Taleem Akhir Hai Kya?
تعلیم آخر ہے کیا؟

گزشتہ دنوں اپنے ذاتی کام کیلئے ایک نجی بنک میں گیا۔ استقبالیہ پر ایک صاحب کھڑے تھے۔ ہاتھ میں قیمتی موبائل، بازو پر برانڈڈ گھڑی اور شعلے اگلتی زبان۔ سامنے بیٹھی لڑکی نے مؤدبانہ انداز میں کہا: "سر، براہِ کرم یہ فارم پُر کر دیجیے تاکہ میں مزید پروسس شروع کر سکوں"۔
صاحب چونک کر بولے: "تم جانتی ہو میں کون ہوں؟ میں فلاں یونیورسٹی سے ایم بی اے ہوں! یہ فارم تم خود پُر کرو کیونکہ یہ تمہارا کام ہے"۔
یہ محض ایک جملہ نہیں تھا بلکہ اس کی تربیت کا اعلان تھا۔۔ یہ اس تعلیم کا اعلان تھا جو شعور سے خالی تھی۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ہمیں رک کر سوچنا چاہیے کہ تعلیم آخر ہے کیا؟ اور ہم اپنے بچوں کو کیا دے رہے ہیں؟ ڈگری یا دانائی؟ ہنر یا تہذیب؟ ملازمت یا انسانیت؟
ہم نے تعلیم کو محض ایک سیڑھی بنا دیا ہے۔۔ نوکری کی سیڑھی، تنخواہ کی سیڑھی، اسٹیٹس کی سیڑھی۔ ہمیں اس بات سے کوئی خاص غرض نہیں کہ اس سیڑھی پر چڑھنے والا انسان اپنے پیچھے کس کو روند رہا ہے، کس سے بدتمیزی کر رہا ہے اور کس کی عزت پامال کر رہا ہے۔ شرط صرف یہ ہے کہ اس کے ہاتھ میں ڈگری ہو۔
تعلیم اور تربیت میں فرق وہی ہے جو چراغ اور روشنی میں ہے۔ چراغ ہو مگر جلایا نہ جائے تو اندھیرا ہی رہتا ہے۔ ہم نے تعلیمی ادارے تو بنا لیے مگر تربیت گاہیں ختم کر دیں۔ نصاب میں ریاضی، سائنس اور مینجمنٹ تو ہے، مگر برداشت، شائستگی، اختلاف کا سلیقہ اور انسان دوستی کہیں نظر نہیں آتی۔
ہم ایسے نوجوان پیدا کر رہے ہیں جو شاید انگریزی تو فر فر بول سکتے ہیں مگر گفتگو میں بدتمیز۔ جو دلیل دینا جانتے ہیں مگر سننا نہیں جانتے۔ جو سوال اٹھا سکتے ہیں مگر احترام کے ساتھ اختلاف نہیں کر سکتے۔ سوشل میڈیا پر ذرا سی بات ہو جائے تو یہی تعلیم یافتہ طبقہ گالی کو دلیل اور تضحیک کو مکالمہ سمجھنے لگتا ہے۔
یہ مسئلہ صرف افراد کا نہیں، یہ نظام کا مسئلہ ہے۔ ہمارا تعلیمی نظام بچے کو یہ نہیں سکھاتا کہ وہ کیسا انسان بنے، وہ صرف یہ سکھاتا ہے کہ وہ کہاں کھپ سکے۔ ہمیں اچھے کلرک، تیز انجینئر اور ہوشیار مینیجر تو مل جاتے ہیں، مگر مہذب شہری، بااخلاق رہنما اور ذمہ دار انسان کم ہی پیدا ہوتے ہیں۔
ہمارے ایک استاد کہا کرتے تھے: "پڑھا لکھا وہ نہیں جو کتابیں یاد کر لے، پڑھا لکھا وہ ہے جس کے رویے سے دوسروں کو سیکھنے کا حوصلہ ملے"۔ مگر ہم نے اس قول کو کمرا امتحان کے دروازے پر ہی چھوڑ دیا۔
دنیا کی مہذب قومیں اس لیے آگے نہیں بڑھیں کہ ان کے پاس زیادہ ڈگریاں تھیں، بلکہ اس لیے کہ ان کے پاس کردار تھا، بنیادی اخلاقیات تھی۔ وہاں استاد صرف مضمون نہیں پڑھاتا، مثال بھی بنتا ہے۔ وہاں طالب علم صرف سوال نہیں کرتا، ذمہ داری بھی سیکھتا ہے۔
ہمیں یہ ماننا ہوگا کہ تعلیم کا اصل مقصد روزگار نہیں، انسانیت سازی ہے۔ اگر ایک ڈگری یافتہ شخص کمزور پر چلاّتا ہے، قطار توڑتا ہے، اختلاف پر تذلیل کرتا ہے اور طاقت پا کر مغرور ہو جاتا ہے تو ہمیں رک کر پوچھنا چاہیے: کیا ہم واقعی تعلیم یافتہ ہیں؟ یا صرف ڈگری یافتہ؟ کیونکہ یاد رکھیے کہ تعلیم اگر تربیت سے خالی ہو تو وہ معاشرے کو روشن نہیں کرتی بلکہ وہ صرف اندھیروں کو دلیل دینا سکھاتی ہے۔

