Sunday, 19 April 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Muhammad Umar Shahzad
  4. Macron Ka Bosa

Macron Ka Bosa

میکرون کا بوسہ

پیرس کی فضا میں ہلکی سی بہار گھلی ہوئی تھی۔ فرانس کے صدارتی محل Élysée Palace کی سیڑھیوں پر سرخ قالین بچھا تھا اور فرانسیسی گارڈز اپنی روایتی وردیوں میں ملبوس مستعد کھڑے تھے۔ اسی لمحے فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون دروازے سے باہر آئے سفید کرکرا شرٹ، سیاہ ٹائی اور گہرے نیوی بلیو سوٹ میں ملبوس۔ چند لمحوں بعد سیڑھیوں پر ایک اور منظر ابھرا، اٹلی کی وزیراعظم جورجیا میلونی اطالوی سرخ پینٹ سوٹ، سفید شرٹ میں ملبوس، جس کی چمک پیرس کی روشنی میں اور نمایاں ہو رہی تھی۔ یہ لباس صرف فیشن نہیں تھا بلکہ ایک علامت تھا اعتماد، طاقت اور سیاسی شناخت کی۔

میلونی قدم بہ قدم سیڑھیاں چڑھ رہی تھیں اور میکرون ان کے استقبال کے لیے آگے بڑھے۔ پھر وہ لمحہ آیا جس نے سوشل میڈیا کو فوری طور پر متحرک کر دیا۔ میکرون نے روایتی فرانسیسی انداز میں میلونی کے دونوں گالوں پر بوسہ دیا۔ ایک لمحے کے لیے میلونی کے چہرے پر ہلکی سی حیرت ابھری، آنکھوں میں سوال، چہرے پر معمولی جھجک، لیکن اگلے ہی لمحے وہ مسکرا دیں۔ یہی مختصر سا لمحہ عالمی میڈیا کی شہ سرخی بن گیا۔

یورپ میں اس قسم کی گرمجوشی کو "لا بیز" کہا جاتا ہے، جو ایک سماجی روایت ہے۔ فرانس، اٹلی اور اسپین جیسے ممالک میں یہ معمول کا حصہ ہے، جہاں گالوں پر بوسہ احترام اور دوستانہ تعلق کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ لیکن جب یہی روایت سفارتی پروٹوکول میں داخل ہوتی ہے تو اس کے معنی زیادہ پیچیدہ ہو جاتے ہیں۔

تاریخ میں ایسے بے شمار مواقع ملتے ہیں جہاں مرد حکمرانوں اور خواتین رہنماؤں کے درمیان یا عمومی طور پر عالمی رہنماؤں کے درمیان جسمانی زبان نے سفارت کاری میں اہم کردار ادا کیا۔ مثال کے طور پر 2025ء میں مصر میں ہونے والے ایک امن اجلاس کے دوران جارجیا میلونی کی ملاقات ترک صدر رجب طیب اردوان سے ہوئی تو میلونی سے مصافحہ کرتے وقت اردوان نے کہا "آپ بہت اچھی لگ رہی ہیں لیکن میں چاہتا ہوں کہ آپ سگریٹ چھوڑ دیں کیونکہ میں آپ کو بچانا چاہتا ہوں"، میلونی نے مسکراتے ہوئے جواب دیا میں کوشش کر رہی ہوں۔

1978ء کے کیمپ ڈیوڈ معاہدے کے دوران امریکی صدر جمی کارٹر، مصری صدر انور سادات اور اسرائیلی وزیر اعظم میناخیم بیگن کے درمیان تاریخی مصافحے اور گرمجوش ملاقاتیں عالمی امن کی ایک بڑی علامت بنیں۔ یہ لمحہ صرف ایک سیاسی معاہدہ نہیں تھا بلکہ اعتماد اور ذاتی تعلق کی ایک مثال بھی تھا۔ اسی طرح سرد جنگ کے اختتامی دور میں امریکی صدر رونالڈ ریگن اور سوویت رہنما میخائل گورباچوف کی ملاقاتیں بھی سفارتی گرمجوشی کی مثال ہیں، جہاں سخت نظریاتی اختلافات کے باوجود مسکراہٹ اور مصافحہ نے تعلقات میں نرمی پیدا کی۔

جرمن چانسلر انجیلا مرکل اور امریکی صدر باراک اوباما کے درمیان ملاقاتیں بھی عالمی میڈیا میں بہت نمایاں رہیں۔ برلن میں ان کی ایک ملاقات میں اوباما کا مرکل کو گلے لگانا ایک علامتی لمحہ تھا جسے اعتماد اور دوستی کے طور پر دیکھا گیا۔ اس کے برعکس بعض مواقع پر رسمی فاصلے بھی نمایاں رہے۔ 2017ء میں وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور انجیلا مرکل کے درمیان ایک ملاقات کے دوران ابتدائی طور پر مصافحہ نہ ہونے کا لمحہ بھی عالمی میڈیا کی توجہ کا مرکز بنا، جسے سفارتی کشیدگی کے اشارے کے طور پر دیکھا گیا۔ روسی صدر ولادیمیر پوتن کی ملاقاتیں بھی اکثر باڈی لینگویج کے حوالے سے زیر بحث رہتی ہیں۔

2007ء میں جرمنی کی رہنما انجیلا مرکل کے ساتھ ایک ملاقات میں روسی صدر ولادیمیر پوتن کے کتے کی موجودگی نے بھی توجہ حاصل کی، کیونکہ مرکل کو کتوں سے خوف تھا۔ یہ لمحہ بھی عالمی میڈیا میں علامتی طور پر زیر بحث آیا، جو طاقت اور نفسیاتی برتری کے تناظر میں دیکھا گیا۔ ایک اور اہم مثال امریکی صدر جارج بش اور مختلف عالمی رہنماؤں کے درمیان گرمجوش ملاقاتوں کی ہے، جہاں بعض اوقات ذاتی تعلقات کو سفارتی ماحول بہتر بنانے کے لیے استعمال کیا گیا۔ جورجیا میلونی خود بھی ایک مضبوط سیاسی شخصیت ہیں اور اٹلی کی قوم پرستانہ سیاست کی نمائندہ ہیں۔ ان کا ردعمل اس بات کی یاد دہانی ہے کہ عالمی رہنما بھی آخرکار انسان ہوتے ہیں اور ہر ثقافتی روایت ہر فرد کے لیے یکساں نہیں ہوتی۔ یہی وہ مقام ہے جہاں سفارت کاری محض معاہدوں اور دستاویزات سے آگے بڑھ جاتی ہے۔ ایک مصافحہ، ایک مسکراہٹ یا ایک بوسہ بعض اوقات اعتماد کی وہ بنیاد رکھ دیتا ہے جو بعد میں بڑے فیصلوں کی صورت میں سامنے آتی ہے۔

ایمانوئل میکرون کا انداز اکثر اس بات کی علامت سمجھا جاتا ہے کہ وہ یورپی سفارت کاری میں غیر رسمی مگر مؤثر روابط پر یقین رکھتے ہیں۔ ان کی گرمجوشی بعض اوقات میڈیا میں بحث کا باعث بنتی ہے، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ یورپی سیاست میں اس طرح کی جسمانی زبان کو عام طور پر مثبت سمجھا جاتا ہے۔ یہ سوال اہم ہے کہ کیا ایسی گرمجوشی واقعی سفارتی تعلقات کو مضبوط کرتی ہے؟ اس کا جواب جزوی طور پر ہاں میں ہے۔ یہ تعلقات کو نرم کرتی ہے، بات چیت کو آسان بناتی ہے اور اعتماد کی فضا پیدا کرتی ہے، لیکن اصل طاقت ہمیشہ پالیسی، مفادات اور عملی فیصلوں میں ہوتی ہے۔

پیرس کی اس صبح جب میلونی اور میکرون ملاقات کے بعد صدارتی محل سے نکلے تو جارجیا میلونی نے اپنا ہاتھ میکرون کے بازو میں ڈالا ہوا تھا، تو یہ منظر صرف ایک رسمی ملاقات نہیں تھی بلکہ دو مختلف سیاسی ثقافتوں کا ملاپ تھا۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ عالمی سیاست صرف طاقت کا کھیل نہیں بلکہ انسانی جذبات، رویوں اور اشاروں کا بھی ایک پیچیدہ مجموعہ ہے عالمی سیاست کے بڑے فیصلے ہمیشہ بڑی میزوں پر نہیں ہوتے، بعض اوقات ایک مسکراہٹ، ایک غیر رسمی بوسہ یا ایک گرمجوش مصافحہ تاریخ کے دھارے کو نئی سمت دے دیتا ہے پاکستان کے سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نہ صرف ایک طاقتور سیاسی رہنما تھے بلکہ اپنے جاندار، پُراعتماد اور غیر معمولی گرمجوش اندازِ ملاقات کے لیے بھی جانے جاتے تھے۔ وہ جب کسی عالمی رہنما خصوصاً مسلم ممالک کے حکمرانوں سے ملتے تو ان کا انداز رسمی پروٹوکول سے ہٹ کر ہوتا تھا، پُرجوش مصافحہ، دونوں ہاتھوں سے ہاتھ پکڑنا، سامنے جھک کر بات سننا اور گفتگو کے دوران آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اعتماد پیدا کرنا ان کی شخصیت کا حصہ تھا۔

لیبیا کے رہنما کرنل معمر قذافی سے ملاقاتوں میں دونوں رہنماؤں کے درمیان نظریاتی ہم آہنگی کے ساتھ ساتھ غیر رسمی اور دوستانہ ماحول بھی نمایاں رہتا تھا، جہاں بھٹو صاحب کا پُرجوش انداز قذافی کی انقلابی شخصیت سے ہم آہنگ دکھائی دیتا تھا۔ اسی طرح سعودی عرب کے شاہ فیصل کے ساتھ ان کی ملاقاتوں میں احترام کے ساتھ ساتھ ایک خاص قسم کی گرمجوش سفارتی قربت بھی محسوس کی جاتی تھی، جہاں بھٹو صاحب نہایت ادب مگر اعتماد کے ساتھ اپنے مؤقف کو پیش کرتے تھے۔ مصر کے صدر انور سادات کے ساتھ بھی ان کے تعلقات میں ہاتھ ملانے کا انداز محض رسمی نہیں بلکہ ایک سیاسی اعتماد کی علامت سمجھا جاتا تھا، جس میں بھٹو صاحب کا پُراثر انداز گفتگو اور مضبوط باڈی لینگویج عالمی سیاست میں ان کی موجودگی کو نمایاں کرتی تھی۔ یہ تمام مثالیں اس حقیقت کو واضح کرتی ہیں کہ ذاتی شخصیت اور ملاقات کا انداز بعض اوقات بین الاقوامی تعلقات میں وہ اثر پیدا کر دیتا ہے جو تحریری معاہدے بھی نہیں کر سکتے۔

Check Also

Kya Muhabbat Aur Jang Mein Sab Jaaiz Hai?

By Mohsin Khalid Mohsin