Wednesday, 24 June 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Ayesha Batool
  4. Roothe Hue Ko Manana

Roothe Hue Ko Manana

روٹھے ہوئے کو منانا

رشتے زندگی کا سب سے قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں، لیکن افسوس کہ اکثر یہی رشتے ہماری انا، ضد اور غلط فہمیوں کی نذر ہو جاتے ہیں۔ کوئی اپنا ناراض ہو جائے، بات چیت بند کر دے یا دوری اختیار کر لے تو بجائے اس کے کہ ہم اس کی ناراضی کی وجہ جاننے کی کوشش کریں، ہم بھی اپنے غصے اور دکھ میں گم ہو جاتے ہیں۔

ہم سوچتے ہیں کہ "وہ خود ہی بات کر لے گا"، "میں کیوں مناؤں؟"، "میرے پاس اتنا وقت نہیں کہ کسی کے پیچھے پھروں" یا "اسے منانے سے مجھے کیا ملے گا؟"۔ یہی سوچ آہستہ آہستہ فاصلے بڑھا دیتی ہے۔ حالانکہ ایک لمحے کی عاجزی، ایک پیغام، ایک معذرت یا ایک محبت بھرا جملہ بگڑے ہوئے رشتے کو سنوار سکتا ہے۔

انسان جب ناراض ہوتا ہے تو وہ صرف اپنی تکلیف کو دیکھتا ہے۔ وہ یہ نہیں سوچتا کہ شاید سامنے والا بھی کسی دکھ، غلط فہمی یا احساسِ محرومی کا شکار ہو۔ ہم اپنے غصے کو تو اہم سمجھتے ہیں مگر دوسرے کے غصے کے پیچھے چھپی تکلیف کو سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے۔

اسلام ہمیں رشتے جوڑنے اور معاف کرنے کی تعلیم دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "اور بھلائی اور برائی برابر نہیں ہو سکتے، برائی کو اس طریقے سے دفع کرو جو سب سے بہتر ہو، پھر وہ شخص کہ تمہارے اور اس کے درمیان دشمنی تھی، ایسا ہو جائے گا جیسے وہ گہرا دوست ہو"۔ (سورۃ فصلت، آیت 34، پارہ 24)

یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ بعض اوقات محبت اور نرمی وہ کام کر دیتی ہے جو بحث اور غصہ نہیں کر سکتے۔

اسی طرح اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "جو غصے کو پی جاتے ہیں اور لوگوں کو معاف کر دیتے ہیں اور اللہ نیکی کرنے والوں سے محبت کرتا ہے"۔ (سورۃ آل عمران، آیت 134، پارہ 4)

سوچنے کی بات ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ معاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے تو پھر ہم معاف کرنے اور منانے میں اتنی کنجوسی کیوں کرتے ہیں؟

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ قطع تعلق رکھے"۔ (Sahih al-Bukhari صحیح البخاری، کتاب الادب، حدیث 6077، Sahih Muslim صحیح مسلم، کتاب البر والصلۃ، حدیث 2560)

ایک اور روایت میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "سب سے بہتر شخص وہ ہے جو سلام میں پہل کرے"۔ (صحیح البخاری، کتاب الاستئذان، حدیث 6234)

گویا اسلام نے عزت اسی کے لیے رکھی ہے جو تعلق جوڑنے میں پہل کرے، نہ کہ اس کے لیے جو اپنی انا کی حفاظت کرتا رہے۔

روٹھنے والے کے لیے بھی نصیحت ہے کہ اگر کوئی آپ کو منانے آئے تو اس کے خلوص کی قدر کریں۔ ہر انسان سے غلطی ہو سکتی ہے۔ اگر کوئی اپنی انا کو ایک طرف رکھ کر آپ کے پاس آیا ہے تو اسے رد نہ کریں۔ معاف کرنا کمزوری نہیں بلکہ بڑی ہمت کی نشانی ہے۔

اور منانے والے کے لیے پیغام یہ ہے کہ اگر آپ کسی کو مناتے ہیں تو یہ نہ سوچیں کہ آپ کو اس سے کیا ملے گا۔ ہو سکتا ہے دنیا میں کچھ نہ ملے، لیکن اللہ کے ہاں اس کا اجر ضرور محفوظ ہوگا۔ کبھی کبھی ایک ٹوٹا ہوا دل جوڑ دینا ایسی نیکی بن جاتا ہے جس کا اجر انسان قیامت کے دن دیکھتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ ہم غیروں کو نہیں مناتے، ہم اپنے لوگوں کو مناتے ہیں اور اپنے لوگوں کو کھو دینا اکثر اس وقت تک محسوس نہیں ہوتا جب تک وہ واقعی ہم سے دور نہ ہو جائیں۔ اس لیے اگر کوئی اپنا ناراض ہے تو اس کے دل تک پہنچنے کی کوشش کیجیے۔ ہو سکتا ہے وہ آپ کے ایک قدم کا منتظر ہو۔ کیونکہ بعض اوقات رشتے ختم نہیں ہوتے، صرف ایک شخص کے "میں کیوں مناؤں؟" کہنے سے بکھر جاتے ہیں۔

میری اللہ تعالی سے میرے لیے اور آپ سب کے لیے دل سے دعا ہے۔ یا اللہ! ہمارے دلوں سے غرور، ضد اور انا کو دور فرما۔ ہمیں معاف کرنے، درگزر کرنے اور رشتوں کو جوڑنے کی توفیق عطا فرما۔ اگر ہمارے کسی اپنے کے دل میں ہمارے لیے ناراضی ہے تو اسے محبت میں بدل دے اور اگر ہم کسی سے ناراض ہیں تو ہمارے دلوں کو نرم فرما دے۔ یا اللہ! ہمیں وہ بندہ بنا جو ٹوٹے ہوئے دل جوڑے، بچھڑے ہوئے رشتے ملائے اور تیری رضا حاصل کرے۔

Check Also

Nanga Tourism Nahi Chahiye

By Shair Khan