Wednesday, 24 June 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Mubashir Ali Zaidi
  4. Bartania Mein Aise Kya Masail Hain Ke Wuzraye Azam Tik Nahi Pa Rahe?

Bartania Mein Aise Kya Masail Hain Ke Wuzraye Azam Tik Nahi Pa Rahe?

برطانیہ میں ایسے کیا مسائل ہیں کہ وزرائے اعظم ٹک نہیں پاتے؟

برطانیہ کبھی سیاسی استحکام کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ مارگریٹ تھیچر گیارہ برس، ٹونی بلیر دس برس اور ڈیوڈ کیمرون چھ برس تک اقتدار میں رہے۔ لیکن 2016 کے بریگزٹ ریفرنڈم کے بعد منظرنامہ یکسر بدل گیا۔ گزشتہ دس برس میں ملک چھ وزرائے اعظم دیکھ چکا ہے اور اب کیئر اسٹارمر کے استعفے کے بعد ساتویں وزیراعظم کی آمد متوقع ہے۔ یہ سوال اب صرف سیاسی نہیں بلکہ سماجی اور معاشی بھی بن چکا ہے کہ آخر برطانیہ میں ایسا کیا ہورہا ہے کہ کوئی وزیراعظم زیادہ دیر تک اقتدار میں نہیں رہ پاتا؟ اور کیا اسٹارمر کی جگہ آنے والا ان مسائل کا حل نکال سکے گا؟

کیئر اسٹارمر کی سیاسی موت بظاہر عجیب دکھائی دیتی ہے۔ وہ نہ کسی بڑے مالیاتی بحران کے ذمے دار تھے، نہ ان پر بدعنوانی کے الزامات لگے، نہ انھوں نے کوئی غیر مقبول جنگ چھیڑی۔ جولائی 2024 میں انھوں نے بھاری اکثریت سے اقتدار حاصل کیا تھا۔ اس کے باوجود انھیں دو سال سے بھی کم عرصے میں استعفا دینا پڑا۔ گارڈین کے تجزیہ نگار جوناتھن فریڈلینڈ نے لکھا کہ مستقبل کے مورخین شاید سب سے زیادہ حیرت اسٹارمر کے زوال پر کریں گے۔

برطانیہ کے موجودہ مسائل کا ذمے دار کوئی ایک وزیراعظم نہیں بلکہ یہ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران جمع ہوئے ہیں۔ بریگزٹ کے معاشی اثرات، کووڈ کے بعد پیدا ہونے والی مالی مشکلات، روس یوکرین جنگ کے نتیجے میں توانائی کی قیمتوں میں اضافہ، دفاعی اخراجات کا بڑھتا بوجھ اور بوڑھی ہوتی آبادی کی فلاح پر بڑھتے اخراجات نے برطانوی حکومت کا ہاتھ تنگ کردیا ہے۔ اٹلانٹک میگزین کے مطابق ہر ترقی یافتہ ملک اس مسئلے سے دوچار ہے کہ کام کرنے والی آبادی سکڑ رہی ہے جبکہ پینشن اور صحت کی سہولتوں کے اخراجات مسلسل بڑھ رہے ہیں۔

اسٹارمر کی اپنی غلطیاں بھی کم نہیں تھیں۔ ان پر سب سے بڑا اعتراض یہ تھا کہ وہ عوام کو یہ سمجھانے میں ناکام رہے کہ ان کی حکومت دراصل کرنا کیا چاہتی ہے۔ فریڈلینڈ کے مطابق اسٹارمر ایک اچھے منتظم ہوسکتے تھے لیکن وہ کوئی واضح سیاسی وژن پیش نہ کرسکے۔ دو سال گزرنے کے باوجود عام ووٹر تو دور، بہت سے لیبر ارکان پارلیمان بھی یہ نہیں بتا سکتے تھے کہ "اسٹارمر منصوبہ" کیا ہے۔

یہ مسئلہ صرف ابلاغ کا نہیں بلکہ حکمت عملی کا بھی تھا۔ اسٹارمر نے 2024 کا انتخاب ایسے ووٹروں کو متوجہ کرکے جیتا تھا جنھیں ان کے مشیر مورگن میک سوینی "ہیرو ووٹرز" کہتے تھے۔ یہ نسبتاً عمر رسیدہ، سماجی طور پر قدامت پسند اور بڑی حد تک بریگزٹ کے حامی ووٹر تھے۔ لیکن خود اسٹارمر ایک انسانی حقوق کے وکیل اور بریگزٹ مخالف سیاست دان تھے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ وہ نہ اپنے نئے ووٹروں کو پوری طرح مطمئن کرسکے اور نہ ہی اپنی جماعت کے روایتی ترقی پسند حامیوں کو خوش کر پائے۔ اٹلانٹک نے لکھا کہ اسٹارمر نے کسی کو ناراض نہ کرنے کی کوشش میں سب کو ناراض کردیا۔

ان کی حکومت معاشی پالیسی میں بھی واضح سمت اختیار نہ کرسکی۔ انتخابی مہم کے دوران لیبر پارٹی نے وعدہ کیا تھا کہ وہ آمدن ٹیکس، نیشنل انشورنس اور ویلیو ایڈڈ ٹیکس نہیں بڑھائے گی۔ اقتدار میں آنے کے بعد معلوم ہوا کہ خزانہ خالی ہے اور اخراجات بڑھ رہے ہیں۔ لیکن بڑے فیصلے کرنے کے بجائے حکومت نے چھوٹے چھوٹے اقدامات کیے، جیسے بزرگوں کے موسم سرما کے ایندھن الاؤنس میں کٹوتی، خاندانی فارموں پر وراثتی ٹیکس اور آجروں پر اضافی بوجھ۔ ان اقدامات سے معیشت میں کوئی نمایاں بہتری بھی نہیں آئی اور عوام بھی ناراض ہوئے۔

اسٹارمر کی ایک اور کمزوری فیصلہ سازی میں ہچکچاہٹ تھی۔ گارڈین کے مطابق وہ بار بار ایسی پالیسیاں پیش کرتے جنھیں بعد میں واپس لینا پڑتا۔ فلاحی اصلاحات، ڈیجیٹل شناختی کارڈ اور دوسرے منصوبوں پر یوٹرن نے تاثر پیدا کیا کہ حکومت کو خود معلوم نہیں کہ وہ کس سمت جانا چاہتی ہے۔ ہر پسپائی کے ساتھ وزیراعظم کی سیاسی ساکھ کمزور ہوتی گئی۔

پیٹر مینڈلسن کی واشنگٹن میں بطور سفیر تقرری بھی ان کے لیے درد سر بن گئی۔ بعد میں سامنے آنے والی معلومات اور تنازعات نے اس فیصلے کو ایک سیاسی بوجھ میں بدل دیا۔ ناقدین نے سوال اٹھایا کہ اگر اسٹارمر خود کو اصول پسند اور محتاط منتظم کے طور پر پیش کرتے تھے تو انھوں نے ایسا متنازع فیصلہ کیوں کیا۔ یہ معاملہ ان کے خلاف پہلے سے موجود تاثر کو مزید مضبوط کرتا گیا کہ وہ اپنے مشیروں پر حد سے زیادہ انحصار کرتے ہیں اور خود واضح قیادت فراہم نہیں کرتے۔

شاید اسٹارمر کی سب سے بڑی بدقسمتی یہ تھی کہ وہ ایک ایسے دور میں وزیراعظم بنے جب ووٹرز کا صبر تقریباً ختم ہوچکا ہے۔ سوشل میڈیا کے دور میں عوام فوری نتائج چاہتے ہیں۔ اگر مہنگائی، صحت، رہائش اور آمدنی کے مسائل چند ماہ میں حل نہ ہوں تو حکومت کے خلاف مہم شروع ہوجاتی ہے۔ گارڈین نے ایک وزیر کے حوالے سے لکھا کہ اسٹارمر "تیسرے پلمبر" کی طرح تھے۔ گھر کے مالک کو پہلے دو ناکام پلمبروں پر جتنا غصہ ہوتا ہے، وہ سب تیسرے پلمبر پر نکلتا ہے۔ بریگزٹ، کفایت شعاری اور لِز ٹرس کے معاشی بحران کے بعد عوام کا سارا غصہ اسٹارمر کو برداشت کرنا پڑا۔

اب سب کی نظریں اینڈی برنہم پر ہیں، جنھیں اسٹارمر کا ممکنہ جانشین سمجھا جارہا ہے۔ ان کی پارلیمان میں واپسی اور پھر وزیراعظم بننے کی راہ تقریباً ہموار دکھائی دیتی ہے۔ لیکن ان کے سامنے بھی وہی بنیادی مسائل ہیں، یعنی کمزور معاشی نمو، دباؤ کا شکار صحت کا نظام، امیگریشن پر عوامی بے چینی، دفاعی اخراجات میں اضافہ اور ٹیکس بڑھانے کی محدود گنجائش۔

برنہم کی ایک خوبی یہ سمجھی جاتی ہے کہ وہ اسٹارمر کے مقابلے میں زیادہ سیاسی اور عوامی رابطے رکھنے والے رہنما ہیں۔ انھں مقامی حکومت کا طویل تجربہ ہے اور عوامی جذبات کو سمجھنے کی شہرت رکھتے ہیں۔ لیکن اب تک ان کا پروگرام بھی کافی حد تک مبہم ہے۔ ایک طرف انھوں نے اسٹارمر کی بعض پالیسیوں سے فاصلہ رکھا ہے، لیکن دوسری طرف مالیاتی قواعد اور غیر قانونی امیگریشن کے خلاف سخت موقف کی حمایت بھی کی۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اصل سوال یہ نہیں کہ اگلا وزیراعظم کون ہوگا، بلکہ یہ ہے کہ کیا برطانیہ کے مسائل کسی ایک وزیراعظم کے بس کی بات بھی ہیں؟ اگر معاشی نمو سست رہی، عوامی خدمات میں بہتری نہ آئی اور ووٹر فوری نتائج کا مطالبہ کرتے رہے تو اینڈی برنہم یا کوئی بھی اس سیاسی چکی میں پس سکتا ہے، جس میں تھریسا مے، بورس جانسن، لِز ٹرس، رشی سونک اور کیئر اسٹارمر پس چکے ہیں۔

برطانیہ کا بحران دراصل قیادت کا نہیں، توقعات اور وسائل کے درمیان بڑھتے ہوئے فرق کا بحران ہے۔ جب تک کوئی وزیراعظم عوام کو یہ قائل نہیں کر پاتا کہ مشکلات کیوں ہیں، قربانیاں کیوں ضروری ہیں اور بہتری کیسے آئے گی، تب تک ڈاؤننگ اسٹریٹ کا دروازہ نئے وزرائے اعظم کے لیے کھلتا اور بند ہوتا رہے گا۔ کیئر اسٹارمر کی ناکامی اسی حقیقت کی تازہ ترین مثال ہے۔

Check Also

Bartania Mein Aise Kya Masail Hain Ke Wuzraye Azam Tik Nahi Pa Rahe?

By Mubashir Ali Zaidi