Wednesday, 04 March 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Shahid Mehmood
  4. Super Power Ka Zawal

Super Power Ka Zawal

سپر پاور کا زوال

یہ بات تو دنیا میں آشکار ہو چکی ہے کہ بظاہر دنیا کی واحد سپر پاور عملی طور پر اسرائیل کے مفادات کی محافظ بن چکی ہے اور اسرائیل امریکہ کی شہ پر جس بھی ملک میں چاہے گھس کر ناصرف دہشت گردی کرتا ہے بلکہ وہاں کے نظام کو بھی اپنی مٹھی میں لینے کی کوشش کرتا ہے۔

ہم دیکھ چکے ہیں کہ پچھلے سال جب اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا تو اس وقت بھی امریکہ نے منصفانہ ثالثی کے تقاضے پورے نہیں کئے تھے بلکہ اسرائیل کی مدد کو دوڑا آیا تھا اور پھر امریکی جہازوں نے ایران کے جوہری پروگرام پر حملہ کرکے اسے تباہ کرنے کا دعویٰ بھی کیا تھا اور بعد میں امریکہ نے جنگ کو روکنے کے لئے اسرائیل اور ایران کو آمادہ کیا تھا اور جنگ بندی کروانے کا کریڈٹ بھی لیا تھا۔ وہی جنگ جسے امریکہ نے ختم کروایا تھا اور چند ماہ بعد ہی اپنے بحری بیڑے لے کر اسرائیل کے ایما پر ایران پر حملہ کرنے کے لئے پہنچ گیا۔

امریکہ اس سے پہلے بھی اسرائیل کو محفوظ بنانے کے نام پر شام، عراق اور لیبیا کو بھی جنگ کے ذریعے کمزور کرکے وہاں اپنی مرضی کی حکومتیں قائم کر چکا ہے۔ پچھلے کچھ عرصہ سے اسرائیل نے ایران پر بھی انگلیاں اٹھانا شروع کردی تھیں اور امریکہ کو ایران کو کچلنے کے لئے استعمال کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے جس میں ایران پر لگائی جانے والی اقتصادی اور دفاعی پابندیاں اسی سلسلہ کی کڑی ہیں۔

پچھلے سال جب اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا تھا تو اس کے بعد ایرانی ردعمل دیکھ کر اسرائیلی قیادت مسلسل خوف میں مبتلا تھی اور اسے اس چیز کا ادراک ہوگیا تھا کہ گریٹر اسرائیل کے پلان میں اگر کوئی ملک رکاوٹ بن سکتے ہیں تو وہ ایران اور پاکستان ہیں اسی لئے تو تجزیہ کار یہ سمجھتے رہے ہیں کہ ایران کو کچلنے کے بعد اسرائیل کا اگلا نشانہ پاکستان ہوگا۔ موجودہ اسرائیل امریکہ گٹھ جوڑ اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے جس میں بھارت اور افغانستان بھی شامل ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔

اس وقت خطہ میں چینی اثرورسوخ بھی بڑھ رہا ہے اور علاقہ کے کئی ممالک چین کے ساتھ ناصرف کاروبار کرنا چاہتے ہیں بلکہ دفاعی تعاون کے بھی خواہاں ہیں اور ایسا دکھائی دیتا ہے کہ آنے والے دنوں میں چین خطے کے مختلف ملکوں کے ساتھ مل کر ایک بڑا تجارتی اور دفاعی بلاک بنانے جارہا ہے جس میں پاکستان، ایران، روس سمیت مشرق وسطی کے ممالک بھی شامل ہو سکتے ہیں۔ ایسے اقدامات سے امریکی مفادات کو بڑا دھچکا لگنے کا خطرہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اقتدار سنبھالنے کے فوری بعد ٹرمپ نے چین سمیت ایسے تمام ممالک پر تجارتی ٹیرف نافذ کرنا شروع کردیئے تھے جو امریکی پالیسیوں کے مخالف تھے۔

ایران پر امریکی حملہ کے پیچھے بھی یہی سوچ کار فرماں تھی کہ کسی طرح ان تمام ممالک کو سبق سکھایا جائے جو امریکہ سے بغاوت کر سکتے ہیں۔ امریکہ کا خیال تھا کہ ایرانی قیادت کو ختم کرکے ایران میں من پسند حکومت قائم کی جائے جو آنے والے دنوں میں امریکی مفادات کے لئے کام کرے اور اسی مقصد کے لئے امریکہ نے اسرائیل کو استعمال کیا۔ اپنے ابتدائی حملہ میں بظاہر امریکہ اپنے مقاصد میں کامیاب بھی ہوگیا تھا جب آیت اللہ خامنہ ای سمیت کئی اہم ایرانی عہدیداران شہید ہو گئے تھے لیکن اس کے ردعمل میں ایران نے اسرائیل سمیت تمام عرب ملکوں میں موجود امریکی اڈوں پر میزائل داغنا شروع کردئیے۔ اب تک کی اطلاعات کے مطابق دبئی، ابو ظہبی، بحرین، سعودی عرب اور قطر میں ایرانی میزائلوں نے کافی نقصان پہنچایا ہے۔

دوسری طرف اسرائیل میں آئرن ڈوم جیسا دفاعی نظام بھی ایرانی میزائلوں کے سامنے بے بس دکھائی دیتا ہے۔ اطلاعات تو یہ بھی ہیں کہ امریکی بحری بیڑے ابراہم لنکن پر بھی ایران نے میزائل داغے ہیں۔ اسرائیل، ایران جنگ نے اب امریکہ سمیت مشرق وسطیٰ کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے اور کہا جاتا ہے یہ مہنگی ترین جنگ ثابت ہوگی جس میں سینکڑوں کے حساب سے فائٹر جہاز، جدید ٹیکنالوجی سے لیس مزائل حصہ لے رہے ہیں جنہوں نے بڑے پیمانے پر عمارات اور انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچایا ہے۔

دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ جنگ اگر طویل ہوئی تو وقت کے ساتھ کئی مزید ممالک بھی جنگ کا حصہ بنتے جائیں گے اور یہ تیسری عالمی جنگ کا روپ اختیار کر سکتی ہے۔ ایران جس طرح خطہ میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنا رہا ہے تو لگتا یہی ہے کہ اب علاقہ میں امریکی مستقبل خطرے میں ہے اور پھر جن عرب ممالک پر ایرانی میزائل برس رہے ہیں وہ بھی پریشان دکھائی دیتے ہیں اور خطے میں یہ سوچ تیزی سے پیدا ہورہی ہے کہ امریکی موجودگی ان ممالک کے لئے آنے والے دنوں میں مستقل خطرہ بنی رہے گی جس کے بعد امریکہ پر یہ دباؤ بڑھے گا کہ وہ خطے کو چھوڑ کر واپس چلا جائے اور خطہ کے ممالک علاقائی دفاعی اتحاد کے آپشن کی طرف سوچنے لگے ہیں جبکہ سعودی عرب نے پہلے ہی پاکستان کے ساتھ دفاعی معاہدہ کرکے علاقائی اتحاد کی طرف پیش رفت شروع کردی ہے اور موجودہ جنگ کے بعد اس سوچ کو مزید تقویت ملے گی۔

ایسے حالات میں چین، روس اور پاکستان علاقے میں آنے والے دنوں میں اہمیت اختیار کر جائیں گے جبکہ بھارت اور افغانستان تنہائی کا شکار ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت دوبارہ سے روس کے ساتھ تیل کی خریداری کے معاہدے کرنے کا سوچ رہا۔ موجودہ حالات میں امریکہ، ایران کے ساتھ جنگ مول لے کر مشکلات میں پھنس چکا ہے۔

کہنے والے یہ بھی کہتے ہیں کہ اب ایران جسے اندرون خانہ چین، روس اور پاکستان کی خفیہ سپورٹ بھی حاصل ہے، اسرائیل اور امریکہ کے لئے مشکلات پیدا کر سکتا ہے اور ایران کو فتح کرنے کا امریکی پلان خود اس کے امیج کو تباہ کر دے گا۔ جبکہ پاک افغان جنگ کو بھی سمجھا جا رہا ہے کہ افغانستان کی انڈیا اور اسرائیل سے بڑھتی ہوئی قربت کے پیش نظر یہ خطرہ محسوس کیا جارہا تھا کہ افغانستان کی زمین کو اسرائیل ایران پر حملے کے لئے بھی استعمال کرسکتا تھا۔ جسے بھانپتے ہوئے پاکستان نے افغانستان پر حملہ کرکے ایران کے مشرقی بارڈر کو محفوظ بنادیا ہے۔

کچھ اطلاعات ہیں کہ ایران کو چین کی طرف سے سیٹلائٹ سپورٹ بھی حاصل ہے جس کی بنا پر ایرانی میزائل مطلوبہ اہداف پر برس کر اسرائیل اور امریکہ کی دفاعی تنصیبات کو نقصان پہچا رہے ہیں۔ امریکہ کی مسلم دشمنی سب پر عیاں ہے جس کے ثبوت غزہ سمیت کشمیر میں دیکھے جا سکتے ہیں جہاں اسرائیل اور بھارت کے بدترین مظالم کے باوجود امریکہ نے ہمیشہ ان دونوں ممالک کی حمایت ہی کی ہے اور ایران کے معاملہ میں بھی کچھ ایسا ہی رویہ اپنایا جا رہا ہے۔ حد تو یہ ہے کہ ایٹمی صلاحیت اور جدید ترین ہتھیاروں کے حامل اسرائیل کے ساتھ امریکہ کا رویہ بڑا عاشقانہ ہے اور مسلم ممالک کے لئے امریکہ کی پالیسی بغض پر مشتمل ہے۔

اسرائیل مسلسل پورے خطہ کے لئے خطرہ بنا ہوا ہے جبکہ پرامن ایران کے معاملہ میں امریکہ اس کی میزائل ٹیکنالوجی کو بھی کچلنے پر تلا ہوا ہے اور ایسے حالات میں اب مسلمان ملکوں کی قیادت کو چاہئیے کہ ایک وسیع تر اتحاد قائم کرکے امریکہ کو خطے سے نکل جانے پر مجبور کرے اور اپنے معدنی اور دفاعی وسائل کو اکٹھا کرکے خطے میں بیرونی مداخلت کو ہمیشہ کے لئے ختم کرے تاکہ مسلم دنیا سکون سے ترقی کر سکے۔

Check Also

Chiragh Sab Ke Bujhen Ge Hawa Kisi Ki Nahi

By Zulfiqar Ahmed Cheema