Friday, 12 June 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Khalid Mahmood Faisal
  3. Punjab Ke Wazir e Taleem Ki Bachat Scheme

Punjab Ke Wazir e Taleem Ki Bachat Scheme

پنجاب کے وزیر تعلیم کی بچت سکیم

پنجاب سرکار کی جانب سے 11 سو ارب کا خریدا گیا لگژری جہاز جب سے صوبہ کی مکھ منتری کے زیر استعمال ہے تب سے حرف تنقید ہے، مختلف مشورے دیئے جارہے ہیں اسے بیچ کر سرمایہ صوبہ کی مفلوک الحال عوام پر لگایا جائے، تعلیمی اداروں سے باہر کڑوروں بچوں کے لئے نئے تعلیمی ادارے قائم کئے جائیں، نئے شفاخانے تعمیر کئے جائیں وغیرہ وغیرہ، جتنے منہ اتنی باتیں۔

سرکار نے مگر اس کا آسان حل یہ نکالا سکولوں، کالجوں اور ہسپتالوں کو جدید الفاظ میں "آوٹ سورس" دیسی زبان میں وہ ٹھیکے پر دیا جائے، بچت سکیم کا آغاز یوں کر دیا گیا، اسکی زد میں سب سے پہلے جو آئے ہیں وہ صوبہ کے سرکاری ملازمین ہیں، جن کی پنشن میں بھاری بھر کٹ لگایا گیا ہے، اس کا جائزہ لینے کے لئے جو کمیٹی بنائی گئی، اس نے شاہ سے زیادہ شاہ کی وفاداری دکھاتے ہوئے رپورٹ پیش کی ہے کہ پنشن میں کٹ لگانے سے پنجاب سرکار کو قریباََ 250ارب کا فائدہ ہوا ہے، کیا ہی اچھا ہوتاکہ افسر شاہی یہ بھی زیر تحریر لاتی کہ اس فائدہ سے کتنے ملازمین متاثر ہوئے، جو اپنی چھت سے محروم رہیں گے پوری گریجویٹی نہ ملنے سے بچوں کی شادیاں مگر نہ کرسکیں گے، کتنوں کے بچے اعلی تعلیم سے محروم رہیں گے، نئے فارمولا کے تحت پنشن اتنی قلیل ہوگی کہ روز مرہ کے اخراجات اور ضروریات زندگی کی خر یدداری محال ہوگی، کاش! اس رپورٹ میں یہ بھی بتایا جاتا کہ لاہور جم خانہ جس کا سالانہ کرایہ پانچ ہزار ہے، اسکی وجہ سے صوبہ کو کتنا نقصان ہو رہا ہے، پروٹوکول پر اٹھنے والے اخراجات کی بھاری قیمت عوام کو ادا کرنا پڑ رہی ہے، روزانہ کی بنیاد پر کتنا پیسہ بدعنوان لوگوں کی جیب میں جارہا ہے، فائدہ اور نقصان پر مبنی یہ رپورٹ ہوتی تو منصفانہ کہا جاسکتا تھا۔

پنجاب کے وزیر تعلیم بھی بچت سکیم کی راہ پر چل پڑے، دور کی کوڑی لائے ہیں کہ پندرہ ہزار ماہوار تنخواہ پر تقرر کردہ استاد کی کارکردگی بہت بہتر ہے، جس خاندان کے چشم و چراغ ہیں، وہ حکمران پارٹی کا وفادار سمجھا جاتا ہے، وزیر اعلیٰ کی خوشنودی کے لئے کم تنخواہ پر اساتذہ کے تقرر کا اچھوتا خیال انہوں نے پیش کرکے ممکن ہے داد بھی پائی ہواس بیان پر مگر خاصی سبکی انکی ہوئی، اب وضاحتیں پیش کر رہے ہیں۔

وزیر تعلیم استاد کو "دہاڑی دار" مزدور کی طرح کوئی شے سمجھتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے اسے انبیاء کا پیشہ قرار دیا ہے، نبیﷺ آخر زمان معلم اعلیٰ تھے کتاب ہدایت میں صرف منصب پر اکتفاء نہیں کیا گیا بلکہ ذمہ داری بھی بتا دی، سورہ بقرہ میں ابراہیمؑ کی دعا، اے پروردگار انہیں میں سے ایک رسول بھیج جو تیری آیات انہیں سنائے اور کتاب اور حکمت کی تعلیم دے، علم کے ساتھ ساتھ انسان کو حکمت سکھانا، فیصلہ کرنے کی صلاحیت پیدا کرنا، مطالعہ اور مشاہدہ کرنا، غورو فکر اور تدبر کرنا، صبر اور اعتدال پیدا کرنا، نفع بخش علم حاصل کرنا سب علم و حکمت کے اجزاء ہیں، عرب کا شورش زدہ معاشرہ اسی تعلیم اور حکمت سے مثالی بنا، تعلیمی ادارے اسی لئے قائم کئے جاتے ہیں بقول، مضطر نظامی۔

قسمت نوع بشرتبدیل ہوتی ہے یہاں
اک مقدس فرض کی تکمیل ہوتی ہے یہاں

شاعر کو کیا علم تھا کہ پنجاب میں ایک وزیر تعلیم ایسے بھی وارد ہوں گے، جو استاد کے معاوضہ کو اسکے وقار، عزت کی بجائے تنخواہ اور مشاہرہ کے ترازو میں تول کر نئی بچت سکیم متعارف کروائیں گے، کیا ہی اچھا ہوتا کہ موصوف لارڈ میکالے نظام تعلیم کی جگہ نیا نصاب متعارف کرواتے، جو حکمت و دانائی پر مشتمل ہوتا، فارغ التحصیل طلباء و طالبات ہر اعتبار سے مثالی ہوتے اور قومی یکجہتی کی بنیاد بنتی مگر انہوں نے اس مشقت سے جان چھڑانے کی راہ نکا ل کر سرکاری تعلیمی اداروں کو آوٹ سورس کرنا شروع کر دیا، ان کا ایجنڈہ اس شعر کا مصداق بنا۔

ہوس نوع بشر کی تکمیل ہوتی ہے یہاں
ابلیس کے فرض کی تکمیل ہوتی ہے یہاں

علامہ عبدالستار عاصم کی دنیا بھر کے مشاہیر پر مشتمل مرتب کردہ کتاب بعنوان "ٹرلین ڈالر کی کتاب" میں تعلیمی فلسفی کے بانی جان ڈیوی اسکول کو ایک "چھوٹا معاشرہ" قرار دیتے ہیں، جہاں طلباء علم ہی حاصل نہیں کرتے، سماجی رویئے، تعاون اور ذمہ داری سمجھتے ہیں، انکے خیال میں سکول زیادہ آزاد، تخلیقی ہونا چایئے، وہ رٹہ سسٹم کے مخالف ہیں، بلکہ تنقیدی سوچ کو تعلیم کا اہم حصہ قرار دیتے ہیں، وہ تعلیم کو جمہوریت کی بنیاد قرار دیتے ہیں، وہ زندگی کی علمی مہارتیں اور علمی تجربات کرنے پر زور دیتے ہیں، وہ نصاب میں جدت لانے کے بھی حامی ہیں۔

وزیر تعلیم سے بہتر کون جان سکتا ہے کہ وہ تمام تعلیمی ادارے جو آوٹ سورس کئے گئے یا ہونے جارہے ہیں، ان کے مالکان طلباء و طالبات کو اس حکمت و دانائی سے آراستہ کر سکیں گے، جس کا ماڈل ہمیں معلم اعلیٰﷺ کی ہستی میں ملتا ہے وہ جان ڈیوی کے تعلیمی فلسفہ کو ان اداروں میں نافذ کرنے کے قابل ہوں گے؟ اس پر کامل اتفاق ہے کہ لارڈ میکالے کا دیا ہوا نظام ہمیں ہجوم سے قوم بنانے میں بری طرح ناکام رہا۔

تعلیمی اداروں کی اصلاح سے مراد انہیں آوٹ سورس ہی کرنا ہوتا، تو یہ کام تو محکمہ کا سیکرٹری بھی کر سکتا تھا، پنجاب کے باسی تو وزیر تعلیم سے انقلابی اقدامات کی آس لگائے بیٹھے تھے، وزیر تعلیم کے گوش گزار کر دیں کہ انکی بچت سکیم کے منفی اثرات کہاں کہاں مرتب ہورہے ہیں، پنجاب کی جامعات میں داخلہ کی شرح کم ہوئی ہے، سماجی علوم کے شعبہ میں داخلے بری طرح متاثر ہوئے ہیں، بیروزگاری میں اضافہ ہوا ہے، اس لئے مستقل بنیادوں پر اساتذہ کرام کی بھرتیاں نہیں ہورہی ہیں، صرف تعلیمی ایام کے لئے ٹیچرز بھرتی کئے جاتے ہیں، موسم گرما کی تعطیلات تنخوا ہیں نہیں دی جاتیں، یہ انصاف ہے یا معاشی قتل؟ خطہ میں سب سے کم بجٹ بھی محکمہ تعلیم ہی کا ہے، جان ڈیوی معاشرتی مسائل کے حل کو نظام تعلیم سے مربوط کرتے اور تعلیم کو ترقی کی بنیاد مانتے ہیں۔

شعبہ تعلیم کبھی بھی ارباب اختیار کی ترجیح نہیں رہا، روایت ہے کہ ایوب خاں کی کابینہ کی تشکیل مکمل ہو چکی تو قدرت اللہ شہاب نے توجہ دلائی کہ وزیر تعلیم کا تقرر نہیں کیا گیا، میٹنگ سے فارغ ہو کر جانے والے فرد کو باہر سے آواز دی کہ وہ وزیر تعلیم کا حلف اٹھا لے، یہاں نیم تعلیم یافتہ وزیر بھی رہے ہیں، اساتذہ کی سبکی کرنے پر وزیر تعلیم کے استعفیٰ کا مطالبہ کرنے والوں کو اللہ تعالی ٰ کا شکر ادا کرنا چایئے کہ پنجاب کا و زیر تعلیم کم از کم گریجویٹ تو ہے۔

بشکریہ: نئی بات

Check Also

Pakistan Ka Taleemi Apartheid

By Aftab Alam