Monday, 20 April 2026
  1.  Home
  2. Rauf Klasra
  3. Ab Pakistan Kahan Se 2 Kabutar Laaye?

Ab Pakistan Kahan Se 2 Kabutar Laaye?

اب پاکستان کہاں سے دو کبوتر لائے؟

کل سے ایران کی فوجی قیادت اور یونیورسٹیز کے پروفیسر دھیرے دھیرے پاکستان کے حوالے سے سخت لہجہ اپنا رہے ہیں۔ ایرانی وزیرخارجہ کی اہمیت پاکستان دورے اور امریکن سے مزاکرات کے بعد زیادہ ہونے کی بجائے کم ہو رہی ہے۔ لہذا ان کا ہرموز کھولنے کے ٹوئٹ کو ان کی آرمی نے مسترد کرکے اسے بند کر دیا ہے اور جنگ کی تیاریاں کررہے ہیں۔

تاہم سپیکر باقر صاحب اب ان ہارڈ لائن فورسز کے لیے اہم ہورہے ہیں جو امریکہ کے ساتھ معاہدے پر تیار نہیں ہیں جس کےبارے ایرانی وزیرخارجہ کا کہنا تھا بس اسلام آباد میں ہوتے ہوتے رہ گیا تھا۔

کل ایک ایرانی یونیورسٹی کے پروفیسر کو سن رہا تھا۔ ان کا کہنا تھا ان حالات میں ایرانی وزیرخارجہ یا سپیکر پاکستان نہیں جائیں گے اور اگر وہ گئے تو اپنا سیاسی مستقبل تباہ کر بیٹھیں گے اور وہ یہ رسک نہیں لیں گے۔

ایران کو تہران واپس جا کر لگتا ہے اسلام آباد میں ہونے والے مزاکرات میں شاید وہ کچھ زیادہ ہی دینے پر تیار ہوگئے تھے لہذا انہوں نے واپس جاتے ہی اپنی پوزیشن سخت کر لی جس پر فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیرکو تہران جانا پڑا۔

جنرل عاصم منیر کی وزٹ کو ایران سمجھتا ہے امریکہ کو bail out کرنے کے لیے ہے نہ کہ ایران کا مفاد دیکھا جارہا ہے۔ ایران کے ایک دانشور کو سنا تو انہوں نے جنرل عاصم کو سیدھا امریکہ کا بندہ کہہ کرکہہ دیا کہ زرا خیال رکھیں سب بات ان کی نہ مان لیں۔

اب ایک اور ایرانی یونیورسٹی پروفیسر کو سن رہا تھا وہ کہہ رہا تھا کہ اب ہم متحدہ عرب امارت اور قطر کی سرزمین اتنی گرم کر دیں گے کہ وہاں کوئی رہنے کے قابل نہیں رہے گا۔ خیر سعودی عرب کا نام انہوں نے نہیں لیا کہ اس سے ٹکرائو بڑھ جائے گا۔ ان کا کہنا تھا آگے قطر اور امارت میں گرمی کا موسم آرہا ہے اور مزید جنگی میزائل کی وجہ سے ان دونوں ممالک کا خطہ آگ کی طرح گرم ہوگا کہ وہاں کوئی نہیں رہ سکے گا۔

امریکہ، دوبئی اور قطر کو برباد کرنے کی دھمکیاں دینے کے ساتھ ہی انہوں نے کہا ہاں اگر اس دوران پاکستان نے اپنی ٹوپی سے کوئی کبوتر نکال لیا تو پھر امن ہوسکتا ہے۔

مطلب اگر پاکستان نے ہماری شرائط پر امریکہ سے ڈیل کرا دی ورنہ طبل جنگ بج چکا ہے۔

ادھر امریکہ بھی پاکستان پر بھروسہ کیے بیٹھا ہے کہ وہ ایرانیوں کو سمجھا کر ہماری ڈیل کرائے گا جو ہوتے ہوتے رک گئی ہے۔ امریکہ بھی پاکستان سے کہہ رہا ہے کہ تم کبوتر ڈھونڈ کر اپنی ٹوپی سے نکالو۔ کوئی معجزہ دکھائو۔

شاید اس لیے تین چار ہفتے تک دنیا کا کوئی ملک ایران اور امریکہ کی صلح صفائی کے لیے درمیان میں آنے کو تیار نہیں ہو رہا تھا کہ دونوں پارٹیوں کا قومی فخر اور ملکی غرور اتنا بڑا ہے کہ کوئی تیسرا ملک ان کی انا کا بوجھ نہیں اٹھا سکتا۔

اس لیے اگر سڑک پر دو لوگوں میں لڑائی ہورہی تو لوگ انہیں چھڑانے کی بجائے موبائل کیمرہ نکال کر ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پرڈال دیتے ہیں۔ کوئی ڈوب رہا ہو تو بھی ویڈیو بناتے ہیں۔ بچانے کی کوشش نہیں کرتے کہ ہماری بلا سے۔۔

اکثر دیکھا گیا ہے کہ لڑنے والے دونوں ایک مرحلے پر تھک ہار کر لڑتے بھی جاتے ہیں اور ادھر ادھر راہگیروں کو بے بس نظروں سے دیکھتے ہیں کہ بھائی کوئی چھڑا لو۔ وہ خود لڑائی بند نہیں کریں گے کیونکہ ان کی انا انہیں لڑاتی رہتی ہے۔

وہ چاہتے ہیں کوئی تیسرا بندہ آئے اور وہ اس کے کندھوں پر ڈال دیں کہ اگر تم نہ چھڑاتے تو آج میں نے اس بندے کا حشر نشر کر دینا تھا۔ جب چھڑایا جاتا ہے تو بھی دونوں ایک دوسرے کو گھوریاں ڈال کر دھمکیاں دے رہے ہوتے ہیں لیکن اندر سے نڈھال کھڑے ہوتے ہیں اور پانی مانگ رہے ہوتے ہیں۔

اب جو چھڑاتا ہے اس پر بوجھ پڑتا ہے کہ اب ہمارا فیصلہ بھی تم کرائو۔ تم نے ہمیں چھڑایا ہی کیوں تھا اگر ہمارا فیصلہ نہیں کرنا تھا؟ یوں وہ بندہ اخلاقی دبائو کا شکار ہو کر کوشش شروع کرتا ہے کہ ان کی صلح ہو جائے۔

وہ دونوں جو سڑک پر لڑائی میں حاصل نہیں کرسکے تھے وہ اب اس چھڑانے والے سے چاہتے ہیں کہ وہ انہیں مخالف سے لے کر دے۔ ایک دوسرے کو دوبارہ لڑنے کی دھمکیاں بھی دیتے جاتے ہیں تاکہ چھڑانے والے پر دبائو بڑھایا جائے۔ لگتا ہے امریکہ اور ایران پاکستان کے ساتھ یہی کررہے ہیں کہ ہمیں چھڑایا کیوں تھا۔ اب ہماری مرضی کی ڈیل لے کر دو۔

امریکن بھی پاکستان کی طرف دیکھ رہے ہیں کہ تم نے سیز فائر کرائی تھی تو اب اپنی ٹوپی سے کبوتر نکالو اور ایرانی کہہ رہے ہیں کہ ہم نے آپ کی بات ماننی بھی نہیں ہے لیکن آپ کوئی کبوتر ٹوپی سے نکال کر مسئلہ حل کرائیں۔

امریکہ اور ایران دونوں ایک دوسرے کو بڑی بڑی دھمکیاں بھی دے رہے ہیں اور پاکستان کی طرف امید بھری نظروں سے دیکھ بھی رہے ہیں کہ یار جلدی کرو اکیس اپریل سے پہلے اپنی سفارتی ٹوپی سے کوئی کبوتر نکال کر دکھائو۔۔ ہم تو کچھ لچک نہیں دکھائیں گے۔ ہماری عزت دائو پر لگی ہوئی ہے۔۔ تم ہی کوئی معجزہ دکھائو۔۔

اب ان حالات میں پاکستان کیا معجزہ دکھا سکتا ہے جب ایک ملک خود کو دنیا کی سپر پاور سمجھتا ہے جو کسی کو بھی کسی وقت تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اسے اپنی برتری اور طاقت کا زعم ہے تو دوسرا ملک اپنی ہزاروں سال کی تاریخ کا حوالہ دے کر خود کو بہادر قوم سمجھتا ہے کہ ایک قدم پیچھے ہٹے تو دنیا میں بدنامی ہوگی۔

اب پاکستان کہاں سے دو سفید کبوتر اپنی ٹوپی سے نکال کر امریکہ اور ایران دونوں کو ایک ایک پکڑا دے کہ ان کی قومی انا اور ملکی غرور قائم و دائم رہے ورنہ سارا قصور اس کا ہے جو انہیں سڑک پر چھڑانے آیا تھا۔

About Rauf Klasra

Rauf Klasra is a Pakistani journalist and Urdu language columnist. He files stories for both the paper and television whereas his column appears in Urdu weekly Akhbr-e-Jahaan and Dunya newspaper. Rauf was earlier working with The News, International where he filed many investigative stories which made headlines.

Check Also

Koi Araha Hai

By Syed Mehdi Bukhari