، جیسے انہیں معلوم ہو کہ وہ موت کی طرف نہیں، ابدیت کی طرف سفر کر رہے ہیں۔

کوفہ کے دروازوں پر خاموشیاں پہرہ دے رہی تھیں۔ گلیوں میں چلنے والے لوگ نظریں چرا کر بات کرتے۔ جن لبوں پر کبھی علیؑ کے قصیدے تھے، وہاں اب مصلحت کے تالے پڑ چکے تھے۔ مسجدوں میں عبادتیں تھیں، مگر روحیں خوف کے شکنجے میں قید تھیں۔ ہر شخص جانتا تھا کہ نواسۂ رسول ﷺ تنہا چھوڑ دیے گئے ہیں، مگر کوئی اپنی جان، اپنا گھر، اپنا قبیلہ خطرے میں ڈالنے کو تیار نہ تھا۔

ادھر کوفہ میں ابنِ زیاد کا خوف پھیل رہا تھا، ادھر صحرا میں حسینؑ کا قافلہ آگے بڑھ رہا تھا۔ ایک طرف اقتدار تھا، دوسری طرف صداقت۔ ایک طرف ہزاروں تلواریں تھیں، دوسری طرف چند ایسے سر، جو کٹ تو سکتے تھے مگر جھک نہیں سکتے تھے۔

کربلا ابھی دور تھی، مگر وقت نے اپنی پیشانی پر خون لکھ لیا تھا۔

فرات ابھی بہہ رہی تھی، مگر اس کے پانی پر ظلم کے پہرے بٹھائے جا چکے تھے۔ آسمان ابھی نیلا تھا، مگر تقدیر اس پر سرخی مل رہی تھی اور زمین، زمین شاید اپنے سینے پر آنے والے سجدوں کے بوجھ سے پہلے ہی لرزنے لگی تھی۔

Check Also

Aurat Ko Izzat To Bohat Mili Hai

By Ayesha Batool