Friday, 12 June 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Komal Shahzadi
  4. Apni Pehchan Ke Sath Jeene Ka Haq

Apni Pehchan Ke Sath Jeene Ka Haq

اپنی پہچان کے ساتھ جینے کا حق

"انسان کی سب سے بڑی شکست یہ نہیں کہ وہ ہار جائے، بلکہ یہ ہے کہ وہ اپنی اصل پہچان کھو دے"۔

معاشرے کی سب سے بڑی خوبصورتی یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنے افراد کو اپنی شناخت، اپنی سوچ اور اپنی مرضی کے مطابق جینے کا حق دے۔ مگر بدقسمتی سے ہمارے ہاں آج بھی بہت سے لوگ، خصوصاً خواتین، اپنی زندگی اپنے خوابوں کے مطابق نہیں بلکہ دوسروں کی توقعات اور فیصلوں کے مطابق گزارنے پر مجبور ہیں۔ اس جبر کو کبھی روایت، کبھی عزت اور کبھی خاندانی اقدار کا نام دے دیا جاتا ہے، حالانکہ حقیقت میں یہ ایک فرد کی شخصیت اور آزادی پر قدغن ہوتی ہے۔

مشہور مفکر جبران خلیل جبران کا قول ہے: "آپ کے بچے آپ کے بچے نہیں، وہ زندگی کی اپنی آرزو کے بیٹے اور بیٹیاں ہیں"۔

یہی اصول ہر انسان پر لاگو ہوتا ہے۔ کوئی بھی فرد کسی دوسرے کی ملکیت نہیں ہوتا۔ ہر شخص اپنی سوچ، اپنی صلاحیت اور اپنی منزل کا خود تعین کرنے کا حق رکھتا ہے۔

ہمارے معاشرے میں اکثر لوگوں کو اس بات کی عادت ہے کہ وہ دوسروں کی زندگی کے فیصلے بھی خود کرنا چاہتے ہیں۔ وہ یہ طے کرتے ہیں کہ کون کیا پڑھے گا، کیا سوچے گا، کس سے ملے گا اور کس طرح زندگی گزارے گا۔ اس عمل میں ایک انسان کی شخصیت آہستہ آہستہ دب جاتی ہے اور وہ اپنی خواہشات کو قربان کرتے کرتے خود سے دور ہوتا چلا جاتا ہے۔

حضرت علیؓ کا ایک خوبصورت قول ہے: "کسی شخص کی اصل قدر اس کے علم اور کردار سے پہچانی جاتی ہے، نہ کہ دوسروں کی رائے سے"۔

افسوس یہ ہے کہ ہم اکثر دوسروں کی رائے کو اپنی ذات پر حاوی کر لیتے ہیں۔ ہم اپنی خوشیوں، خواہشات اور خوابوں کو صرف اس لیے دفن کر دیتے ہیں کہ کہیں معاشرہ ناراض نہ ہو جائے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ جو معاشرہ آج تنقید کرتا ہے، وہ کل کسی اور موضوع میں مصروف ہو جاتا ہے، جبکہ انسان اپنی ادھوری زندگی کا بوجھ عمر بھر اٹھاتا رہتا ہے۔

خواتین کے معاملے میں یہ مسئلہ مزید سنگین ہو جاتا ہے۔ ایک عورت اگر اپنی رائے کا اظہار کرے، اپنے خوابوں کے لیے جدوجہد کرے یا اپنی شناخت قائم کرنے کی کوشش کرے تو اسے مختلف القابات سے نواز دیا جاتا ہے۔ حالانکہ اپنی ذات کا شعور رکھنا اور اپنے حق کے لیے آواز بلند کرنا کوئی جرم نہیں۔

نیلسن منڈیلا نے کہا تھا: "آزادی صرف اپنی زنجیریں توڑنے کا نام نہیں، بلکہ دوسروں کی آزادی کا احترام کرنے کا نام بھی ہے"۔

یہی وہ سوچ ہے جس کی ہمارے معاشرے کو ضرورت ہے۔ اگر ہم واقعی ترقی یافتہ اور مہذب معاشرہ بننا چاہتے ہیں تو ہمیں افراد کی آزادیِ فکر اور آزادیِ انتخاب کا احترام کرنا ہوگا۔

اپنی شناخت کے ساتھ جینا خودغرضی نہیں، بلکہ خود آگاہی ہے۔ خودغرض وہ شخص ہوتا ہے جو دوسروں کے حقوق سلب کرے، جبکہ خود آگاہ شخص اپنی ذات کا احترام کرتے ہوئے دوسروں کے حقوق کا بھی احترام کرتا ہے۔

میں سمجھتی ہوں کہ ہر انسان کے اندر ایک الگ کہانی، ایک الگ خواب اور ایک الگ دنیا آباد ہوتی ہے۔ جب ہم اسے اپنی مرضی کے مطابق جینے نہیں دیتے تو دراصل ہم اس کی تخلیقی صلاحیتوں، اس کے اعتماد اور اس کے وجود کو محدود کر دیتے ہیں۔

ایک خوبصورت قول ہے: "پرندے کو قید کرکے اس کے پروں کی خوبصورتی تو دیکھی جا سکتی ہے، مگر اس کی پرواز نہیں"۔

بالکل اسی طرح ایک انسان کو خوف، دباؤ اور سماجی پابندیوں میں رکھا جا سکتا ہے، مگر اس کی اصل صلاحیت کبھی سامنے نہیں آ سکتی۔

وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنی سوچ بدلیں۔ ہم یہ تسلیم کریں کہ ہر انسان کو اپنی زندگی کے فیصلے کرنے کا حق حاصل ہے۔ اختلافِ رائے کو بغاوت اور خودمختاری کو سرکشی سمجھنے کی روش ترک کرنا ہوگی۔ ایک صحت مند معاشرہ وہی ہوتا ہے جہاں لوگ اپنی شناخت برقرار رکھتے ہوئے دوسروں کی شناخت کا بھی احترام کریں۔

آخر میں علامہ اقبالؒ کا یہ فکرانگیز شعر یاد آتا ہے:

خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے، بتا تیری رضا کیا ہے

یہ شعر دراصل اپنی ذات کی پہچان، خود اعتمادی اور خودی کے شعور کا پیغام ہے۔ انسان جب اپنی شناخت کو پہچان لیتا ہے تو وہ دوسروں کی مرضی کا اسیر نہیں رہتا بلکہ اپنے اصولوں، اپنے وقار اور اپنی سچائی کے ساتھ زندگی گزارتا ہے۔

کیونکہ زندگی کا اصل حسن دوسروں کی خواہشات میں گم ہو جانے میں نہیں، بلکہ اپنی پہچان کے ساتھ جینے میں ہے۔

Check Also

Pakistan Ka Taleemi Apartheid

By Aftab Alam