Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Sarfraz Saeed Khan
  4. Narsain Hamari Mohsin

Narsain Hamari Mohsin

نرسیں ہماری محسن

جس صبح کو پاپا گئے تو وہ ایک بےحد مشکل دن تھا۔ وفات سے کچھ پہلے اُن کے نرس نے مجھے کہا کہ میں ان کے سانسوں کی ترتیب بدلتی دیکھ رہا ہوں اور اختتام ممکنہ طور پر بہت دور نہیں۔ آخری وقت سے کچھ پہلے امبر اور ہمارے والدین کی عمر کی ایک نیک دل بنگلہ دیش کی خاتون داخل ہوئیں اور جب پاپا نے آخری سانس لی تو ہم تینوں کمرے میں موجود تھے۔ منسی میں یہ پہلے مسلمان مرد کی وفات تھی کیونکہ ان سے پہلے جانے والی ایک 108 سالہ خاتون تھیں اور وہ ایک نرسنگ ہوم میں رہتی تھیں۔ ان کی قبر پاپا کے بالکل ساتھ ہے۔ اُن کے بچے اسلام سے برگشتہ ہو چُکے تھے اور بظاہر اسلامی کمیونٹی کا حصہ نہیں رہے تھے۔ پاپا کی وفات کا سنتے ہی اس دن کم و بیش سب ہی مسلمانوں نے اپنے کام چھوڑ دئیے، کلینک بند کر دئیے اور یونیورسٹی سے چھٹی لے لی۔ ہمارے اسپتال کے کمرے کے باہر آ کر کھڑے ہو گئے، اسپتال کی راہ داری آباد کر دی لیکن اس کا کیا کریں کہ دل کی وہ گلی جو باپ کے نام سے عبارت تھی اس پر ممنوع کی تختی آویزاں ہوگئی۔

پاپا کا کمرہ بال میموریل اسپتال کی پانچویں منزل پر تھا۔ اُن کی وفات کے چند ہی منٹوں بعد مجھے نچلی منزل پر جانا ہوا اور ایلیویٹر سے نکلتے ہی ہماری کیس مینیجر مجھے ملیں اور ایک مریض کا بتانے لگیں۔ میری خاموشی دیکھ کر شاید پریشان ہوئی ہوں لیکن میں اس وقت ایک عجیب کیفیت سے گزر رہا تھا۔ انہیں گئے ہوئے ابھی چند ہی لمحے ہوئے تھے اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ ایک مہیب تنہائی ہے۔ یوں سمجھئیے جیسے طوفان سے کسی کمرے کی چھت اڑ گئی ہو اور آپ کڑکتی بارش اور طوفان بادوباراں میں بالکل تنہا کھڑے ہوں۔ پردیس کی تنہائی کا اندازہ لگانا آسان نہیں۔ اکلوتا بیٹا۔ پردیس کا اسپتال، چھوٹے بچے اور والد کی وفات۔ یہ ایک ایسا سانحہ تھا جو اماں مرحومہ کی وفات پر بھی نہیں گزرا تھا۔ ہم اس وقت پاکستان میں تھے اور ہمارے عزیز رشتہ دار ارد گرد تھے۔

نوجوانی میں تنہائی کچھ خوش کُن لگتی ہے۔ کچھ رومانوی احساس اور کچھ ذاتی خواب دیکھنے کی آزادی دکھائی دیتی ہے لیکن اگر آپ برصغیر کے کسی بھی شہر میں رہ چکے ہیں تو آپ شاید پردیس کی مہیب تنہائی سے واقف نہیں ہو سکتے۔ دیس میں ہر وہ خوانچہ فروش، ٹین ڈبے بیچنے کی صدا لگانے والے یا کسی سڑک سے گزرتے ہوئے کسی فقیر کا آپ کے دامن کو تھام لینا یا مدد کی صدا دینا بھلے خوش کُن نہیں لگتا لیکن شاید ہم آپ یہ نہیں سوچتے کہ وہ آپ کو آتے جاتے ایک تحفہ دیتے جاتے ہیں۔ رونق اور مجلسی زندگی کا تحفہ۔ جلوت اور محفل آرائی۔ آپ کو روکنے والا یا مدد ہی مانگنے والا، ایک مانوس زبان میں ایک سوغات آپ کو دے جاتا ہے، انسانی موجودگی کا ہدیہ اور انعام۔ یہ ان چاہا تحفہ آپ کے دل کے ایک ان جانے گوشے کو سُکھ سے بھر ڈالتا ہے۔

میری زندگی کے سب سے تنہا اور شاید تاریک ترین دنوں میں میری ساتھی نرسیں تھیں جن کا میں تا عمر مقروض ہوں۔ امبر اپنے والدین کی اکلوتی صاحبزادی ہیں اور ہم صرف دو بہن بھائی ہیں۔ اس مہیب قیامت کے گزرتے ہوئے میرے سر پر کوئی دنیاوی سائبان نہیں تھا۔ والدین اپنے بچوں کو زیادہ بہن بھائیوں سے بہتر کوئی دنیاوی تحفہ نہیں دے سکتے۔ آنسو بہانے کیلئے ایک سے زیادہ کاندھے اور سر رکھنے کو ایک سے زیادہ زانو سے بہتر تحفہ کیا ہوگا۔ ان دنوں میں ایک مرد نرس جو بھائیوں سے بڑھ کر خیال کرتا۔ رات بھیگ جاتی تو مجھے آرام کا کہتا اور ساری رات پاپا کے ساتھ رہتا اور ایک کچھ عمر کی خاتون نرس جو عمر کا خیال کئیے بغیر ساتھ ساتھ رہیں اور جب پاپا گئے تو میرے ساتھ ساتھ رو پڑیں۔ میرے سب سے تنہا دنوں کے ساتھی وہی تین یا چار انسان تھے اور ان سب کا پیشہ تھا نرسنگ۔

جب اندازہ ہوا کہ شاید گنے چُنے دن رہ گئے ہیں تو اُن خاتون نرس نے مجھے سمجھایا کہ رہے سہے دنوں کو سنبھال لیجئیے۔ آنے والے وقتوں میں جب پیچھے مڑ کر دیکھیں گے تو گئے دنوں کی راہ داری میں یہی چراغ، یادوں کو فروزاں کریں گے۔ کیا ہی عزت دار پیشہ ہے اور انسانی خوبیوں سے مالا مال انسان ہی اس پیشے کو چُنتے ہیں۔ گیلپ کے پچھلے سال کی ہمہ پرسی (ووٹنگ) میں پچھتر فیصد امریکنوں نے نرسوں کو سب سے زیادہ دمکتا ہوا یعنی اعتماد کے قابل پیشہ قرار دیا۔ اس کی سطح پچھتر فیصد تھی۔ ڈاکٹر اس کے آس پاس بھی نہیں آئے۔

میں امریکہ آ گیا اور ابھی ریزیڈنسی تلاش کر رہا تھا کہ اماں مرحومہ اسپتال میں داخل ہوئیں۔ امبر دن میں بیکن ہاؤس پڑھانے جاتیں اور رات کو پی آئی سی کے سی سی یو کے ننگے فرش پر ہمارے شیرخوار بچے کے ساتھ آرام کی کوشش کرتیں۔ عرصے کے بعد یادوں کے قرطاس پر دل کے قلم سے لکھی تحریر دیکھی تو کوئی میرا ڈاکٹر دوست اس تحریر میں نہیں تھا بلکہ وہ سب پی آئی سی کی نرسیں تھیں۔ راتوں کو بچے کو دودھ گرم کرکے دینے سے امبر کو آرام کیلئے اپنے کمرے میں آنے کا کہتیں۔ سالوں بعد آج میں اُن سنہرے اور دمکتے دلوں کی مالک نرسوں کے نام نہیں جانتا لیکن ہمارا رب ضرور ان کے ناموں سے واقف ہے اور مجھے امید ہے کہ دنیا اور آخرت میں وہ اس کا بدلہ اپنے رب سے پائیں گی۔

پہلے اوماہا اور بعد میں منسی، انڈیانا میں، ہمارے بچوں کی پیدائش کے وقت میں کام سے تو بھلے چھٹی لے لیتا تھا لیکن بچوں کی نگہداشت کچھ میرے اوپر رہتی اور امبر ہمیشہ نرسوں کی تعریف کے پُل باندہ دیتیں۔ ایک دن کہنے لگیں کہ اگر انسانی شکل میں کوئی غیبی مدد پہنچی ہے تو وہ یہی نرسیں تھیں۔ بچے کو سنبھال لیتیں۔ آتے جاتے کمبل اُڑھا دیتیں اور ایک خوشگوار اور گرم جوش مسکراہٹ سے اسپتال کے کمرے کو گھر بنا ڈالتیں۔

آج میں بڑھاپے کی دہلیز پر قدم رکھ رہا ہوں۔ سرمئی بالوں اور مضمحل ہوتے قوی کے ساتھ یہ ضرور سوچتا ہوں کہ بحثیت معاشرہ ہم نے ان نیک دل بچیوں کے ساتھ کیا کیا کہ اس پیشے کی عزت کو ہی اٹھا کر کُوڑے دان میں ڈال دیا۔ دنیا کے سب سے ترقی یافتہ ملک کا سب سے دمکتا ہوا پیشہ تو نرسیں رہیں اور ہم پاکستانیوں کے کاٹ ڈالنے والے لفظ ان بچیوں کی عزت نفس کو کس قدر مجروح کرتے ہیں۔ معاشرتی گراوٹ یوں در آئی کہ ہم محسنوں اور انسان دوست پیشوں کی عزت سے پہلوتہی کر بیٹھے۔ یہ سوچے بغیر کہ عزت اور احترام کے بغیر زندگی نہیں گزاری جاتی۔ اپنے گھروں سے اجنبی اور بیمار و بے کس مردوں اور خواتین کا خیال کرنے والے اس انسان دوست پیشے کو ایک گالی بنا ڈالا۔

یہ بھی تو ہماری ہی بیٹیاں ہیں اور ان کو عزت دینے میں کیا امر مانع رہا۔ ایک ایسا معاشرہ جو کھرے کھوٹے میں فرق نہ کر سکے وہ بہتر انسانوں کا معاشرہ نہیں ہو سکتا۔ اب بھی دل نہ پسیجے تو آئیے چند لمحوں کو سوچیں کہ اگر کل ہماری بیٹی اور بہن اس پیشے میں ہو تو کیا ہم وہ برداشت کریں گے جو یہ بے کس بچیاں برداشت کرتی ہیں۔ زہر آلود لفظوں سے اخلاق باختہ جملوں کا سفر اور بد تہذیبی سے بدنما معاشرتی داغوں کی گالی گلوچ۔۔

کیا ہم صرف سخت دل ہیں یا اجتماعی اخلاقی کشمکش کا شکار ہیں۔ اخلاق باختہ پیشے نہیں ہوتے بلکہ معاشرے ہوتے ہیں۔ معاشرے کے رویے میں تبدیلی بہتر انسان ہی لے کر آتے ہیں اور ہاں یہ فیصلہ بھی ہم ہی کرتے ہیں

صفحۂ قرطاس ہے یا زنگ خوردہ آئینہ
لکھ رہے ہیں آج کیا اپنے سخن ور دیکھنا

Check Also

Narsain Hamari Mohsin

By Sarfraz Saeed Khan