عالمی نظام کا اخلاقی بحران

بین الاقوامی نظام کی روح پر ایک گہری تھکن طاری دکھائی دیتی ہے اور یہ تھکن محض ادارہ جاتی کمزوری کا نتیجہ نہیں بلکہ اخلاقی زوال کی ایک ایسی علامت ہے جو عالمی سیاست کے ہر گوشے میں سرایت کر چکی ہے۔ حالیہ دنوں میں آمنہ جے محمد کی جانب سے ادا کیے گئے الفاظ اسی اجتماعی بے حسی کی ترجمانی کرتے ہیں، جب انہوں نے دنیا کی موجودہ کیفیت کو یوں بیان کیا کہ گویا "درندوں نے زمین پر قبضہ کر لیا ہے"۔ یہ محض ایک جذباتی جملہ نہیں بلکہ ایک سفارتی شخصیت کی جانب سے اس نظام پر فردِ جرم ہے جس نے خود اپنے ہی وضع کردہ اصولوں کو غیر مؤثر بنا دیا ہے۔
نیویارک میں ہونے والے ایک اہم اجلاس، جس کا انعقاد اقوامِ متحدہ کے پلیٹ فارم پر کیا گیا، دراصل انسانی ہمدردی کے بحرانوں کا جائزہ لینے کے لیے تھا، مگر یہ اجلاس ایک آئینہ ثابت ہوا جس میں عالمی برادری کی بے بسی اور بے حسی دونوں نمایاں ہو کر سامنے آئیں۔ آمنہ جے محمد کی تقریر میں جو تلخی تھی، وہ محض الفاظ کی سختی نہیں بلکہ ان حقائق کی عکاسی تھی جو دنیا کے مختلف خطوں میں روزانہ انسانی جانوں کی صورت میں قیمت ادا کر رہے ہیں۔
آج کا عالمی منظرنامہ اس امر کی شہادت دیتا ہے کہ بین الاقوامی قوانین، جو کبھی ریاستوں کے رویوں کو منضبط کرنے کا ایک مؤثر ذریعہ سمجھے جاتے تھے، اب اپنی اصل معنویت کھو چکے ہیں۔ ان قوانین کو اب لازمی تقاضوں کے بجائے محض سفارشات یا تجاویز کے طور پر لیا جا رہا ہے اور یہی وہ بنیادی سبب ہے جس نے جنگی علاقوں کو ایک ایسی بے لگام فضا میں تبدیل کر دیا ہے جہاں طاقت ہی حق کا تعین کرتی ہے۔ جب قانون کی عملداری کمزور پڑ جائے تو پھر ظلم، جبر اور استحصال اپنی انتہاؤں کو چھونے لگتے ہیں۔
یہ صورتحال کسی ایک خطے تک محدود نہیں رہی۔ مشرق وسطیٰ سے لے کر افریقہ، یوکرین سے لے کر جنوبی ایشیا تک، دنیا کے مختلف حصوں میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں معمول بنتی جا رہی ہیں۔ شہری آبادیوں پر حملے، بنیادی سہولیات کی تباہی اور بے گھر ہونے والے لاکھوں افراد یہ سب اس عالمی نظام کی ناکامی کے واضح مظاہر ہیں جو خود کو مہذب اور منظم کہلوانا پسند کرتا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ یہ بحران کیوں پیدا ہوئے، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ ان کے سدباب کے لیے عالمی سطح پر مؤثر اقدامات کیوں نہیں کیے جا سکے۔
بین الاقوامی برادری کی بے حسی بھی اس المیے کا ایک اہم پہلو ہے۔ طاقتور ممالک اپنے مفادات کے تابع فیصلے کرتے ہیں، جبکہ کمزور ریاستیں محض تماشائی بن کر رہ جاتی ہیں۔ اس عدم توازن نے عالمی انصاف کے تصور کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ جب ایک ہی نوعیت کے جرائم کے لیے مختلف معیارات اپنائے جائیں تو انصاف کا پورا ڈھانچہ مشکوک ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج دنیا کے کئی حصوں میں لوگ عالمی اداروں پر اعتماد کھوتے جا رہے ہیں۔
آمنہ جے محمد کا یہ کہنا کہ انسانوں نے اپنی انسانیت کھو دی ہے، دراصل ایک گہرا فکری نکتہ ہے۔ یہ بیان ہمیں اس سوال کی طرف لے جاتا ہے کہ کیا واقعی ترقی یافتہ دنیا اپنی اخلاقی ذمہ داریوں کو بھول چکی ہے؟ کیا ٹیکنالوجی، معیشت اور طاقت کی دوڑ میں انسانیت کہیں پیچھے رہ گئی ہے؟ اگر ایسا ہے تو پھر یہ محض سیاسی یا سفارتی بحران نہیں بلکہ ایک تہذیبی بحران ہے، جس کے اثرات آنے والی نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔
اس تناظر میں عالمی قوانین کی ناکامی کا جائزہ لینا بھی ضروری ہے۔ بین الاقوامی عدالتِ انصاف اور دیگر عالمی ادارے بظاہر موجود ہیں، مگر ان کی عملداری کا انحصار ریاستوں کی مرضی پر ہے۔ جب طاقتور ریاستیں ان فیصلوں کو نظرانداز کر دیتی ہیں تو یہ ادارے محض علامتی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں۔ یوں قانون کی بالادستی کا تصور کمزور پڑ جاتا ہے اور ایک ایسا خلا پیدا ہوتا ہے جسے طاقت اور مفادات پر مبنی سیاست پُر کر دیتی ہے۔
یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ انسانی ہمدردی کے اصول، جنہیں عالمی سطح پر تسلیم کیا جاتا ہے، عملی طور پر اکثر نظرانداز ہو جاتے ہیں۔ امدادی اداروں کی رسائی محدود کر دی جاتی ہے، طبی سہولیات کو نشانہ بنایا جاتا ہے اور عام شہریوں کو جنگی حکمت عملی کا حصہ بنا لیا جاتا ہے۔ یہ سب کچھ اس بات کا ثبوت ہے کہ عالمی ضمیر ایک خطرناک حد تک مفلوج ہو چکا ہے۔
تاہم اس تمام تاریکی کے باوجود امید کا دامن مکمل طور پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔ تاریخ ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ بحران ہی اصلاح کا پیش خیمہ بنتے ہیں۔ اگر عالمی برادری واقعی اس صورتحال کی سنگینی کو سمجھ لے اور اپنے رویوں میں تبدیلی لائے تو ایک بہتر نظام کی تشکیل ممکن ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ بین الاقوامی قوانین کو محض کاغذی دستاویزات کے بجائے عملی قوت بنایا جائے اور ان کی خلاف ورزی کرنے والوں کو بلا امتیاز جوابدہ ٹھہرایا جائے۔
اسی طرح عالمی اداروں کی اصلاح بھی ناگزیر ہے تاکہ وہ محض نمائشی پلیٹ فارم نہ رہیں بلکہ حقیقی معنوں میں انصاف اور امن کے ضامن بن سکیں۔ طاقتور ممالک کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ وقتی مفادات کی خاطر عالمی اصولوں کو نظرانداز کرنا دراصل ایک ایسے نظام کو کمزور کرنا ہے جس پر خود ان کا انحصار ہے۔
آخرکار، یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ آج دنیا ایک نازک موڑ پر کھڑی ہے۔ اگر موجودہ روش برقرار رہی تو وہ خدشات حقیقت کا روپ دھار سکتے ہیں جن کا اظہار آمنہ جے محمد نے کیا ہے۔ لیکن اگر انسانیت نے اپنے کھوئے ہوئے اصولوں کو دوبارہ اپنانے کا عزم کر لیا تو یہی دنیا ایک بار پھر امن، انصاف اور باہمی احترام کی بنیاد پر استوار ہو سکتی ہے۔ یہی وہ چیلنج ہے اور یہی وہ موقع بھی، جس کا ادراک کرنا آج کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔

