Dont Worry Every Thing Will Be Ok
ڈونٹ وری، ایوری تھنگ ول بی اوکے

اگرچہ ہم خدائے وحدہ، لا شریک پر کامل ایمان رکھنے کا دعویٰ کرتے ہیں مگر عملًا ہم خود کو بھی کم خدائی اختیارات نہیں دیتے۔ ہم سنگ تراش ہیں۔ پہلے اپنی خواہشات کی چھینی سے پتھر چھیل کر ایک مجسمہ بناتے ہیں، پھر اسی کے سامنے دستِ سوال دراز کر دیتے ہیں۔ جب وہ ہماری مرضی کے مطابق کرامت نہیں دکھاتا تو ہم اسے توڑ کر نیا پتھر اٹھا لیتے ہیں۔ مسئلہ پتھر کا نہیں، چھینی کے نشے کا ہے۔
1950 کی دہائی میں ہم نے عالمی سیاست کی بساط پر خود کو کمیونزم کے خلاف مورچہ بند کیا اور سیٹو اور سینٹو کا حصہ بن گئے۔ مقصد روسی ریچھ کے پھیلاؤ کو روکنا تھا۔ بڈھ بیڑ پشاور میں اڈے دیے گئے، صف بندی کی گئی اور یقین رکھا گیا کہ اب عالمی طاقت ہمارے شانہ بشانہ کھڑی رہے گی۔ مگر 1965 کی جنگ لگی تو امریکا نے غیر جانبداری کی چادر اوڑھ لی۔ 1971 میں جب ڈھاکہ ڈوب رہا تھا تو امریکی بحری بیڑہ خلیج بنگال کی طرف بڑھتا رہا اور ڈھاکہ میں ہتھیار ڈالے جا چکے تھے۔ امریکی بیڑہ آج تک نہیں پہنچ سکا۔ عالمی سیاست میں دوستیاں مستقل نہیں ہوتیں، مفادات ہوتے ہیں۔ مگر ہم ہر بار اسے دائمی رفاقت سمجھ بیٹھتے ہیں۔
پھر "مرد مومن مرد حق" ضیا الحق کا دور آیا۔ ایک طرف جوہری پروگرام پر پابندیاں، دوسری طرف کابل میں کمیونسٹ حکومت کے خلاف جہاد۔ جیسے ہی کابل میں سوویت اثر بڑھا امریکا کو پاکستان کی یاد آ گئی۔ امریکی صدر ریگن نے افغان مجاہدین کو آزادی کے سپاہی کہا اور ہم ایک بار پھر فرنٹ لائن ریاست بن گئے۔ ڈالروں کی بارش ہوئی، کلاشنکوف و ہیروئن کلچر کے ہمراہ چالیس لاکھ افغان مہاجرین آ گئے اور ہم نے اسے "اسٹریٹجک ڈیپتھ" کا نام دے دیا۔
1998 میں بھارت کے ایٹمی دھماکوں کے جواب میں پاکستان نے بھی دھماکے کیے تو امریکی پابندیاں لگ گئیں۔ سپرپاور سے تعلقات سرد ہو گئے۔ پھر 2001 میں نائن الیون ہوا اور سب کچھ بدل گیا۔ پرویز مشرف کے دور میں ہم نے ایک بار پھر نقد تعاون پر رضامندی ظاہر کی۔ "ڈو مور" کے تقاضے، "ڈبل گیم" کے الزامات اور کیری لوگر بل کے نام پر امداد کی آنکھ مچولی میں تیرہ برس یونہی گزر گئے۔ جب افغانستان میں دال نہ گلی تو ہم ولن قرار پائے۔
2019 میں ٹرمپ سرکار کو افغانستان سے انخلاء کی ضرورت محسوس ہوئی تو اسے پھر پاکستان کی یاد آ گئی۔ کابل میں ہمارا ایک مشہور جرنیل چائے پیتے پایا گیا۔ مشہور جرنیل نے کیمروں کے سامنے چائے کی چسکی لیتے ہوئے کمال اعتماد سے کہا تھا "ڈونٹ وری، ایوری تھنگ ول بی اوکے"۔ سوال ان سے یہ ہوا تھا کہ آنے والے دنوں میں وہ دو طرفہ تعلقات کو کیسے دیکھ رہے ہیں۔ اس "ڈونٹ وری" کے بعد کچھ علما اور مشائخ بھی کابل بھجوائے گئے تھے جہاں میزبانوں نے کمال ذہانت سے کام لیتے ہوئے اسلام آباد سے آئے مہمانوں کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا دیا کہ ہم سے نہیں آپ ٹی ٹی پی سے بات چیت کرو۔
پھر یہ جرنیل صاحب اور ان کے بڑے جرنیل صاحب تو باعزت ریٹائر ہو گئے اور جنہوں نے ان بھائی لوگوں کی یقین دہانیوں "ڈونٹ وری، ایوری تھنگ ول بی اوکے"۔ پر اعتبار کیا وہ بھی سڑک پر آ گئے۔ مگر دہشت گردی کی اوجھڑی آج بھی گلے میں ویسے ہی پڑی ہوئی ہے نہ اُگلی جا رہی رہی ہے نہ گردن سے اتر رہی ہے۔
ہمیں یہ پٹی پڑھائی جاتی رہی کہ مظلوموں کی مدد ثوابِ جاریہ ہے۔ ہم نے اپنی پسند کے مظلوم چنے اور ان کی مدد شروع کر دی۔ اب جب مظلوموں کو ان کا حق دلوا دیا تو پھر انہوں نے اپنی پسند کے مظلوم چن لیے۔ اس کے علاوہ اور کیا کہانی ہے سوویت یونین کے خلاف مجاہدین کی مدد کی اور مجاہدین کے خلاف طالبان کی مدد کی۔ اب جب یہی افغان طالبان آپ ہی کی روایت پر عمل پیرا ہو کر اپنے ہی پاکستانی طالبان بھائیوں کی نظریاتی و پناہ گاہی مدد کر رہے ہیں تو آپ کو اچھا نہیں لگ رہا اور آپ کا اچھا نہ لگنا افغان طالبان کی سمجھ میں نہیں آ رہا۔ اسے کہتے ہیں ببول کاشت کرکے گلاب کی فصل کی توقع رکھنا۔
ہم نے کبھی مجاہدین کو چنا، کبھی طالبان کو۔ پھر گڈ اور بیڈ کی درجہ بندی کی۔ یہ ہماری پالیسی کا سب سے خطرناک موڑ تھا جب ہم نے شدت پسندی کو اپنے مفاد کے ترازو میں تولنا شروع کیا۔ مگر نظریات کرائے کے سپاہی نہیں ہوتے۔ وہ سرحدوں کی لکیر نہیں مانتے۔ آج اگر افغان طالبان اپنے "نظریاتی بھائیوں" یعنی ٹی ٹی پی کے لیے نرم گوشہ رکھتے ہیں تو ہمیں حیرت کیوں ہوتی ہے؟ ہم نے ببول بویا تھا گلاب کی امید کیسے رکھ سکتے تھے؟
یہ بھی سچ ہے کہ ریاست نے بالآخر "گڈ طالبان، بیڈ طالبان" کا فریم توڑ دیا ہے۔ یہ اعتراف آدھی صدی بعد آیا مگر آیا تو سہی۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے واقعی چھینی رکھ دی ہے؟ یا اگلے عالمی تنازعے کی آہٹ پر ہم پھر کوئی نیا پتھر تراشنے بیٹھ جائیں گے؟ ہماری تاریخ کا المیہ یہ نہیں کہ ہم نے غلط فیصلے کیے۔ المیہ یہ ہے کہ ہم نے ہر فیصلے کو دائمی سمجھ لیا، حالانکہ وہ وقتی تھا۔ ہم نے ہر مفاد کو نظریہ بنا لیا اور ہر وقتی اتحاد کو ابدی دوستی۔ دعا یہی ہے کہ اب کی بار ہم پتھر چھیلنے کے بجائے آئینہ دیکھتے رہیں۔
وہ مذہبی و سیاسی بیانئیہ جو سویت یونین کے خلاف افغان مجاہدین اور پھر مجاہدین کو رخصت کرنے کے واسطے پیدا کئے گئے طالبان کی خاطر تراشا تھا اس کے اثرات، مضمرات اور تعلقات پاکستانی سماج کی جڑوں میں دور تک پھیل چکے ہیں۔ اب اگر واقعی ہوش آ گئی ہے تو اس بیانئیے کے رد کو اس سے بھی سخت و جامع و واضح بیانئیہ بنانے کی ضرورت ہے۔

