Haqeeqi Idraak Aur Amli Shukar?
حقیقی ادراک اور عملی شکر؟

شہر کی ایک مشہور و معروف سڑک کے کنارے بیٹھے ایک نابینا لڑکےنے اپنی ٹانگوں کے درمیان ایک ہیٹ رکھ کر قریب ہی ایک چھوٹے سے بورڈ پر لکھ رکھاتھا: "میں بصارت سے محروم ہوں"۔ لوگ اس کی معذوری پر ترس کھا کر اس کے ہیٹ میں سکے ڈال رہے تھے۔ کچھ فاصلے پر کھڑا ایک شخص یہ منظر دیکھ رہا تھا۔ وہ نابینا لڑکے کے قریب آیا اور بورڈ پر ایک کاغذ چسپاں کرکے خاموشی سے چلا گیا۔ کچھ ہی دیر گزری تھی کہ لڑکے نے محسوس کیا کہ اب ہیٹ میں رقم پہلے سے کہیں زیادہ آرہی ہے۔ تقریباً ہر گزرنے والا شخص رک کرہیٹ میں کچھ نہ کچھ ڈال رہا ہے۔ شام کو وہی شخص دوبارہ آیا تو لڑکے نے قدموں کی چاپ سے اسے پہچان لیا اور پوچھا: "آپ نے ایسا کیا کیا کہ ہر شخص مجھے پیسے دینے لگا؟"
اس شخص نے جواب دیا: "میں نے تمہاری تحریر کے اوپر یہ جملہ لکھ دیا تھا: "آج کا دن کتنا خوبصورت ہے، مگر میں اسے دیکھ نہیں سکتا"۔ یہ الفاظ لوگوں کے دلوں میں اتر گئے اور انہیں نعمتِ بصارت کا حقیقی احساس ہوگیا۔ اکثر ہمیں اپنے پاس موجود نعمت کا ادراک تب تک نہیں ہوتا، جب تک اس سے محروم کسی شخص کو نہ دیکھ لیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں روز بے شمار نعمتوں سے نوازتا ہے، مگر ہم میں سے اکثر ان پر غور نہیں کرتے۔ جب کوئی نعمت چھن جاتی ہے یا کوئی آزمائش آتی ہے، تب ہمیں اس کی اہمیت سمجھ میں آتی ہے۔
شکر گزاری کیا ہے؟ شکر گزاری ایسی صفت ہے جس کے ذریعے بندہ رب کی رضا حاصل کرتا ہے اور جب رب راضی ہو جائے تووہ بندےکی نعمتوں میں مزید اضافہ فرما دیتا ہے۔ اس کا قرآنِ مجید کی سورت ابراہیم میں اللہ تعالیٰ نے کچھ یوں ارشاد فرمایا ہے"اگر تم شکر کرو گے تو میں تمہیں مزید عطا کردوں گا"۔ دو طرح سے شکرگزاری کی جاتی ہے۔ ایک زبان سے اور دوسرا فعل سے، یہ وعدہ محض زبانی شکر سے نہیں بلکہ عملی شکر سے وابستہ ہے۔ جس کی ایک مثال حضرت عثمان غنیؓ تھے۔
حضرت عثمان غنیؓ تاریخِ اسلام میں ایک ایسے عظیم تاجر کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ جنہیں اللہ تعالیٰ نے بے پناہ مال و دولت سے نوازا تھا، مگر آپ نےکبھی دولت کو اپنی ذات تک محدود نہیں رکھا۔ بلکہ زبان سے ہی نہیں، عمل سے بھی شکر ادا کیا۔ حضورﷺکے زمانے میں جب مدینہ منورہ میں پانی کی شدید قلت پیدا ہوئی تو ایک یہودی کے پاس بئرِ رومہ نامی کنواں تھا، جس سے وہ پانی فروخت کرتا تھا۔ حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص یہ کنواں خرید کر مسلمانوں کے لیے وقف کرے گا، میں اس کے لیے جنت کی بشارت دیتا ہوں۔ حضرت عثمانؓ نے فوراً اس کنویں کو اپنی دولت سے خرید کر اللہ کی راہ میں وقف کر دیا، تاکہ ہر شخص بلا معاوضہ پانی حاصل کر سکے۔ یہ عمل صرف سخاوت نہیں بلکہ اللہ کی نعمتوں کے حقیقی ادراک اور عملی شکر کی اعلیٰ مثال تھا۔ آپؓ نے یہ ثابت کر دیا کہ شکر صرف زبان سے الحمدللہ کہنے کا نام ہی نہیں بلکہ اللہ کی دی ہوئی نعمتوں کو اس کے بندوں کی آسانی کا ذریعہ بنانے کا نام بھی ہے۔
آج کے دور میں بھی ایسے بہت سے لوگ ہیں جو اپنی کمائی کو اللہ کی امانت سمجھتے ہیں اور اپنی آمدن کا باقاعدہ حصہ تعلیم، صحت، یتیموں کی کفالت اور فلاحی منصوبوں پر خرچ کرتے ہیں۔ جن میں ایسے صنعت کار بھی آتے ہیں جو اپنے ملازمین کے لیے مفت علاج، تعلیمی وظائف اور باعزت روزگار کے مواقع فراہم کرتے ہیں۔ یہ تمام اعمال دراصل اسی شعور کا نتیجہ ہیں جس کے مطابق دولت محض ذاتی فائدہ نہیں بلکہ اللہ کی نعمت ہے، جس پر شکر ادا کرنا لازم ہے۔
ایک باشعور انسان وہی ہے جو معاشرتی ذمہ داری کو بھی سمجھتا ہے اور دوسروں کے لیے سہولت کا ذریعہ بنتا ہے۔ شکرگزاری صرف الفاظ کا نام نہیں بلکہ یہ تو احساسات کا مجوعہ ہے، جس میں ہمیں دوسروں کی محرومی سے سبق سیکھ کرشکر ادا کرنے اور دوسروں کی مدد کرنے کی تلقین کی جاتی ہے۔ ہم میں سے اکثر لوگ شکر گزاری کو صرف الفاظ تک محدود رکھتے ہیں۔ حالانکہ شکر میں الفاظ کا حصہ بہت کم اور دل کے احساس اور عملی شکر کا کردار کہیں زیادہ ہوتاہے۔
ایک زیرِ تعمیر عمارت کی تیسری منزل پر ایک سپروائزر کھڑا تھا۔ جس نے نیچے کام کرنے والے مزدور سے بات کرنے کے لیے دس روپے کا نوٹ نیچے پھینکا تاکہ اس کی توجہ حاصل کر سکے، مگر مزدور نے دس روپے اٹھالیے اور دوبارہ کام میں لگ گیا۔ پھر اس نے پچاس روپے کا نوٹ پھینکا، وہ بھی اٹھا لیا۔ آخرکار سپروائزر نے تنگ آکر کنکر پھینکا جو مزدور کے سر پر لگا، تب اس نے اوپر دیکھا۔ ہمارے ساتھ بھی اکثر ایسا ہی ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں روز صحت، وقت، رزق اور امن جیسی نعمتیں عطا فرماتا ہے، مگر ہم انہیں اپنا حق سمجھ کر قبول کر لیتے ہیں اور شکر ادا نہیں کرتے۔ جب کوئی تکلیف آتی ہے تب ہمیں اوپر کی طرف دیکھنے کا ہوش آتا ہے۔
اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا ادراک دراصل انسان کو عاجزی، شکر اور خدمتِ خلق کی طرف لے جاتا ہے۔ اگر شکر نہ ہو تو نعمتوں سے برکت اٹھ جاتی ہے اور اگر شکر ہو تو کم وسائل میں بھی سکون نصیب ہو جاتا ہے۔ یہ زندگی، صحت، عقل اور رزق ہمارا حق نہیں بلکہ اللہ کا محض فضل ہیں۔ لہٰذا آئیے، زبان ہی نہیں دل اور عمل کے ساتھ بھی شکر گزار بنیں، تاکہ ہماری زندگی بھی بابرکت ہو اور ہمارا کاروبار بھی اللہ کی رضا کا ذریعہ بن سکے۔

