سہنری آنکھوں والی لڑکی

میں کچھ عرصے سے گلٹ کا شکار تھا کہ شاید بالزاک کے ناول کے ترجمہ کے ساتھ انصاف نہیں کرسکا۔ لیکن کل ہی نسیم ہمدانی صاحبہ کا 1962 میں بالزاک کے ناول "بڈھا گوریو" کا ترجمہ پڑھنے لگا تو وہاں حسن عسکری کا دییاچہ بھی تھا۔ دلچسپی سے اسے پڑھا تو انہوں نے بھی یہی لکھا کہ بالزاک سے مشکل ادیب کوئی نہیں کس کا ترجمہ کیا جائے۔ وہ حیران تھے کہ بالزاک کا ترجمہ انگریزی میں کیسے ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ بالزاک کیسے لکھتے لکھتے مشکل منظر نگاری یا انسانی نفسیات پر بات کرتے کرتے کہاں سے کہاں بھٹک جاتا ہے اور ساتھ میں مترجم اور قاری بھی۔
لہذا انہیں پڑھ کر اندازہ ہوا کہ میں نے اتنا برا ترجمہ نہیں کیا ہوگا۔ خیر بک کارنر کے ہمارے بھائی امر شاہد کی بڑی خوبی ہے کہ وہ سرپرائز دینا جانتے ہیں۔ مجھے بتایا کہ سنہری آنکھوں والی لڑکی کا دوسرا ایڈیشن ختم ہوئے عرصہ گزر گیا تھا۔ دوسرا ایڈیشن 2021 میں چھپا تھا۔ انہوں نے اس ترجمے پر پھر کام کیا، پروف کی غلطیاں ٹھیک کرائیں، کچھ جگہوں پر بہتری کرائی اور نئی پلیٹس کے ساتھ تیسرا ایڈیشن چھاپ دیا ہے۔
امر شاہد اور گگن شاہد کو داد دینی ہوگی جو اپنی ان تھک محنت سے بک کارنر جہلم کو وہاں تک لے گئے ہیں جہاں کچھ ادارے رشک تو کچھ حسد کرتے ہیں۔ خدا کہتا ہے حسد اس سے کیا جاتا ہے جسے میں کچھ عطا کرتا ہوں۔
ان بھائیوں نے کم عرصے میں ٹاپ پر جگہ بنائی ہے۔ وہ خیر ہر کوئی بناتا ہے لیکن ٹاپ پر ٹکے رہنا اور اس سے بڑھ کر انکساری اور عاجزی سے سرشار رہنا بھی ایک نعمت ہے جو امر اور گگن میں ہمیشہ دیکھی ہے۔
خیر نیا تیسرا ایڈیشن دیکھ کر دل خوش ہوا۔
پیرس کی سہنری آنکھوں والی لڑکی کے انجام پر دل آج بھی افسردہ ہے چاہے برسوں سے یہ علم ہے کہ یہ فکشن تھا۔ بعض فکشن زندگی کی حقیقی کہانیوں سے زیادہ ہرٹ کرتے ہیں اور تاعمر آپ کے دل و دماغ سے نہیں اترتے۔
یہ ناولٹ بھی ان میں سے ایک ہے جہاں بے رحمی اور سنگدلی ایک فیشن ہے۔۔ فرانس کا رومانوی شہر پیرس ایک ایسا جنہم ہے جہاں ہر وقت انسانی خواہشات اور انسانوں کی لاشوں جلتی رہتی ہیں۔ جہاں انسانی چہروں میں گھومتے بھیڑے سنہری آنکھوں والی لڑکی تک کو نہیں بخشتے۔۔ وہی بات کہ انسان خوبصورت چیزوں کو تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور ایک دن وہی سنہری آنکھوں والی لڑکی بھی اس جنون کا شکار ہوئی۔
انسان کی خونخوار نفسیات پر لکھے گئے اس ناول کا انجام کئی دن آپ کو افسردہ رکھے گا۔

