Saturday, 02 May 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Shair Khan
  4. Sach Ki Talash Mein Bhatakta Qalam

Sach Ki Talash Mein Bhatakta Qalam

سچ کی تلاش میں بھٹکتا قلم

کالم لکھنے بیٹھا ہوں مگر لفظ جیسے روٹھ گئے ہیں۔ قلم ہاتھ میں ہے کاغذ سامنے مگر ذہن موجودہ ملکی حالات کو دیکھ کر الجھ چکا ہے۔ ایک ہجوم خیال بن چکا ہے خیالات کا سوالوں کا اور اُس بے بسی کا جو ہر سچ لکھنے والے کے اندر کہیں نہ کہیں سر اٹھاتی ہے۔ میرے سامنے بے بس قوم بھی ہے جو مہنگائی کے بوجھ تلے دبی ہوئی کمر ٹوٹی ہوئی جو آئے روز پیٹرول بم سے متاثر ہے انکا نوحہ لکھوں یا انکی غلامی کا ماتم۔ سوچتا ہوں کہاں سے آغاز کروں کیا سیاسی منافقت سے شروع کروں جہاں کل کے دشمن آج بغل گیر ہیں یا ججوں کے تبادلوں سے جہاں انصاف کا ترازو خود توازن کھوتا نظر آتا ہے یا پھر اُس خاموش خوف سے جو ایوانوں میں بیٹھے چہروں سے جھلکتا ہے۔

یہ کیسا ملک بن گیا ہے جہاں سچ لکھنا بھی ایک معرکہ محسوس ہوتا ہے بلکہ گناہ کبیرہ بن گیا ہے۔ لکھتے وقت جہاں لفظوں کو تولنا پڑتا ہے اور جملوں کو چھاننا پڑتا ہے کہ کہیں کوئی سچ زیادہ واضح نہ ہو جائے جسکو توہین بن کر سزا بن جائے ہر طرف سے خوف ہے خوف کے سائے میں لفظ بھی الجھ جاتے ہیں ہاتھ بھی کانپ جاتا ہے۔

میں ایک ادنیٰ سا لکھاری ہوں نہ میرے پاس بڑے دعوے ہیں نہ بڑی پہنچ بس ایک بے چین دل ہے جس میں درد ہے اور ایک قلم جو کبھی کبھی میرے بس میں نہیں رہتا جو لکھنے پر مجبور کرتا ہے۔ منظر عجیب ہے ایک قیدی ہے اکیلا مگر اُس کا ذکر ہر محفل میں ہے اور ایک پورا نظام ہے جماعتیں ادارے، اتحاد مگر اُن کے لہجوں میں اعتماد نہیں انکے اندر ایک انجانا سا خوف ہے یہ خوف کس بات کا ہے ایک ایسے شخص کا جو سلاخوں کے پیچھے ہے یا اُس سوچ کا جو سلاخوں سے باہر ہے۔ میں لکھنا چاہتا ہوں مگر ڈرتا نہیں ہاں الجھتا ضرور ہوں کیونکہ یہ صرف سیاست نہیں یہ ضمیر کا سوال بھی ہے۔

کبھی لگتا ہے سب کچھ لکھ دوں بے نقاب کر دوں ہر چہرہ ہر کردار اور ہر فریب پھر خیال آتا ہے کیا میرے لفظ اتنے طاقتور ہیں یا وہ بھی اس شور میں کہیں گم ہو جائیں گے مگر پھر دل کہتا ہے لکھنا فرض ہے اثر دینا نہیں۔ میں لکھوں گا چاہے سادہ لفظوں میں چاہے ٹوٹے جملوں میں مگر سچ کے قریب رہ کر کیونکہ کل جب میں اپنے رب کے حضور کھڑا ہوں گا تو شاید یہی چند لفظ میرا سہارا بن جائیں میری جان بخشی کی ضمانت بن جائیں میرے گناہوں کا کفارہ بن جائیں کہ میں نے خاموشی کو چُنا نہیں میں نے اپنی بساط کے مطابق آواز اٹھائی۔

اے میرے اللہ تو جانتا ہے دلوں کا حال تو دیکھ رہا ہے اس وقت کی گرد ظالم نظام اس دور کا دھندلا پن جہاں سچ بولنا لکھنا گناہ سمجھا جاتا ہے۔ میں کوئی بڑا لکھاری نہیں اور نہ ہی میرے لفظوں میں کوئی جادو ہے مگر نیت میں سچ ہے شفافیت ہے اور دل میں ایک تڑپ جو میرے بس میں تھا۔ میں نے لکھ دیا اب فیصلہ تیرے ہاتھ میں ہے قبول کرے یا رد میں تیرا بندہ ہوں اور یہ قلم بھی تیری امانت ہے۔ آج کا کالم شاید مکمل نہ ہو مگر سچ کی طرف ایک قدم ضرور ہے کیا لکھوں کیسے لکھوں اور کہاں سے شروع کروں کیونکہ دن بدن ملکی حالات سیاسی منافقت ججوں کے تبادلے طاقتوروں کے دھوکے دوست دشمن بننے جیسے فریب آخر کس موضوع کو چنا جائے سمجھ نہیں آرہی ہے ایک اکیلا قیدی اور ملک کی تمام جماعتیں اور اس کے ساتھ تمام ادارے جیل میں بند مگر خوف جاتا نہیں ہے کہ کہیں وہ جیل سے رہا نہ ہوجائے پھر ہمارا کیا بنے گا۔ عجیب منظر ہے اب اس منظر کو لفظوں کی زبان میں بیان کرنا اتنا آسان بھی نہین کیونکہ میں ایک ادنی سا لکھاری ہوں قلم میں اتنی عمدہ کاری نہیں چلیں پھر بھی کوشش ہے کہ کچھ لکھا جائے اور اپنے حصے کا فرض نبھایا جائے۔

یہ کہانی اب کسی ایک فرد کی نہیں رہی یہ ایک عہد کی علامت بن چکی ہے اگر سیاست کے افق سے عمران خان کو نکال دیا جائے تو باقی جو کچھ بچتا ہے وہ سیاست نہیں صرف ہجوم ہے۔ ایک ایسا ہجوم جس میں نہ نظریہ ہے نہ سمت نہ وقار صرف شور ہے الزام ہے منافقت ہے اور اقتدار کی بھوک ہے۔ یہ کیسا عجیب منظر ہے کہ ایک شخص جیل کی دیواروں کے پیچھے ہے مگر بیانیہ اُس کے ہاتھ میں ہے اور وہ جو اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے ہیں وہی سب سے زیادہ بے بس دکھائی دیتے ہیں جیسے کسی نے اُن کے الفاظ چھین لیے ہوں جیسے اُن کی سیاست کا سارا وزن صرف ایک نام کے سہارے کھڑا ہو یا تو اُس کی مخالفت میں یا اُس کی حمایت میں یہ سیاست نہیں یہ انحصار ہے۔

یہ قیادت نہیں یہ محتاجی ہے یوں لگتا ہے کہ ہم ایک ایسے اسٹیج پر کھڑے ہیں جہاں کردار تو بہت ہیں مگر کہانی صرف ایک کے گرد گھوم رہی ہے باقی سب کردار ایک دوسرے سے ٹکرا رہے ہیں مگر اصل مکالمہ کہیں اور ہو رہا ہے۔ میرا کہنا ہے کہ وہ جیل میں نہیں ہم جیل میں ہیں یہ محض جملہ نہیں، ایک تلخ سچ ہے کیونکہ جیل صرف سلاخوں کا نام نہیں جیل سوچ کی قید بھی ہوتی ہے خوف کی زنجیر بھی ہوتی ہے اور خاموشی کی دیوار بھی ہم بول نہیں سکتے۔

ہم سوچ نہیں سکتے ہم سوال نہیں اٹھا سکتے تو پھر فرق کیا رہ گیا اُس میں اور ہم میں وہ قید میں ہو کر بھی ایک بیانیہ ہے اور ہم آزاد ہو کر بھی ایک خاموش ہجوم یہاں جمہوریت نہیں منی مارشل لا ہے یہاں آئین کی کتاب تو موجود ہے مگر اُس کے صفحے جیسے کسی نے ادھار رکھ دیے ہوں جمہوریت کا نام لیا جاتا ہے مگر فیصلے کہیں اور ہوتے ہیں ووٹ کی بات کی جاتی ہے مگر وزن کسی اور چیز کا ہوتا ہے اور سب سے زیادہ افسوس ناک بات یہ کہ اس سارے کھیل میں سیاسی پارٹیاں خود بھی شریک ہیں وہ جو خود کو جمہوریت کے علمبردار کہتے ہیں وہی اس کھیل کے مہرے بھی ہیں۔ نہ کسی کو اصول کی فکر ہے۔ نہ کسی کو عوام کی صرف ایک خوف ہے کہ اگر وہ ایک شخص کھڑا رہا تو ہم سب بیٹھ جائیں گے یہی وجہ ہے کہ پورا نظام ایک فرد کے خلاف کھڑا نظر آتا ہے کیونکہ اس کے بیانئے مین دم ہے کیونکہ اصل مقابلہ شخص سے نہیں اُس سوچ سے ہے جو لوگوں کے دلوں میں گھر کر چکی ہے اور سوچ کو نہ جیل روک سکتی ہے نہ بندوق یہی وجہ ہے کہ سچ کڑوا ہوتا ہے بلکہ پنجابی کی ایک مثال پتر سچیاں نوں مرچیاں یہاں فٹ آتی ہے۔

یہ دراصل اس پورے منظرنامے کا نچوڑ ہے سچ ہمیشہ تکلیف دیتا ہے خاص طور پر اُنہیں جو جھوٹ کے سائے میں پلتے ہیں یہ تحریر کسی ایک لیڈر کی تعریف نہیں بلکہ اُس خلا کی نشاندہی ہے جو باقی سب نے خود پیدا کیا ہے جب سیاست کردار سے خالی ہو جائے تو ایک شخص بھی پورے نظام پر بھاری پڑ جاتا ہے اور آج پاکستان اسی موڑ پر کھڑا ہے جہاں سوال صرف یہ نہیں کہ عمران خان کہاں ہے بلکہ یہ ہے کہ باقی سب کہاں کھڑے ہیں نیز یہ وقت صرف تجزیے کا نہیں یہ وقت آئینہ دیکھنے کا ہے۔

بات صرف یہ نہیں کہ کئی جماعتیں مل کر ایک شخص کا مقابلہ نہیں کر سکیں اصل کہانی یہ ہے کہ وہ خود اپنی سیاست کا بوجھ اٹھانے کے قابل نہیں رہیں جب سیاست نظریے سے خالی ہو جائے تو پھر اسے سہارا چاہیے ہوتا ہے کبھی طاقت کا کبھی مفاد کا اور کبھی خوف کا یہی وجہ ہے کہ کل تک جو ایک دوسرے کے خلاف صف آرا تھے آج ایک ہی صف میں کھڑے نظر آتے ہیں یہ اتحاد کم اور مجبوری زیادہ لگتا ہے جیسے کسی ڈوبتے کو تنکے کا نہیں پورے جنگل کا سہارا درکار ہو۔

اگر اس منظر کو دیکھا جائے تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہم کسی جمہوری کھیل کے نہیں بلکہ ایک بند کمرے کے فیصلوں کے گواہ ہیں بلکہ یوں کہیں تماشائی ہین باہر عوام کے لیے بیانیے بنائے جاتے ہیں اندر طاقت کے توازن طے ہوتے ہیں اور جب توازن بگڑنے لگے تو مخالفین کو حلیف بنایا جاتا ہے چاہے کل تک اُن پر الزام تراشی کی گئی ہو یا اُنہیں ہر برائی کی جڑ قرار دیا گیا ہو یہاں سوال یہ نہیں کہ ایک شخص اتنا طاقتور کیوں ہے۔

بلکہ یہ ہے کہ باقی سب اتنے کمزور کیوں ہیں اگر ایک فرد جیل میں بیٹھ کر بھی سیاسی منظرنامے پر حاوی ہے۔ تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ غیرمعمولی ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ باقی معمولی سے بھی نیچے جا چکے ہیں اُن کے پاس نہ بیانیہ ہے نہ اعتماد نہ وہ اخلاقی جواز جو عوام کو قائل کر سکے طاقروروں کی چھتری۔ دراصل اس سیاست کی سب سے بڑی کمزوری ہے جب سیاست اپنے پاؤں پر کھڑی نہ ہو سکے تو وہ سہاروں کی عادی ہو جاتی ہے اور جو سہاروں پر کھڑا ہو وہ کبھی خودمختار نہیں ہوتا یہی وجہ ہے کہ آج کی سیاسی صف بندی فطری نہیں لگتی یہ ایک ترتیب دی گئی تصویر ہے جس میں رنگ تو بہت ہیں مگر روح غائب ہے اور جہاں روح نہ ہو وہاں وقار نہیں ہوتا اسی لیے ان سبکو ڈوب مرنے کا مقام ہے کیونکہ جمہوریت صرف نمبروں کا کھیل نہیں ہوتی یہ اعتماد، اصول اور عوامی طاقت کا نام ہے جب یہ سب مفقود ہو جائیں تو پھر اقتدار صرف ایک کرسی رہ جاتا ہے جس پر بیٹھنے والے بھی بے چین اور دیکھنے والے بھی مطمئن نہیں ہوتے۔ آخر میں بات وہی آتی ہے مسئلہ ایک شخص نہیں ایک خلا ہے اور جب خلا بڑھ جائے تو ایک آواز بھی گونج بن جاتی ہے اور باقی سب شور ہو جاتے ہیں۔

Check Also

Aik Sindhi Pardesi Ki Kahani

By Rauf Klasra