Thursday, 30 April 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Rafya Tahir
  4. Baad Az Retirement

Baad Az Retirement

بعد از ریٹائرمنٹ

ارے، زرا ٹھہرئے، یہ اس مقدس ریٹائرمنٹ کی بات نہیں ہو رہی کہ جس کے کارن پورا ملک حالت سجدہ و دعا میں چلا جاتا ہے، بلکہ یہ تحریر ان لاکھوں سرکاری ملازمین (خاص طور سے اساتزہ) کی ریٹائرمنٹ کے بارے میں ہے کہ جن کے آنے اور جانے سے ملکی حالات پر چنداں کوئی اثر نہیں پڑتا اور وطن عزیز اسی چال بے ڈھنگی سے چلتا رہتا ہے۔ ہاں البتہ ریٹائر ہونے والے اساتزہ کی زندگیوں میں یہ مقام ان کی پیدائش اور شادی کے بعد سب سے اہم سمجھا جاتا ہے۔

پاکستان میں سرکاری ملازمت سے فراغت کی عمر ساٹھ سال ہے جسے عام فہم زبان میں سٹھیا جانے کی عمر بھی سمجھا جاتا ہے۔ ساری عمر مغز کھپائی کے بعد باقی لوگوں کی نسبت، اساتذہ زرا جلدی سٹھیا جاتے ہیں اور ریٹائرمنٹ کے وقت آنے والے پرسکون دنوں کے خواب جاگتی آنکھوں سے دیکھنے لگتے ہیں۔ ایسے میں وہ یہ بات نظرانداز کر دیتے ہیں کہ نوجوانوں، ہم عمروں اور ملازمتی رفیقوں کے درمیان گزرا دن کا بیشر حصہ اب انہیں ایک عدد برابر کے سٹھیاے ہوئے رفیق زندگی کے ساتھ گزارنا ہے جو یقینی طور پر ایمان والوں کے لئے کڑا امتحان ہے اور پل صراط کی آزمائش سے کم نہیں۔

جوانوں کی ایم فل کی تحقیقات کے مطابق بعد از ریٹائرمنٹ کے آنے والے کٹھن دن گزارنے کے لئیے خواتین اساتذہ کچھ بہتر تیار ہوتی ہیں کیونکہ ان کے پاس اور کچھ نہیں تو گھر داری کا فن ہوتا ہی ہے۔ البتہ مردوں کی حالت دگرگوں ہوتی ہے کیونکہ ارض پاک میں مرد گھرداری سے اپنے آپ کو اتنا ہی دور رکھتے ہیں جتنا پاکستان سے اسرائیل اور تو اور ان کو ان مشاغل کا مشورہ دینے والا بھی اسرائیلی ایجنٹ ہی تصور ہوتا ہے۔ لہٰذا زندگی کے اس نئے باب کو پڑھنے کے لئیے ان کے پاس کوئی ہنر ہی نہیں ہوتا۔

ریٹائر ہوئے اساتذہ کے لئے لہٰذا اپنے فارغ وقت کو مثبت طریقے سے گزارنا سب سے بڑا اور کڑا امتحان بن جاتا ہے۔ پاکستان کے کچھ مقدس اداروں سے ریٹائرڈ حضرات کے پاس بیچارے اساتذہ کے برعکس کلب، گالف، دوبارہ ملازمت، سیاست کی پشت پناہی جیسے بہت سے صحت مند مشاغل ہوتے ہیں۔ لیکن بیچارے اساتذہ تمام عمرصراط مستقیم کی تعلیم دیتے بشرط زندگی بعد از ریٹائرمنٹ کے کڑے وقت کے بارے میں سوچتے ہی نہیں اور امتحان کی گھڑی سر پر آ کھڑی ہوتی ہے۔

ریٹائرمنٹ کی تاریخ جیسے جیسے قریب آتی ہے پرسہ دینے والے ساتھیوں کی تعداد بڑھتی جاتی ہے جن کے لبوں پر ایک ہی دل گداز سوال ہوتا ہے کہ "آخر اب آپ کریں گے کیا"۔ دراصل وہ اپنے آنے والے وقت کے بارے میں آئیڈیاز اکھٹے کر رہے ہوتے ہیں۔

ریٹائرمنٹ کے فوری بعد اور تقریباََ ایک برس تک محکمہ تعلیم ایسے تمام اساتذہ کو تعلیم بالغاں کے ایک ایسے کورس میں جبری داخل کروا دیتا ہے جس کا مقصد تمام بعد از بالغ طلباء کو سرکاری دفاتر کے (اب تک کے) پوشیدہ اسرار و رموز سے آشنائی کروانا ہوتا ہے۔ ریٹائرڈ شدہ بیچارے ملازم سے اس کی زندگی کے سب راز اگلوائے جاتے ہیں اور ایسے ایسے کاغذی ثبوت نکلوائے جاتے ہیں جن کے بارے میں اسے خود بھی علم نہیں ہوتا۔ اسی طرح جبری تعلیم حاصل کرتے ایک سال گزر جاتا ہے اور خدا خدا کرکے گزارے لائق پینشن شروع ہوتی ہے اور آخر وہ وقت آ جاتا ہے جب وہ سوچنا شروع کرتا ہے کہ لوگ ٹھیک ہی پوچھتے تھے کہ اب آپ کریں گے کیا کیوں کہ دوران ملازمت اس نے پڑھانے کے علاوہ کچھ کیا ہی نہیں۔ ایسے تمام ساتھیوں کے لئیے کچھ آزمودہ مشورے بن مانگے حاضر ہیں۔

سو ساتھیو اس کڑے وقت میں سرکار کے دیے بقایا جات سے ایک "سمارٹ سا فون" لینا چاہئے اور UOY یعنی یونیورسٹی آف یو ٹیوب میں فوری داخلہ لے لینا چاہئے۔ اب آپ دن کے پچیس گھنٹے مصروف رہیں گے اور اس ناچیز کو دعائیں دیں گے۔

اس یونیورسٹی میں آپ کو دنیا بھر کے ویلے ایک ہی کلاس میں مل جائیں گے۔ اب آپ ان تمام لوگوں سے بدلہ لینے کے لئیے پوری طرح تیار ہیں جو آپ کو کہتے تھے کہ آخر آپ کریں گے کیا۔ اپنا ایک ٹائم ٹیبل بنائیں جو کچھ اس طرح ہو۔ صبح فجر سے لیکر دس بجے تک "صبح بخیر" کے میسج یا ریلز تمام لوگوں کوبا قاعدگی سے بھیجیں۔ دس سے لیکر گیرہ بجے تک اپنے زمانے کی موسیقی کی ریلز عوام کے منورنجن کے لئیے بھیجیں۔ گیارہ سے دو بجے تک چھوٹی بڑی تمام بیماریوں کے لئیے دیسی حکیموں کے غیر آزمودہ نسخے، دو سے پانچ تک کھانے کا وقفہ یعنی ایسی ترکیبیں جو کھانے کی نا کھلانے کی۔ پانچ سے لیکر حسب توفیق رات گئے تک آخرت کے معاملات، مرنے کے بعد کیا ہوگا(جن کے بارے میں خود آپ کو بھی نہیں علم) اور قبر کا عذاب وغیرہ تاکہ عوام کی نیند اچھی طرح اڑائی جا سکے۔ اتنی مشقت کے بعد آخر آپ بھی تھک چکے ہوں گے لہٰذا لوگوں کی نیند اڑا کر سکون سے سو جائیں۔

امید ہے کہ بعد از ریٹائرمنٹ کی زندگی کے لئے یہ مشورے مفید ثابت ہوں گے۔

About Rafya Tahir

Prof. Dr. Rafya Tahir is an educationist and independent art historian.

Check Also

Taleem, Insaf Aur Zawal Ka Sawal

By Asif Masood