Sunday, 26 April 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Zafar Syed
  4. Aik Hum Hain Ke Liya Apni He Soorat Ko Bigar

Aik Hum Hain Ke Liya Apni He Soorat Ko Bigar

ﺍﯾﮏ ﮨﻢ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﻟﯿﺎ ﺍﭘﻨﯽ ﮨﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﮐﻮ ﺑﮕﺎﮌ

سب سے بڑے چینل والوں کہ نہ جانے کیا سوجھی کہ انہوں نے ایک معروف و مرحوم ڈائجسٹ کے مقبول مدیر کو اردو املا کی درستگی (معاف کیجیے گا، درستی) کا کام سونپ دیا۔ اس کے بعد انہوں نے کچھ بتایا، اگلوں نے کچھ سنا، ٹکر ٹائپ کرونے والوں نے کچھ سمجھا۔ دوسرے چینل والوں نے آدھی سنی/آدھی دیکھی باقی خود فرض کر لیا اور وہ اندھیر مچا کہ اب لفظ کو لفظ سجھائی نہیں دیتا۔

مذکورہ مقبول مدیر صاحب ایک ویڈیو میں شکوہ سنج ہیں کہ لوگ انڈا بھی ہ سے لکھتے ہیں حالانکہ انڈہ (ہ پر زور دے کر) نہیں ہوتا، انڈا ہوتا ہے!

ویسے یہ خیال ان مدیر کا نہیں بلکہ خاصا پرانا ہے، لیکن عبدالستار صدیقی اور رشید حسن خاں کی رسائی الیکٹرانک میڈیا تک نہیں تھی اس لیے وہ اپنی جگہ پر رہے، یعنی موٹی موٹی کتابوں کے اندر بند۔ مگر میڈیائی اصلاح کاروں نے سستی رسائی کے استرے سے اردو املا کے بخیے ادھیڑ ڈالے ہیں۔

اس کے نتیجے میں جو حشر ہوا ہے وہ ایک مستقل کتاب کا متقاضی ہے، اس تحریر میں ہم صرف اس دھونس کا جائزہ لیں گے کہ ﻣﮩﯿﻨﮧ ﯾﺎ ﺗﮭﺎﻧﮧ ﺟﯿﺴﮯ ﺍﻟﻔﺎﻅ ﮐﮯ ﺁﺧﺮ ﻣﯿﮟ ﮦ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻠﮑﮧ ﺍﻟﻒ ﺁﻧﺎ ﭼﺎﮨﯿﮯ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﯾﮧ ﮨﻨﺪﯼ ﻣﯿﮟ ﺍﻟﻒ ﺳﮯ ﻟﮑﮭﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔

ﺩﺭﺳﺖ ﺍﻣﻼ ﭘﯿﺴﮧ ﯾﺎ ﭘﯿﺴﺎ؟ ﺗﮭﺎﻧﺎ ﯾﺎ ﺗﮭﺎﻧﮧ؟ ﻣﮩﯿﻨﺎ ﯾﺎ ﻣﮩﯿﻨﮧ؟ ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﭼﮭﺎﭘﺎ، ﺩﮬﻤﺎﮐﮧ، ﺟﮭﺮﻭﮐﮧ، ﺗﻮﻟﯿﮧ، ﮈﺍﮐﯿﮧ، ﺑﮭﺮﻭﺳﮧ، ﺍﻣﺮﯾﮑﮧ، ﭘﺎﻧﺴﮧ، ﭨﮭﯿﮑﮧ ﺍﻟﻒ ﺳﮯ ﻟﮑﮭﮯ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﯾﺎ ﮦ ﺳﮯ؟

ﺍﺭﺩﻭ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﻗﺒﯿﻞ ﮐﮯ ﺍﻟﻔﺎﻅ ﺻﺪﯾﻮﮞ ﺳﮯ ﮦ ﺳﮯ ﻟﮑﮭﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ (ﺍﺱ ﮦ ﮐﺎ ﺗﮑﻨﯿﮑﯽ ﻧﺎﻡ ﮨﺎﺋﮯ ﻣﺨﺘﻔﯽ، ﮨﮯ، ﺍﺱ ﮐﯽ ﺗﻔﺼﯿﻞ ﺁﮔﮯ ﺁﺋﮯ ﮔﯽ)، ﻟﯿﮑﻦ ﻟﺴﺎﻧﯽ ﻣﺠﺘﮩﺪﯾﻦ ﻓﺘﻮﯼٰ ﺟﺎﺭﯼ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﯾﮧ ﭼﻮﻧﮑﮧ ﺍﺻﻞ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﺍﻟﻔﺎﻅ ﮨﻨﺪﯼ ﮐﮯ ﮨﯿﮟ، ﺍﻭﺭ ﮨﻨﺪﯼ ﻣﯿﮟ ﺍنہیں ﺍﻟﻒ، ﺳﮯ ﻟﮑﮭﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ، ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﺍﺭﺩﻭ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ انہیں ﺍﻟﻒ ﺳﮯ ﻟﮑﮭﺎ ﺟﺎﺋﮯ۔

ﺍﺱ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﺩﻟﭽﺴﭗ ﻣﺜﺎﻝ ﻣﻮﻻﻧﺎ ﻋﺮﺷﯽ ﮐﮯ ﮨﺎﮞ ﻣﻠﺘﯽ ﮨﮯ ﺟﻮ ﻏﺎﻟﺐ ﮐﮯ ﺧﻄﻮﻁ ﻣﺮﺗﺐ ﮐﺮﺗﮯ ﻭﻗﺖ ﺭﻭﻧﺎ ﺭﻭﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺟﻦ ﻟﻔﻈﻮﮞ ﮐﮯ ﺁﺧﺮ ﻣﯿﮟ ﺍﻟﻒ ﺁﻧﺎ ﭼﺎﮨﯿﮯ، ﻏﺎﻟﺐ ﻭﮨﺎﮞ ﮦ ﻟﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ، ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﺍﺭﺷﺎﺩ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺟﻦ ﻟﻔﻈﻮﮞ ﮐﯽ ﺍﺻﻞ ﻓﺎﺭﺳﯽ ﯾﺎ ﻋﺮﺑﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﻣﺨﻔﯽ ﮦ ﻧﮩﯿﮟ ﺁ ﺳﮑﺘﯽ، ﺍﻟﻒ ﮨﻮﻧﺎ ﭼﺎﮨﯿﮯ۔۔

ﯾﮧ ﺍﻋﺘﺮﺍﺽ ﻧﯿﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ۔ ﻣﻐﻞ ﺷﮩﻨﺸﺎﮦ ﺟﮩﺎﻧﮕﯿﺮ ﮐﮯ ﺩﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﯾﺴﯽ ﮨﯽ ﺷﮑﺎﯾﺖ ﮐﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﻟﻮﮒ ﺑﻨﮕﺎﻟﮧ ﺟﯿﺴﮯ ﺍﻟﻔﺎﻅ ﮐﻮ ﮦ ﺳﮯ ﻟﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﻏﻠﻂ ﮨﮯ، ﺍﻭﺭ ﺟﮩﺎﻧﮕﯿﺮ ﻧﮯ ﺍﺱ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﻓﺮﻣﺎﻥ ﺑﮭﯽ ﺟﺎﺭﯼ ﮐﯿﺎ ﺗﮭﺎ، ﻟﯿﮑﻦ ﻇﺎﮨﺮ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﺱ ﭘﺮ ﮐﺴﯽ ﻧﮯ ﮐﺎﻥ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﮬﺮﺍ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺍﻟﻔﺎﻅ ﺻﺪﯼ ﮨﺎ ﺻﺪﯼ ﺳﮯ ﺑﺪﺳﺘﻮﺭ ﮨﺎﺋﮯ ﻣﺨﺘﻔﯽ ﺳﮯ ﻟﮑﮭﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﺭﮨﮯ۔

ﺍﻟﻒ ﺍﻭﺭ ﮦ ﮐﺎ ﺍﺻﻮﻝ ﻭﺿﻊ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺍﯾﮏ ﺑﻨﯿﺎﺩﯼ ﺍﺻﻮﻝ ﺑﮭﻮﻝ ﮔﺌﮯ ﮐﮧ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﯽ ﮨﺮ ﺯﻧﺪﮦ ﺯﺑﺎﻥ ﺭﻭﺍﯾﺖ، ﭼﻠﻦ ﺍﻭﺭ ﺭﻭﺍﺝ ﭘﺮ ﭼﻼ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﮯ، ﻧﮧ ﮐﮧ ﭼﻨﺪ ﺍﻓﺮﺍﺩ ﮐﮯ ﺍﯾﮏ ﮐﻤﺮﮮ ﻣﯿﮟ بیٹھ ﮐﺮ ﺍﺣﮑﺎﻣﺎﺕ ﺻﺎﺩﺭ ﮐﺮﻧﮯ ﺳﮯ۔

ﺳﻮﺍﻝ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺟﻮ ﻟﻔﻆ ﺍﺭﺩﻭ ﻣﯿﮟ ﺻﺪﯾﻮﮞ ﺳﮯ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮨﻮﺗﺎ ﭼﻼ ﺁﯾﺎ ﮨﮯ، ﺍﺳﮯ ﮨﻢ ﺍﺏ ﺗﮏ ﺍﭼﮭﻮﺕ ﺍﻭﺭ ﻏﯿﺮ ﮐﯿﻮﮞ ﺳﻤﺠﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ؟ ﮨﻢ ﯾﮧ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮩﺘﮯ ﮐﮧ ﯾﮧ ﻟﻔﻆ ﺍﺏ ﺍﺭﺩﻭ ﮐﺎ ﺣﺼﮧ ﺑﻦ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﮨﻢ ﺍﺳﮯ ﺍﯾﺴﮯ ﮨﯽ ﻟﮑﮭﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺑﻮﻟﯿﮟ ﮔﮯ ﺟﯿﺴﮯ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﮨﺎﮞ ﻣﺴﺘﻌﻤﻞ ﮨﮯ؟

***

ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺯﺑﺎﻧﯿﮟ ﺍﺱ ﺿﻤﻦ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﺴﮯ ﮐﺎﻡ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﯿﮟ، ﺍﺱ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﻣﺜﺎﻝ ﺩﯾﮑﮭﯿﮯ: اردو ﮐﺎ ﻟﻔﻆ ﮨﮯ کھاٹ۔ ﺍﺳﮯ ﺍﻧﮕﺮﯾﺰﻭﮞ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﺎﯾﺎ ﺗﻮ ﺳﮩﯽ، ﻟﯿﮑﻦ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﻧﺪﺍﺯ ﻣﯿﮟ، ﺍﻭﺭ cot (کوٹ) ﺑﻮﻟﻨﮯ ﻟﮕﮯ۔

ﺍﺏ ﮨﻢ ﮐﺴﯽ ﺍﻧﮕﺮﯾﺰ ﺳﮯ ﺟﺎ ﮐﺮ ﮐﮩﯿﮟ ﮐﮧ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﺻﺎﺣﺐ، ﯾﮧ ﻟﻔﻆ ﺍﺻﻞ ﻣﯿﮟ کھاٹ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺁﭖ ﺍﺳﮯ ﻏﻠﻂ ﺑﻮﻝ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ، ﺗﻮ ﻭﮦ ﮐﯿﺎ ﮐﮩﮯ ﮔﺎ؟

ﯾﮩﯽ ﻧﺎ ﮐﮧ مسٹر، ﺑﮭﻠﮯ ﯾﮧ ﻟﻔﻆ ﺟﮩﺎﮞ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﺁﯾﺎ ﮨﻮ، ﺍﺏ ﯾﮧ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺯﺑﺎﻥ ﮐﺎ ﺣﺼﮧ ﺑﻦ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﺻﺮﻑ ﮨﻤﯽ ﮐﺮﯾﮟ ﮔﮯ ﮐﮧ ﺍﺳﮯ ﮐﯿﺴﮯ ﺑﻮﻻ ﯾﺎ ﻟﮑﮭﺎ ﺟﺎﺋﮯ، ﺁﭖ ﮐﻮﻥ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ہماری زبان میں ٹانگ اڑانے والے؟

یہی نہیں، انگریزی نے اردو سے درجنوں لفظ لے کر انہیں انگریزیا، لیا ہے۔ مثلاً ﺷﯿﻤﭙﻮ / ﭼﻤﭙﯽ (shampoo) ﺑﻨﮕﻠﻮ / ﺑﻨﮕﻠﮧ (bungalow) ﺍﯾﻮﺍﭨﺎﺭ / ﺍﻭﺗﺎﺭ (avatar) ﮐﺎﮐﯽ / ﺧﺎﮐﯽ (khaki پجیماز/پاجامہ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﮐﺌﯽ ﺍﻟﻔﺎﻅ ﮐﯽ ﻣﺜﺎﻝ ﺩﯼ ﺟﺎ ﺳﮑﺘﯽ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺍﺭﺩﻭ ﺳﮯ ﺍﻧﮕﺮﯾﺰﯼ ﻣﯿﮟ ﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﮕﺮﯾﺰﻭﮞ ﻧﮯ انہیں ﺍﭘﻨﮯ ﻃﺮﯾﻘﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﯽ ﺷﺮﺍﺋﻂ ﭘﺮ ﺍﭘﻨﺎ ﻟﯿﺎ۔

***

ﺍﺏ ﺁ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﮨﻨﺪﯼ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ۔ ﻣﻀﻤﻮﻥ ﮐﯽ ﺍﺑﺘﺪﺍ ﻣﯿﮟ ﮔﻨﻮﺍﺋﮯ ﮔﺌﮯ ﺍﻟﻔﺎﻅ ﮨﻨﺪﯼ ﻣﯿﮟ ﻭﺍﻗﻌﯽ ﺍﻟﻒ ﮐﮯ ﻗﺎﺋﻢ ﻣﻘﺎﻡ ﺣﺮﻑ ﺳﮯ ﻟﮑﮭﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ، ﻧﮧ ﮐﮧ ﮦ ﮐﮯ ﻗﺎﺋﻢ ﻣﻘﺎﻡ ﺣﺮﻑ ﺳﮯ۔ ﻟﯿﮑﻦ ﻣﺴﺌﻠﮧ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﮨﻨﺪﯼ ﻣﯿﮟ ﺻﺮﻑ ﺍﯾﮏ ﮦ ﮨﮯ، ﺟﺐ ﮐﮧ ﺍﺭﺩﻭ ﻣﯿﮟ ﺩﻭ ﻣﺨﺘﻠﻒ ﻗﺴﻤﻮﮞ ﮐﯽ ﮦ ﭘﺎﺋﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﯿﮟ۔

ﮨﺎﺋﮯ ﻣﻠﻔﻮﻇﯽ

ﻭﮦ ﮦ ﺟﻮ ﺑﻮﻟﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﮦ ﮐﯽ ﺁﻭﺍﺯ ﺩﯾﺘﯽ ﮨﮯ، ﺟﯿﺴﮯ ﺭﺍﮦ، ﺷﺒﯿﮧ، ﮔﻮﺍﮦ، ﭘﻨﺎﮦ، ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﮐﮯ ﺁﺧﺮ ﻣﯿﮟ۔ ﯾﮧ ﻟﻔﻆ ﮐﮯ ﺷﺮﻭﻉ (ﮨﺰﺍﺭ، ہمیشہ) ﯾﺎ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ (ﺍﻟﮩﺎﻡ، سہولت) ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺁﺘﯽ ﮨﮯ۔

ﮨﺎﺋﮯ ﻣﺨﺘﻔﯽ

ﺍﺱ ﮐﮯ ﻣﻘﺎﺑﻠﮯ ﭘﺮ ﮨﺎﺋﮯ ﻣﺨﺘﻔﯽ اور ﭼﯿﺰ ﮨﮯ ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﮦ ﮐﯽ ﺁﻭﺍﺯ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻠﮑﮧ ﺁﺩﮬﮯ ﺍﻟﻒ ﯾﺎ ﺯﺑﺮ ﮐﯽ ﺁﻭﺍﺯ ﻧﮑﻠﺘﯽ ﮨﮯ۔ ﯾﮧ ﺻﺮﻑ ﻟﻔﻆ ﮐﮯ ﺁﺧﺮ ﻣﯿﮟ ﺁ ﺳﮑﺘﯽ ﮨﮯ۔ ﯾﮩﯽ ﮦ ﺟﺎﻣﮧ، ﻓﺎﺧﺘﮧ، ﺁﺋﯿﻨﮧ، ﭘﯿﻤﺎﻧﮧ ﺟﯿﺴﮯ ﻓﺎﺭﺳﯽ ﺍﻟﻔﺎﻅ ﻣﯿﮟ ﺁﺗﯽ ﮨﮯ، ﺍﻭﺭ ﯾﮩﯽ ﺣﺮﻑ ﭘﯿﺴﮧ، ﺗﮭﺎﻧﮧ، ﻣﮩﯿﻨﮧ ﺍﻭﺭ ﭘﺘﮧ ﺟﯿﺴﮯ ﺍﻟﻔﺎﻅ ﮐﮯ ﺁﺧﺮ ﻣﯿﮟ ﻟﮑﮭﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ۔ ﺍﺳﮯ ﮨﺎﺋﮯ ﻣﻠﻔﻮﻇﯽ ﺳﮯ ﺧﻠﻂ ﻣﻠﻂ ﮐﺮﻧﺎ ﻧﺎﻭﺍﻗﻔﯽ ﮐﯽ ﺩﻟﯿﻞ ﮨﮯ۔

جن لوگوں کو حیرت ہو کہ ایک حرف دو آوازیں کیسے دے سکتا ہے، وہ ذرا انگریزی S کا تصور کر لیں جو simple میں س کی آواز دے رہا ہے، sugar میں ش کی، division میں ژ کی۔

***

ﻣﺴﺌﻠﮧ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﮐﯿﺎ ﮨﻤﯿﮟ ﺍﺭﺩﻭ ﻟﮑﮭﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺭﻭﺍﯾﺖ ﮐﻮ ﻧﻈﺮﺍﻧﺪﺍﺯ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺯﺑﺎﻧﻮﮞ ﮐﯽ ﻟﻐﺎﺕ ﭼﮭﺎﻧﻨﺎ ﭘﮍﯾﮟ ﮔﯽ ﮐﮧ انہیں ﻭﮨﺎﮞ ﮐﯿﺴﮯ ﻟﮑﮭﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ؟ ﺍﮔﺮ ﺍﺳﯽ ﺍﺻﻮﻝ ﭘﺮ ﺍﺻﺮﺍﺭ ﮨﮯ ﺗﻮ ﭘﮭﺮ:

ﮨﻨﺪﯼ ﮐﮯ ﺍﻟﻔﺎﻅ ﭘﺘﯽ (ﺑﻤﻌﻨﯽ ﺷﻮﮨﺮ)، ﺷﮑﺘﯽ، ﻣﮑﺘﯽ، ﺑﮭﮑﺘﯽ، شانتی ﻭﻏﯿﺮﮦ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﺍﺭﺷﺎﺩ ﮨﮯ ﮐﮧ ﯾﮧ ﺍﻟﻔﺎﻅ دیوناگری رسم الخط ﻣﯿﮟ ﯼ ﮐﮯ ﻗﺎﺋﻢ ﻣﻘﺎﻡ ﺣﺮﻑ ﭘﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻠﮑﮧ ﺯﯾﺮ، کی ماترا ﭘﺮ ﺧﺘﻢ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ؟ ﮨﻨﺪﯼ ﮐﮯ ﺍﺻﻮﻟﻮﮞ ﮐﯽ ﭘﯿﺮﻭﯼ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﻓﺎﺭﻣﻮﻟﮯ ﭘﺮ ﻋﻤﻞ ﮐﺮ ﮐﮯ ﮨﻤﯿﮟ ﺍﻥ ﺍﻟﻔﺎﻅ ﮐﻮ ﻋﻠﯽ ﺍﻟﺘﺮﺗﯿﺐ، ﺷﮑﺖِ، ﻣﮑﺖِ، ﺑﮭﮑﺖِ، شانتِ ﻟﮑﮭﻨﺎ ﭘﮍﮮ ﮔﺎ۔

ﺍﺭﺩﻭ ﻣﯿﮟ گرو، ﺳﺎﺩﮬﻮ، ﭘﺮﺑﮭﻮ، ﻣﺪﮬﻮ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﮐﯿﺴﮯ ﻟﮑﮭﮯ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ ﮐﯿﻮﮞ ﮐﮧ ﯾﮧ دیوناگری ﻣﯿﮟ اُﻭ ﭘﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻠﮑﮧ ﭘﯿﺶ کی ماترا ﭘﺮ ﺧﺘﻢ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ؟ ﺗﻮ ﮐﯿﺎ انہیں گرُ، ﺳﺎﺩﮪُ، ﭘﺮبھُ، ﻣﺪﮪُ ﻟﮑﮭﺎ ﺟﺎﺋﮯ؟

ﭘﺎؤﮞ، ﮔﺎؤﮞ، ﭼﮭﺎؤﮞ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﺍﺭﺷﺎﺩ ﮨﮯ، ﮨﻨﺪﯼ ﻭﺍﻟﮯ ﺗﻮ انہیں ﻋﻠﯽ ﺍﻟﺘﺮﺗﯿﺐ ﭘﺎﻧﻮ، ﮔﺎﻧﻮ، ﭼﮭﺎﻧﻮ ﻟﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ؟ خود غالب نے پانو لکھا ہے اور یہ غزل (دھوتا ہو جب میں پینے کو اس سیم تن کے پانو) ان کے دیوان میں واو کی پٹی میں موجود ہے۔

ہندی میں بہت سے الفاظ نڑ یعنی ण پر ختم ہوتے ہیں، جنہیں اردو میں ہوبہو نہیں لکھا جاتا۔ مثلاً جو اردو میں جو کرن ہے، وہ ہندی میں کرنڑ ہے، گُن گنڑ ہے، اسی طرح تکون کو وہ تکونڑ لکھتے ہیں اور ہرن کو ہرنڑ۔ برہمن وہاں براہمنڑ ہے، سانپ کا پھن پھنڑ ہے اور بھاشن بھاشنڑ۔ اسی طرح پران پرانڑ ہے، رامائن نہیں، رامائنڑ، چرن نہیں، چرنڑ۔

ایک اور گمبھیر گھٹالہ کرشن اور کشٹ جیسے شبدوں کا ہے۔ ان میں جو شین ہندی والے لکھتے ہیں وہ پیٹ والا شین، (retroflex sh) کہلاتا ہے اور اسے ष لکھا جاتا ہے۔ اسے لکھنے کے لیے اردو والوں کو ایک نیا حرف ایجاد کرنے کا کشٹ اٹھانا پڑے گا کیوں کہ یہ ریگولر والے ش (श) سے تو ادا ہونے والا نہیں۔ یہ حرف کن لفظوں میں آتا ہے؟ کشٹ اسی ष سے لکھا جاتا ہے، دوش میں یہی دوسرے والا ش ہے، یعنی معاملہ بھاشا کا ہے، جب کہ کرشن میں بھی یہی ش آتا ہے۔ بلکہ کرشن تو ہے ہی نہیں، وہ تو کرشنڑ ہے۔

کوئی مجھے بتائے کہ اس اصول کا پیروکار ہندی لفظ وشیش، विशेष اردو میں کیسے لکھے گا؟ اس میں پہلا ش عام والا اور دوسرا پیٹ والا ہے؟

کہا جاتا ہے کہ ہندی الفاظ کو ان کی اصل، صورت میں لکھنے سے یہ پتہ چلانے میں آسانی ہوتی ہے کہ لفظ کہاں سے آیا ہے۔ مگر اس سہولت کی بولتی صرف الف پر ختم ہونے والے الفاظ پر کیوں بند ہوگئی، باقی ہندی لفظوں نے کیا قصور کیا ہے کہ ان کو تحریف کرکے لکھا جائے؟

***

ﻋﺮﺑﯽ ﻣﯿﮟ ﻣﻮﻟﯽٰ، ﮨﯿﻮﻟﯽٰ، ﻣﺼﻔﯽٰ ﺍﻟﻒ ﻣﻘﺼﻮﺭﮦ ﺳﮯ ﻟﮑﮭﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ، ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺭﺩﻭ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺁﺳﺎﻧﯽ ﮐﯽ ﺧﺎﻃﺮ انہیں ﻣﻮﻻ، ﮨﯿﻮﻻ، ﻣﺼﻔﺎ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﮨﮯ۔ ﮐﯿﺎ ﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﻏﻠﻂ ﮨﯿﮟ؟ ﭘﮭﺮ ﻋﻠﯿﺤﺪﮦ، ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﺍﺭﺷﺎﺩ ﮨﮯ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﻋﺮﺑﯽ ﻣﯿﮟ ﺗﻮ عَلَىٰ حِدَةٍ ﮨﮯ؟ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﻋﻠﯿﺤﺪﮔﯽ، ﮐﯿﺴﮯ ﺩﺭﺳﺖ ﮨﻮ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ، ﻋﺮﺑﯽ ﻣﯿﮟ ﺗﻮ ﮒ ﮨﮯ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ؟

ﺍﺻﻼﺡِ ﺍﻣﻼ ﮐﮯ ﺩﺍﻋﯽ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺟﮕﮩﻮﮞ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﺑﺪﺳﺘﻮﺭ ﮨﺎﺋﮯ ﻣﺨﺘﻔﯽ ﺳﮯ ﻟﮑﮭﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﺭﮨﯿﮟ، ﻣﺜﻼً ﮐﻠﮑﺘﮧ، ﺁﮔﺮﮦ، ﮐﻮﺋﭩﮧ، ﭘﭩﻨﮧ، ﻣﺎﻧﺴﮩﺮﮦ، ﻭﻏﯿﺮﮦ۔ ﮐﯿﻮﮞ؟ ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﮐﮧ ﯾﮧ ﺍﻟﻔﺎﻅ ﻭﯾﺴﮯ ﮨﯽ ﺭﻭﺍﺝ ﭘﺎ ﮔﺌﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺍﮔﺮ ﯾﮩﯽ ﺍﺻﻮﻝ ﮨﮯ ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﭘﯿﺴﮧ، ﺭﻭﭘﯿﮧ، ﭘﺴﯿﻨﮧ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﺟﯿﺴﮯ ﺍﻟﻔﺎﻅ ﺑﮭﯽ ﺗﻮ ﺻﺪﯾﻮﮞ ﺳﮯ ﺍﯾﺴﮯ ﮨﯽ ﻣﺮﻭﺝ ﮨﯿﮟ، انہیں ﺑﺪﮨﯿﺖ ﺑﻨﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﮐﯿﺎ ﺗﮏ ﺑﻨﺘﯽ ﮨﮯ؟

ﺍﮔﺮ ﺍﺻﻞ ﺯﺑﺎﻥ ﮐﯽ ﭘﯿﺮﻭﯼ ﮐﺮﻧﺎ ﮨﯽ ﻻﺯﻣﯽ ﭨﮭﮩﺮﺍ ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﺍﻟﻔﺎﻅ ﮐﮯ ﻣﻌﺎﻧﯽ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﺧﯿﺎﻝ ﮨﮯ؟ ﻋﺮﺑﯽ ﻣﯿﮟ ﺗﺤﻤﻞ ﮐﺎ ﻣﻄﻠﺐ ﺑﻮجھ ﺍﭨﮭﺎﻧﺎ، ﻏﺮﯾﺐ ﮐﺎ ﻣﻄﻠﺐ ﭘﺮﺩﯾﺴﯽ، ﺍﺣﺘﺠﺎﺝ ﮐﺎ ﻣﻄﻠﺐ ﺩﻟﯿﻞ ﭘﯿﺶ ﮐﺮﻧﺎ، سلوک کا مطلب راستے پر چلنا، ﺭﻗﻌﮧ ﮐﺎ ﻣﻄﻠﺐ ﭘﯿﻮﻧﺪ، باعث کا مطلب اٹھانے والا، حریف کا مطلب ہم پیشہ ﮨﮯ۔ ﺗﻮ ﮐﯿﺎ ﺍﺭﺩﻭ ﻣﯿﮟ ﺍﻥ ﺍﻟﻔﺎﻅ ﮐﮯ ﻣﻌﺎﻧﯽ ﺑﮭﯽ ﺑﺪﻝ ﺩﯾﮯ ﺟﺎﺋﯿﮟ؟

ﺁﭖ ﻧﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﮧ ﺍﭘﻨﯽ ﺯﺑﺎﻥ ﮐﮯ ﺍﺻﻮﻝ ﻭﺿﻊ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺯﺑﺎﻧﻮﮞ ﺳﮯ ﺭﺟﻮﻉ ﮐﯿﺎ ﺗﻮ ﺑﺎﺕ ﺑﮩﺖ ﺩﻭﺭ ﺗﮏ ﭼﻠﯽ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﺎ ﻧﺘﯿﺠﮧ ﺧﻮﺩ ﺍﭘﻨﯽ ﺯﺑﺎﻥ ﮐﺎ ﺣﻠﯿﮧ ﺧﺮﺍﺏ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﻋﻼﻭﮦ کچھ ﻧﮩﯿﮟ ﻧﮑﻠﮯ ﮔﺎ۔

***

ﺍﯾﮏ ﺍﻭﺭ ﻧﮑﺘﮧ ﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﭘﮍﮬﺘﮯ ﻭﻗﺖ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﺣﺮﻭﻑ ﮐﮯ ﮨﺠﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﯿﮟ ﺑﻠﮑﮧ ﭘﻮﺭﺍ ﻟﻔﻆ ﺍﮐﭩﮭﺎ ﺩﯾﮑﮭﺘﯽ ﮨﯿﮟ، نہ کہ حرف بہ حرف۔ ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﺁﭖ ﻧﮯ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮐﯿﺎ ﮨﻮ ﮔﺎ ﮐﮧ ﻟﻔﻆ ﻏﺼّﮧ، ﭘﮍﮬﺘﮯ ﻭﻗﺖ ﺫﮨﻦ ﮐﮯ ﭘﺮﺩﮮ ﭘﺮ ﻏﺼﮯ ﮐﯽ ﺗﺼﻮﯾﺮ ﺑﻦ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ۔ ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﻟﺬﯾﺬ، ﺑﮭﯿﺎﻧﮏ، ﺧﻄﺮﻧﺎﮎ، اچانک، عجیب، ﺟﯿﺴﮯ ﺍﻟﻔﺎﻅ ﭘﻮﺭﯼ ﺗﺼﻮﯾﺮ ﺑﻨﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﯾﮩﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﺍﻟﻔﺎﻅ ﮐﯽ ﮨﮯ۔

ﺍﯾﺴﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﮔﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﻣﮩﻢ ﺟﻮ ﺍﻓﺮﯾﻘﺎ، ﭨﮭﯿﮑﺎ، ﯾﺎ ﺗﮭﺎﻧﺎ ﻟﮑﮭﺘﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﻋﺠﯿﺐ ﺳﯽ ﺟﮭﻨﺠﮭﻼﮨﭧ ﮐﺎ ﺍﺣﺴﺎﺱ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﺴﺎ ﻟﮕﺘﺎ ﮨﮯ ﺟﯿﺴﮯ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﮐﮭﺎﺗﮯ ﻭﻗﺖ ﯾﮑﻠﺨﺖ ﺩﺍﻧﺘﻮﮞ ﺗﻠﮯ ﮐﻨﮑﺮ ﺁ ﺟﺎﺋﮯ۔

***

کبھی اردو ایک باوقار زبان تھی اور اپنی شرائط پر دوسری زبانوں سے الفاظ قبول کرتی تھی۔ مثلاً انگریز لینٹرن لے کر آئے اور ہماری زبانوں پر چڑھا نہیں تو ہم نے رگڑ کر لالٹین کر لیا۔ سینٹینل کی ضرورت پڑی تو اسے کاٹ چھانٹ کر سنتری بنا دیا۔ باٹل آیا تو اسے بوتل کر دیا۔ ہاسپیٹل کو ہسپتال کر دیا، کیٹل بولنا کٹھن لگا تو اسے کیتلی کر دیا۔ ڈرائرز بہت کڈھب تھا، اسے دراز کر دیا۔ اسی طرح سے ڈزن کو درجن، کیپٹن کو کپتان، جینرل کو جرنیل، ریکروٹ کو رنگروٹ، آرڈرلی کو اردلی، کمانڈ کو کمان، پلاسٹر کو پلستر، پینٹالون کو پتلون بنا دیا۔

پرتگالی سے لفظ لیے تو انہیں اپنے حساب سے اپنی زبان کا رندہ لگا کر انہیں بھی اپنے صوتی تقاضوں کے مطابق ملائم کر ڈالا۔ پرتگالی آرماریو لے کر آئے جو زبانوں پر نہیں چڑھا تو الماری بنا دیا۔ پرتگالی کا چاوے ہم نے گھِسا کر چابی کر دیا۔ لیلام وہاں سے لیا ضرور، مگر اسے نیلام کر دیا (پنجابی میں آج تک وہی لیلام ہے) لیکن جلد ہی اردو کی یہ خوداعتمادی ہوا ہوگئی اور یاروں نے اردو کے ہاتھ میں کشکول پکڑا کر اسے دوسری زبانوں کے آگے جھکنے پر مجبور کر دیا۔

عجب نہیں کہ کل کو یہی لوگ یہی لسانی لٹھ لے کر لالٹین کے شیشے بھی توڑ ڈالیں کہ انگریزی (بلکہ انگریزی کیوں، انگلش کہیے) میں لینٹرن ہوتا ہے!

ذہنی غلامی کی مثال لفظ بنگلہ، ہے، جو اردو سے انگریزی میں گیا مگر انگریزوں نے اپنی صوتیات کے مطابق اسے بنگلو کر دیا۔ اب ہمارے لسانی مفلس اردو میں بھی منھ ٹیڑھا کر بنگلو کہتے ہیں تاکہ بنگلہ بول کر پینڈو، نہ سمجھے جائیں۔

وقت آ گیا ہے ﮨﻤﯿﮟ ﺍﺭﺩﻭ ﮐﻮ ﺍﯾﮏ ﺧﻮﺩﻣﺨﺘﺎﺭ اوﺭ ﻣﺴﺘﻘﻞ ﺑﺎﻟﺬﺍﺕ ﺯﺑﺎﻥ ﺗﺴﻠﯿﻢ ﮐﺮ ﻟﯿﻨﺎ ﭼﺎﮨﯿﮯ ﺍﻭﺭ ﺟﻮ ﻟﻔﻆ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺯﺑﺎﻧﻮﮞ ﺳﮯ ﺁ ﮐﺮ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺣﺼﮧ ﺑﻦ ﮔﺌﮯ ﮨﯿﮟ انہیں ﺍﺭﺩﻭ ﮐﺎ ﻟﻔﻆ ﮨﯽ ﻣﺎﻥ ﻟﯿﻨﺎ ﭼﺎﮨﯿﮯ۔ ﺑﺎﻟﮑﻞ ﺍﯾﺴﮯ ﮨﯽ ﺟﯿﺴﮯ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﯽ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺑﮍﯼ ﺯﺑﺎﻧﯿﮟ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﯿﮟ۔ ﻭﺭﻧﮧ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺳﺎتھ ﻭﮦ ﻣﻌﺎﻣﻠﮧ ﮨﻮ ﮔﺎ ﮐﮧ

ﺍﯾﮏ ﮨﻢ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﻟﯿﺎ ﺍﭘﻨﯽ ﮨﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﮐﻮ ﺑﮕﺎﮌ
ﺍﯾﮏ ﻭﮦ ﮨﯿﮟ جنہیں ﺗﺼﻮﯾﺮ ﺑﻨﺎ ﺁﺗﯽ ﮨﮯ

نوٹ: اردو املا پر 12 سال پرانا مضمون، کچھ جھاڑ پونچھ کے ساتھ

Check Also

Kitab Tehzebon Ki Maa: Alf Laila Se Uran Qaleen Tak (9)

By Asif Masood