Muntaha Ke Naam
منتہا کے نام

بعض خبریں صرف خبر نہیں ہوتیں، وہ دل کے کسی نہایت نرم گوشے میں اتر کر وہاں مستقل درد کی صورت اختیار کر لیتی ہیں۔ چند روز قبل سرگودھا کی معصوم بچی منتہا کے ساتھ پیش آنے والے المناک واقعے کی خبر بھی میرے لیے ایسی ہی ایک خبر تھی۔ خبر پڑھتے ہی یوں محسوس ہوا جیسے کسی نے میرے بچپن کی یادوں، میرے شہر کی محبتوں اور میری روح کے کسی روشن کمرے میں اندھیرا بھر دیا ہو۔
سرگودھا صرف ایک شہر نہیں، میرا آبائی شہر ہے۔ اس کے گلی کوچوں سے میری بے شمار یادیں وابستہ ہیں۔ انہی گلیوں میں میرا بچپن دوڑا، انہی راستوں پر خوابوں کے تعاقب میں بھاگا، انہی بازاروں اور محلوں میں زندگی کے ابتدائی رنگ دیکھے۔ میں نے ہمیشہ سرگودھا کو محبت، خلوص، اپنائیت اور زندہ دلی کا شہر پایا۔ مگر جب اسی شہر سے ایک معصوم بچی کی بے دردی سے زندگی چھین لینے کی خبر آئی تو یوں لگا جیسے کسی نے میرے شہر کے ماتھے پر خون آلود داغ لگا دیا ہو۔
سرزمین ادبی فورم کے شعبہ اردو ادب کی جانب سے شاعرہ نجمہ منصور نے اس سانحے پر جو نظم لکھی، اسے پڑھتے ہوئے دل بار بار بھر آیا۔ نظم کا عنوان ہی انسان کو اندر تک ہلا دیتا ہے: "وہ تتلی۔۔ جو رنگ لینے نکلی تھی"۔
کتنی سادہ اور کتنی دردناک علامت ہے یہ تتلی!
واقعی تو وہ ایک تتلی ہی تھی۔ ایک معصوم بچی، جس کے ننھے خواب ابھی پوری طرح جاگے بھی نہ تھے۔ جس کی گڑیا کے کپڑوں کا رنگ ابھی کچا تھا۔ جس کے قدموں نے ابھی زندگی کی دھول کو مکمل طور پر محسوس بھی نہیں کیا تھا۔ وہ تو صرف رنگوں کی تلاش میں نکلی تھی، خوشیوں کی تلاش میں، بچپن کی معصوم خواہشوں کے تعاقب میں۔
مگر افسوس کہ اس کے راستے میں انسان نہیں، درندے کھڑے تھے۔
نجمہ منصور کی نظم کا ہر مصرع ہمارے اجتماعی ضمیر پر ایک سوالیہ نشان بن کر ابھرتا ہے۔ شاعرہ پوچھتی ہے کہ لوگ حجاب اور پردے کی بات کرتے ہیں، مگر ایک آٹھ سالہ بچی کو کون سا پردہ بچا سکتا تھا؟ وہ تو خود معصومیت کا پردہ تھی، پاکیزگی کا استعارہ تھی، خدا کی ایک معصوم تخلیق تھی۔
یہ سوال صرف شاعرہ کا نہیں، پورے معاشرے کا سوال ہے۔
ہم آخر کب تک اپنے جرائم کی ذمہ داری دوسروں پر ڈالتے رہیں گے؟ کب تک معصوم بچیوں کے والدین کو نصیحتیں کرتے رہیں گے؟ کب تک اصل مجرموں کے بجائے معاشرے کے کمزور طبقات کو مورد الزام ٹھہراتے رہیں گے؟
حقیقت یہ ہے کہ مسئلہ بچیوں کے لباس یا ان کے باہر نکلنے کا نہیں، مسئلہ ان ذہنوں کا ہے جو درندگی سے بھر چکے ہیں۔ مسئلہ ان کرداروں کا ہے جو انسانی شکل میں حیوانیت کی بدترین مثال بن چکے ہیں۔
نظم کا ایک منظر بار بار میرے ذہن میں آتا ہے۔ شاعرہ لکھتی ہیں کہ اب وہ گلی کا موڑ سنسان ہے مگر وہاں معصومیت کی چیخیں اب بھی سنائی دیتی ہیں۔ واقعی بعض مقامات صرف جگہیں نہیں رہتے، وہ تاریخ بن جاتے ہیں۔ وہ ایک ایسا زخم بن جاتے ہیں جو برسوں تک نہیں بھرتا۔
شاید آج بھی سرگودھا کی کسی گلی سے گزرتے ہوئے کسی ماں کا دل کانپ جاتا ہوگا۔ شاید کسی بچی کو اکیلا باہر بھیجتے ہوئے کسی باپ کی آنکھوں میں خوف اتر آتا ہوگا۔ شاید اس شہر کی فضا میں اب بھی ایک سوال معلق ہوگا کہ آخر منتہا کا قصور کیا تھا؟
کچھ نہیں۔
اس کا قصور صرف اتنا تھا کہ وہ ایک معصوم بچی تھی۔
ایسے واقعات کے بعد صرف آنسو کافی نہیں ہوتے۔ صرف مذمتی بیانات کافی نہیں ہوتے۔ صرف سوشل میڈیا پر چند دن کا شور بھی کافی نہیں ہوتا۔ اگر معاشرہ واقعی اپنی بیٹیوں سے محبت کرتا ہے تو اسے ایسے مجرموں کے خلاف مثال بننے والی قانونی کارروائی کا مطالبہ کرنا ہوگا۔
جو لوگ معصوم بچوں کی زندگیوں سے کھیلتے ہیں، وہ صرف ایک فرد کے قاتل نہیں ہوتے، وہ پورے معاشرے کے امن، اعتماد اور مستقبل کے قاتل ہوتے ہیں۔ ان کے لیے ایسی سزا ضروری ہے جو آنے والی نسلوں کے لیے عبرت بن سکے۔
میں جب اپنے بچپن کے سرگودھا کو یاد کرتا ہوں تو مجھے کھلے میدان، کھیلتے بچے، بے فکری سے گزرنے والی شامیں اور محبت سے بھرے چہرے یاد آتے ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ آنے والی نسلوں کا سرگودھا بھی ایسا ہی ہو۔ ایک ایسا شہر جہاں بچیاں تتلیوں کے پیچھے دوڑ سکیں، جہاں مائیں خوف کے سائے میں نہ جئیں، جہاں معصومیت محفوظ ہو، جہاں بچپن محفوظ ہو۔
منتہا واپس نہیں آئے گی۔
اس کی ہنسی، اس کے خواب، اس کی ننھی خواہشیں اب صرف یادوں کا حصہ ہیں۔ مگر اگر اس سانحے سے ہم نے کچھ نہ سیکھا، اگر ہم نے اپنی اجتماعی ذمہ داری محسوس نہ کی، اگر ہم نے ایسے درندوں کو قانون کی گرفت میں لا کر انجام تک نہ پہنچایا، تو پھر ہم سب اس جرم کے خاموش گواہ بن جائیں گے۔
نجمہ منصور کی نظم دراصل ایک بچی کا نوحہ نہیں، پورے معاشرے کے ضمیر کی پکار ہے۔ وہ ہمیں جگانے آئی ہے۔ وہ ہمیں بتا رہی ہے کہ تتلیوں کے پر نوچے جا رہے ہیں اور ہم خاموش ہیں۔
آج سرگودھا رو رہا ہے۔ آج ہر حساس دل رو رہا ہے۔ آج ہر وہ شخص رو رہا ہے جو انسانیت پر یقین رکھتا ہے۔
اور ہم سب کی زبان پر صرف ایک دعا ہے:
اللہ تعالیٰ معصوم منتہا کے درجات بلند فرمائے، اس کے والدین کو صبر عطا کرے اور اس ظلم کے مرتکب افراد کو دنیا و آخرت میں عبرتناک انجام سے دوچار کرے۔
تاکہ آئندہ کوئی تتلی رنگ لینے نکلے تو اسے اپنے پروں کے ٹوٹ جانے کا خوف نہ ہو۔

