Sheetal
شیتل

ضیاء المصطفیٰ کے افسانے ہماری سماجی گھمبیرتا کے آس پاس گھومتے ہیں جنھیں پڑھتے ہوئے غم آمیز طنزیہ رنگ نمایاں نظر آتا ہے۔ ان میں افسانہ نگار نے ہمارے سماج میں ہر دم پنپتے مذہبی مچھندروں، خانقاہی لقندروں اور سیاسی زرندروں کی دھماچوکڑی اور غیر انسانی حرکات و سکنات کو سیدھے سبھاؤ انداز میں پیش کیا ہے۔
کہانی کار کے ہاں کسی نوعیت کی پیچیدگی نہیں اور وہ کہانیت کا سر قلم کیے بغیر بیانیہ اسلوب اختیار کیے ہوئے ہے جس کارن قاری کی دلچسپی فزوں تر دکھائی دیتی ہے کیوں کہ تمام اسالیب میں بیانیہ کو یہ اختصاص حاصل ہے کہ یہ ہمیشہ اپنی انفرادیت کو برقرار رکھتا ہے جس کی بدولت اس کی تازگی ہمیشہ رہتی ہے۔
ان کہانیوں کے کردار ہمارے یمین و یسار میں برسوں سے بسرام کیے ہوئے ہیں لیکن ضیاء المصطفیٰ نے ان کرداروں کو حالاتِ حاضرہ کے مطابق تخلیق کیا ہے۔ یہ کردار قبائلی عصبیت کا دامن بھی چاک کرتے ہیں، مذہبی بہروپیوں کے پیچ و خم بھی کھولتے ہیں اور وڈیرا شاہی کے کریہہ چہروں کو بھی بے نقاب کرتے ہیں۔ "توفیق" میں حرم فروشوں کا دوہرا کردار نظر آتا ہے جس میں سبزی فروش "بشکو" ترقی کرتا ہوا جب "بشکو" سے "اللہ بخش" (پٹرول پمپ کا مالک) بنتا ہے تو کیسے اسی حاشیائی فرد کو مرکز میں لایا جاتا ہے۔
"منبر نشیں" میں ویگن میں بیٹھے ہوئے ایسا کردار بھی نظر آتا ہے جسے ہر چیز میں محض اس لیے عیب نظر آتا ہے کہ آج کا نوجوان مذہب سے دور ہو کر گناہوں کی زندگی گزار رہا ہے۔ اسے ہر ترقی میں مغرب کی سازش دکھائی دیتی ہے۔ یہ منبر نشیں پورے سفر میں مسافرین کو سفری تکان کے ساتھ ساتھ اپنی بے نقط باتوں سے بھی اذیت آشنا کرتا ہے۔ یہی شخص جب ویگن سے نیچے اترتا ہے تو ایک لاغر اور بیمار کتے کو زور سے پتھر مارتے ہوئے جاتا ہے۔
"صف سے باہر کھڑا آدمی" اس لیے معتوب ہے کہ وہ کسی ایک مسلک کا پیروکار نہیں۔ اسے اس سے کوئی سروکار نہیں کہ وہ کہاں اور کس طرح نماز پڑھ رہا ہے، اس لیے اسے ہر جگہ پیچھے دھکیل دیا جاتا ہے اور پھر وہ سب سے الگ اور صف سے باہر نماز پڑھنا شروع کر دیتا ہے جو اس بات کی غمازی بھی ہے کہ ایسے امام اس قابل نہیں کہ ان کے پیچھے صف میں نماز پڑھی جائے اور پھر یہی شخص جب ایک مفلوک الحال خود کشی کیے ہوئے شخص کی نمازِ جنازہ پڑھاتا ہے جسے تمام اسیرانِ مسلک اس لیے انکار کر دیتے ہیں کہ وہ حرام موت مرا تھا۔
"پہلی واردات" میں وڈیرا شاہی نظام کی قلعی کھولی گئی ہے جس میں پولیس اور وڈیرا زمان خان کی ہم آہنگی اور ان کا گٹھ جوڑ اس طرح دکھایا گیا ہے کہ وہ سکول ماسٹر استاد غلام قادر اور ایک محنت کش فلکو کو "انصاف" دلانے کا ڈھونگ رچاتے ہیں لیکن پس پردہ اپنی دُوں نہادی سے بھی باز نہیں آتے۔
"چاندی کا تمغہ" ایک اور محنت کش تاج دین کے بیٹے کاشف کی کہانی ہے جسے خدا نے مصورانہ صناعی بھی عطا کی ہے جس کے دستِ ہنر کا شہرہ جب صوبائی سطح تک پہنچتا ہے تو اسے چاندی کے تمغے سے سرفراز کیا جاتا ہے۔ وہ غمِ روزگار میں اس قدر الجھتا ہے کہ اسے مزید اپنے تخلیقی جوہر بھی دکھانے کی فرصت نہیں ملتی۔ اس کے لیے زندگی کسی مفلس کی قبا بن جاتی ہے جس میں ہر گھڑی درد کے پیوند لگے ہوتے ہیں۔ پہلے بیوی بعد ازاں والد کی وفات سے وہ بالکل اکیلا رہ جاتا ہے۔ اسے بیماریاں گھیرے رکھتی ہیں۔ وہ مفلسانہ مجبوری کے باعث اسی تمغے کو بیچ کر جب اپنے لیے دوائی خریدتا ہے تو اس کا کلیجہ کٹ کٹ جاتا ہے۔
"خون کی دیوار" پر ہمارے دیہاتوں میں بے جوڑ اور بے جواز شادیوں کا نوحہ لکھا ہے۔ حسین اور ایم اے پاس لڑکی عمیرہ کی شادی ایک ان پڑھ، اجڈ، تہذیب و اقدار سے ماورا اور عمر میں پندرہ سال بڑے اس کے کزن اسجد سے اس لیے کر دی جاتی ہے کہ گھر کا رشتہ ہے تو اسے گھر میں رہنا چاہیے۔
"بدنما داغ" ندی کنارے بیٹھی روبیلہ کی درد ناک داستان ہے۔ فطرت کی دیوانی اس لڑکی کو خوب صورت نظارے بہت بھاتے ہیں۔ اس کے نین نقش اور رنگ روپ میں ایک عجیب سی کشش تھی۔ وہ ندی کے شفاف پانی میں جب اپنا حسین چہرہ دیکھتی ہے تو اس کے دماغ میں اپنے شوہر افضال کا چہرہ گھوم جاتا ہے جس نے اس کے چہرے سے زیادہ اس کی روح پر نشان ثبت کیا ہے۔ اس کےچہرے پر یہ بد نما داغ اس کی آنکھوں میں نمی لاتا ہے اور وہ جبلی مسکراہٹ کو حسبِ معمول پانی کے بہاؤ کی سمت نکل گئی۔
مرد اساس سماج میں شیتل محض ایک کردار نہیں، ایسے صد ہا کردار تلاشے جا سکتے ہیں جو مردانہ سماج کی "نامردانہ غیرت" کا شکار ہو گئے۔ اُن میں سے محض چند سکرین اور کاغذ کی دنیا کے نقشے میں ابھر کر سامنے آ سکے اور بہت سوں کو تو یہ بھی نصیب نہ ہوا اور وہ بے نام و نمود رزقِ خاک ہو گئے۔ افسانہ "شیتل" پڑھتے ہوئے بلوچستان کی گل بانو ستکزئی بے طرح یاد آئی جسے دُوں نہادوں نے محض اس لیے لقمہ اجل بنایا کہ اس نے قبائلی روایات کے برخلاف محبت جیسا لطیف جذبہ اپنے اندر موجزن کیا لیکن کثیف زدہ کردار یہ برداشت نہ کر پائے اور غیر انسانی حرکت کر گزرے۔ "شیتل" کی کہانی لکھتے ہوئے کہانی کار کے سامنے متعدد دیگر ایسے کردار بھی سامنے آئے جن کا پدرسری سماج میں غیرت کے نام پر قتلام ہوا۔ ہر ناحق خون کا ذکر پڑھتے ہوئے کلیجہ منہ کو آتا ہے۔
انساں ہیں کہ صحرا میں شبِ تار کی وحشت
آدم ہیں کہ ابلیس کے چہرے کی سیاہی
"پیر مٹھل سائیں" میں کہانی کار نے ان تمام عقیدت کے سوداگروں کو بے پیرہن کر دیا ہے جو اپنے جعلی خانقاہی کاروبار کو چمکانے کے لیے کس طرح نسل در نسل خود ساختہ "پیری" کا ڈھونگ رچاتے ہیں۔ بستی سے باہر کسی بے نام قبر کا بننا اور پھر رفتہ رفتہ سادہ لوح گاؤں کے مکینوں پر یہ ظاہر ہونا کہ یہ کسی "پہنچی ہوئی ہستی" کی قبر ہے۔ اس خود ساختہ بزرگ کے گدی نشینوں کا نسل در نسل سلسلہ ہائے فریب بہت دلچسپ ہے۔ اقبال کی نظم "باغی مرید" بے طرح یاد آگئی:
ہم کو تو میسر نہیں مٹی کا دِیا بھی
گھر پیر کا بجلی کے چراغوں سے ہے روشن
شہری ہو، دہاتی ہو، مسلمان ہے سادہ
مانندِ بتاں پجتے ہيں کعبے کے برہمن
نذرانہ نہيں، سود ہے پيرانِ حرم کا
ہر خرقہء سالوس کے اندر ہے مہاجن
ميراث ميں آئي ہے انھيں مسند ارشاد
زاغوں کے تصرف ميں عقابوں کے نشيمن
ضیاء المصطفیٰ کے افسانوں کی ایک نمایاں خوبی یہ بھی ہے کہ انھوں نے اس میں بعض جگہوں پر اپنی ماں بولی (سرائیکی) لفظیات کو بھی خوب صورتی سے برتا ہے۔ یہ لفظ اس طرح رچ بس گئے ہیں کہ کہیں پر بھی اوپرا پن دکھائی نہیں دیتا۔ مثال کے طور پر: وَکھیاں، ہَکل۔ درسال، مُنگر، لونڑ، پنجالی، تھلہ، چُلھ، دِھی، وڈا وڈیرا، سواد، ویہڑے وغیرہ جیسے متعدد الفاظ ہیں جنھیں بڑی سہولت سے پیش کیا گیا ہے۔

