Marka e Haq: Jadeed Jang Ki Nai Tareef
معرکۂ حق: جدید جنگ کی نئی تعریف

مئی 2025 جنوبی ایشیا کی عسکری و تزویراتی تاریخ میں ایک ایسے مرحلے کے طور پر ثبت ہو چکا ہے جس نے نہ صرف طاقت کے روایتی پیمانوں کو چیلنج کیا بلکہ جنگ کے فکری، ادارہ جاتی اور تکنیکی تصورات کو بھی ایک نئے سانچے میں ڈھال دیا۔ یہ محض ایک محدود عسکری کشمکش نہیں تھی بلکہ دو متضاد ذہنی سانچوں، دو مختلف عسکری نظریات اور دو الگ ریاستی رویّوں کا آمنا سامنا تھا۔ ایک طرف وہ ریاست تھی جو اپنے حجم، وسائل اور بیانیاتی برتری پر انحصار کرتی رہی اور دوسری جانب وہ قوت جس نے محدود وسائل کے باوجود حکمت، تیاری اور ہم آہنگی کو اپنی اصل طاقت بنایا۔
گزشتہ چند برسوں میں نئی دہلی کی قیادت، بالخصوص نریندر مودی، بھارت کو ایک "علاقائی محافظ" اور "نیٹ سکیورٹی پرووائیڈر" کے طور پر پیش کرنے کے بیانیے پر مسلسل کام کرتی رہی۔ اس بیانیے کی بنیاد جارحانہ قوم پرستی، عسکری نمائش اور خطے میں نفسیاتی برتری قائم کرنے کی کوششوں پر تھی۔ تاہم مئی 2025 کے بحران نے اس تصور کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا اور یہ واضح کر دیا کہ طاقت کا محض اظہار، طاقت کی مؤثر کارکردگی کا متبادل نہیں بن سکتا۔
یہ تصادم اس اعتبار سے بھی منفرد تھا کہ اس نے جدید جنگ کے حقیقی خدوخال کو بے نقاب کیا۔ آج کی جنگ محض توپوں کی گھن گرج یا طیاروں کی پرواز تک محدود نہیں رہی بلکہ یہ ایک ہمہ جہت اور کثیر سطحی مظہر بن چکی ہے جس میں زمین، فضا، خلاء، سائبر اور الیکٹرانک میدان ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ اس تناظر میں پاکستان ایئر فورس نے جس انداز میں کثیرالجہتی آپریشنز کو عملی شکل دی، وہ جدید جنگی حکمتِ عملی کی ایک مؤثر مثال بن کر سامنے آیا۔ اس مربوط نظام میں معلوماتی برتری، ڈیٹا انضمام اور فوری فیصلہ سازی نے کلیدی کردار ادا کیا، جس نے روایتی جنگی انداز کو پس منظر میں دھکیل دیا۔
ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو کی قیادت میں پاکستان ایئر فورس نے جو نظریاتی اور تنظیمی اصلاحات متعارف کروائیں، وہ اس بحران میں اپنی پوری معنویت کے ساتھ نمایاں ہوئیں۔ عسکری تاریخ میں بعض قائدین محض منتظم نہیں ہوتے بلکہ وہ اداروں کی فکری سمت متعین کرتے ہیں۔ یہی وہ پہلو تھا جس نے PAF کو ایک روایتی فضائی قوت سے آگے بڑھا کر ایک مربوط "ملٹی ڈومین فورس" میں تبدیل کرنے کی بنیاد فراہم کی۔ اس تبدیلی نے یہ ثابت کیا کہ جنگی کامیابی صرف ہتھیاروں کی فراوانی سے نہیں بلکہ ان کے مؤثر استعمال کے لیے درکار ذہنی اور ادارہ جاتی تیاری سے حاصل ہوتی ہے۔
اس بحران نے خود انحصاری کے تصور کو بھی ایک نئی اہمیت دی۔ وہ ریاستیں جو اپنی سلامتی کو بیرونی ذرائع اور درآمدی نظاموں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتی ہیں، درحقیقت اپنی تزویراتی خودمختاری کو کمزور کر دیتی ہیں۔ پاکستان نے گزشتہ برسوں میں مقامی دفاعی صنعت، تحقیق اور ٹیکنالوجی کے میدان میں جو پیش رفت کی، وہ اس معرکے میں فیصلہ کن ثابت ہوئی۔ اس پیش رفت نے نہ صرف عسکری صلاحیت میں اضافہ کیا بلکہ ایک خود اعتماد قومی بیانیہ بھی تشکیل دیا، جو کسی بھی بحران کے دوران ایک مضبوط سہارا فراہم کرتا ہے۔
"تعداد یا معیار" کی بحث بھی اس معرکے میں ایک بار پھر زندہ ہوگئی، مگر اس بار اس کا جواب میدانِ عمل نے خود دیا۔ بھارت کے پاس وسائل، بجٹ اور عسکری پلیٹ فارمز کی کثرت تھی، مگر فیصلہ کن برتری اس قوت کو حاصل ہوئی جس نے بہتر ہم آہنگی، مؤثر تربیت اور واضح حکمتِ عملی کو اپنا ہتھیار بنایا۔ تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ منظم اور باصلاحیت قوتیں اکثر بڑی مگر منتشر طاقتوں پر غالب آ جاتی ہیں اور مئی 2025 اسی اصول کی ایک تازہ مثال بن کر سامنے آیا۔
مزید برآں، اس بحران نے یہ حقیقت بھی آشکار کی کہ جدید ٹیکنالوجی بذاتِ خود کامیابی کی ضمانت نہیں ہوتی۔ رافیل جیسے جدید طیارے اور S-400 جیسے دفاعی نظام اگرچہ عسکری قوت کی علامت کے طور پر پیش کیے گئے، مگر عملی میدان میں ان کی کارکردگی اس وقت محدود ہو جاتی ہے جب ان کے پیچھے مربوط حکمتِ عملی اور مؤثر آپریشنل صلاحیت موجود نہ ہو۔ اس طرح "ٹیکنالوجی کی نمائش" اور "ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال" کے درمیان فرق پوری طرح واضح ہو کر سامنے آیا۔
بی وی آر (Beyond Visual Range) فضائی جنگ نے بھی اس تصادم کو ایک نئی جہت دی۔ طویل دورانیے پر محیط یہ فضائی معرکہ اس بات کی علامت تھا کہ اب جنگی پائلٹ صرف اپنی بصارت پر انحصار نہیں کرتے بلکہ سینسرز، ڈیٹا لنکس اور مصنوعی ذہانت جیسے عوامل فیصلہ کن کردار ادا کرتے ہیں۔ اس ماحول میں انسانی ذہانت اور ڈیجیٹل نظام کا امتزاج ہی اصل برتری کا ذریعہ بنتا ہے۔
اسی طرح ڈرون وارفیئر نے جنگ کے انداز کو مزید پیچیدہ اور متنوع بنا دیا۔ کم لاگت مگر ذہین ڈرون سسٹمز نے یہ ثابت کیا کہ مستقبل کی جنگوں میں روایتی طاقت کے تصورات کو نئے چیلنجز کا سامنا ہوگا۔ تاہم اس معرکے نے یہ بھی واضح کیا کہ ڈرونز کی کامیابی محض ان کی تعداد میں نہیں بلکہ ان کے پیچھے موجود مربوط کمانڈ اینڈ کنٹرول نظام اور حکمتِ عملی میں پوشیدہ ہوتی ہے۔
اس پورے تناظر میں ایک اہم نفسیاتی پہلو بھی سامنے آیا کہ جنگیں صرف اسلحے سے نہیں بلکہ اعتماد، نظم اور اجتماعی عزم سے جیتی جاتی ہیں۔ وہ قومیں جو اپنی عسکری تیاری کو علم، تحقیق اور مسلسل اصلاح کے ساتھ جوڑتی ہیں، وہی حقیقی معنوں میں مضبوط بنتی ہیں۔ پاکستان کے لیے اس بحران کا سب سے بڑا سبق یہی ہے کہ قومی سلامتی ایک ہمہ جہت تصور ہے جس میں عسکری قوت کے ساتھ ساتھ سائنسی ترقی، معاشی استحکام اور ادارہ جاتی ہم آہنگی بھی شامل ہوتی ہے۔
آخرکار، مئی 2025 نے جنوبی ایشیا کو ایک اہم پیغام دیا کہ جنگ کسی مسئلے کا مستقل حل نہیں بلکہ ایک عارضی اور پرخطر راستہ ہے۔ طاقت کا اصل مقصد تباہی نہیں بلکہ استحکام اور توازن کا قیام ہونا چاہیے۔ اس بحران میں پاکستان نے جس تحمل، تیاری اور ذمہ داری کا مظاہرہ کیا، اس نے اسے ایک ایسی ریاست کے طور پر پیش کیا جو امن کو ترجیح دیتی ہے مگر اپنی خودمختاری اور دفاع کے معاملے میں کسی کمزوری کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ یہی وہ حقیقت ہے جو آنے والے برسوں میں جنوبی ایشیا کی سیاست اور سلامتی کے مباحث کو نئی سمت عطا کرے گی۔

