Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Shair Khan
  4. Shikast Khurda Qaflon Ke Musafir

Shikast Khurda Qaflon Ke Musafir

شکست خوردہ قافلوں کے مسافر

گلگت بلتستان کی سیاست بھی عجیب تماشا گاہ ہے یہاں ہر چند سال بعد کچھ ایسے کردار پہاڑوں کی خاموش وادیوں میں اترتے ہیں جنہیں دیکھ کر یوں محسوس ہوتا ہے جیسے تاریخ کے شکست خوردہ سپاہی اپنی ہاری ہوئی جنگوں کے زخم چھپانے یہاں آ نکلے ہوں۔ اقتدار کے ایوانوں سے دھکے کھا کر نکلنے والے۔ درباروں سے رسوا ہو کر لوٹنے والے اور اپنے ہی شہروں میں اجنبی بن جانے والے لوگ اب یہاں آکر سیاست کا نیا سورج طلوع کرنے کے خواب دیکھتے ہیں یہ الگ بات کہ ان کے چہروں پر اقتدار کی تھکن، آنکھوں میں محرومی کی دھند اور لہجوں میں شکست کی نمی صاف محسوس ہوتی ہے۔

کوئی وفاق سے آکر کہیں کوئی ہل چلاتا دکھائی دیتا ہے کوئی گلگت بلتستان کو صوبہ بنانے کے پرانے جھوٹے وعدے کو دہرا رہا ہے کوئی بجلی کی کمی کو پورا کرنے کی یقین دہانی کر رہا ہے وہی پرانے سراب جو انکا کھیل ہے یہ ابن الوقت لوگ ہیں مطلب نکل جائے پھر پانچ سال گلگت بلتستان والوں کی سنتے ہی نہیں ہیں گھر سے نکالا ہوا شخص کہیں پتھر توڑنے کی تصویریں بنوا کر مظلومیت کی نئی داستان لکھوا رہا ہے یوں لگتا ہے جیسے سیاست اب نظریے کا نہیں بلکہ ترس کھانے کا کاروبار بن چکی ہو عوام کے جذبات کو اب روٹی کی طرح توڑا جا رہا ہے کوئی اپنی بے بسی کا نوحہ سنا رہا ہے اور کوئی اپنی رسوائی کو قربانی کا نام دے کر نئی ہمدردیاں سمیٹنے کی کوشش کر رہا ہے۔

یہ منظر دیکھ کر کسی دانشور کے کہے ہوئے جملے یاد آتے ہیں ہمارے ہاں سیاست دان اقتدار سے باہر آکر فلسفی بن جاتے ہیں جب کرسی چھن جائے تو انہیں عوام یاد آ جاتے ہیں۔ غریب کی بھوک نظر آنے لگتی ہے پہاڑوں کی محرومیاں چبھنے لگتی ہیں اور آئین کے زخموں پر اچانک درد جاگ اٹھتا ہے لیکن سوال وہی پرانا ہے کہ جب اختیار ان کے ہاتھ میں تھا تب یہ درد کہاں سویا ہوا تھا؟ تب کیوں ان کی زبانوں پر خاموشی کے تالے لگے تھے؟ تب کیوں یہ خطہ صرف نقشے کا ایک خاموش سایہ بنا رہا؟

اور پھر اس سے بڑھ کر ستم ظریفی کیا ہوگی کہ ایک طرف بیوی خصوصی پروازوں کے پروٹوکول میں زندگی گزار رہی ہو اقتدار کے ایوانوں کی ٹھنڈی راہداریوں میں مسکراتی پھر رہی ہو جبکہ دوسری طرف شوہر اپنی سیاسی شناخت کے جنازے کو کندھا دیے دربدر بھٹک رہا ہو یہ منظر کسی فلم کا نہیں ہماری سیاست کا اصل چہرہ ہے اقتدار کی محبت اکثر رشتوں سے زیادہ مضبوط ثابت ہوتی ہے یہاں وفاداریاں نظریات سے نہیں، مفادات سے جڑی ہوتی ہیں جب اقتدار سلامت رہے تو خاندان بھی ایک تصویر دکھائی دیتا ہے لیکن جیسے ہی کرسی ڈولتی ہے، تعلقات کے رنگ بھی پھیکے پڑنے لگتے ہیں۔

گلگت بلتستان کے پہاڑ بڑے خاموش ضرور ہیں مگر بے شعور نہیں یہ وادیاں سب یاد رکھتی ہیں انہیں یاد ہے کون یہاں صرف موسم بدلنے پر آیا۔ کون صرف الیکشن کے دنوں میں محبتیں بانٹتا رہا اور کون اقتدار کے بعد اس دھرتی کو بھول گیا یہاں کے لوگ اب اتنے سادہ نہیں رہے کہ ہر نئے آنے والے کو مسیحا سمجھ لیں وقت نے انہیں چہروں کے پیچھے چھپے مفادات پڑھنا سکھا دیا ہے یہ بھی عجیب بات ہے کہ کچھ لوگ اپنے شہروں میں ناقابلِ قبول ہو جانے کے بعد گلگت بلتستان کو سیاسی پناہ گاہ سمجھ لیتے ہیں۔ شاید انہیں لگتا ہے کہ پہاڑوں میں بسنے والے لوگ ہر بار ایک نیا خواب خرید لیں گے لیکن وہ بھول جاتے ہیں کہ مسلسل محرومیاں انسان کو معصوم ضرور رکھتی ہیں بے وقوف نہیں یہاں کے نوجوان اب سوال پوچھتے ہیں وہ پوچھتے ہیں کہ جو لوگ اپنے ہی سیاسی قلعے نہ بچا سکے وہ دوسروں کے مستقبل کے محافظ کیسے بن سکتے ہیں؟ جو اپنے ہی گھروں سے بے دخل ہوئے وہ دوسروں کو چھت دینے کے دعوے کس منہ سے کرتے ہیں؟

سیاست میں عزت ایک بار چلی جائے تو پھر جلسوں کے شور، میڈیا کی سرخیوں اور ہمدردی کے نعروں سے واپس نہیں آتی عزت کردار سے آتی ہے استقامت سے آتی ہے اصولوں پر کھڑے رہنے سے آتی ہے ہمارے ہاں المیہ یہ ہے کہ لوگ ہر شکست کو سازش اور ہر رسوائی کو قربانی بنا کر پیش کرتے ہیں حالانکہ بعض اوقات انسان اپنی تباہی خود لکھتا ہے چاپلوسی، اقتدار پرستی اور وقتی مفادات کی سیاست آخرکار انسان کو اسی مقام پر لا کھڑا کرتی ہے جہاں نہ دربار اپنا رہتا ہے نہ بازار۔

Check Also

Narsain Hamari Mohsin

By Sarfraz Saeed Khan