Monday, 02 March 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Dr. Abrar Majid
  4. Aalmi Halaat Nai Federations Ka Taqaza Kar Rahe Hain

Aalmi Halaat Nai Federations Ka Taqaza Kar Rahe Hain

عالمی حالات نئی فیڈریشنز کا تقاضہ کر رہے ہیں

اس وقت عالمی حالات امن کی بحال کو ممکن بنانے کے لئے دفاعی، سفارتی اور تجارتی سطح پر ریجنل فیڈریشنز کا تقاضہ کر رہے ہیں۔ اقوام متحدہ جیسے عالمی ادارے اپنی ساکھ کھوتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں اور کوئی ادارہ ان کا متبادل بنتا ہوا دکھائی نہیں دیتا۔ غزہ ہو یا کشمیر کہیں بھی ان کی ریزولیشنز پر عمل دکھائی نہیں دیتا۔ انٹرنیشنل کریمنل کورٹ کے ورانٹ ایک کاغذ کے ٹکڑے سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتے۔ امریکہ جیسی عالمی طاقت ان کی کارکردگی پر سوال اٹھا چکی ہے۔

نیٹو اپنی ذات میں ایک بہت بڑا سوالیہ نشان بن کر بے بسی کے ہاتھوں حیرت زدہ ہے اور دنیا کا درجہ حرارت موسمیاتی ہو یا تنازعاتی دن بدن بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ دنیا میں امن کی خاطر نئے پیس بورڈ کا قیام لایا جاتا ہے مگر اس کے قیام کے اگلے ہفتے ہی مشرق وسطیٰ اور ویسٹ ایشیا سے آگ کے شعلے بلند ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔

دنیا میں امن کا دعویٰ اس وقت محض لفاظی سے بڑھ کر کوئی حیثیت نہیں رکھتا جبکہ عملی طور پر جس کی لاٹھی اسی کی بھینس والی پالیسی نافذ ہے جس کا مقابلہ کرنے کے لئے ملکوں کے باہمی اتحاد نا گزیر دکھائی دے رہے ہیں۔

ماضی میں بھی فیڈریشن کی تاریخ ہی محفوظ ترین حکمت عملی رہی ہے اور حال میں بھی فیڈریشنز ہی محفوظ سمجھی جا رہی ہیں وہ خواہ یو ایس اے ہو یا شینجن سٹیٹس۔ دوسری طرف یو ایس ایس آر اپنی جارحانہ حکمت عملیوں کے سبب اپنے کھوئے ہوئے وجود پر پچھتاوے کا تاثر دیتے ہوئے اس ضرورت کی اہمیت کو پھر سے اجاگر کرتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔

تاریخ اسباق سے بھری پڑی ہے مگر ضرورت ہے انہیں اکٹھا کرکے فیڈریشن کی صورت کوئی حل تلاش کرنے کی لیکن اس کے اندر بھی بہت بڑے بڑے چیلنجز ہیں جن سے نبرد آزما ہونے کے لئے عالمی تحفظات کو دور کرنے کے لئے ڈائیلاگ کا آغآز کرنا ہوگا اور ان چیلنجز کا حل اعتماد کے رشتوں میں تلاش کرنا ہوگا۔

تیسری عالمی جنگ دستک دے رہی ہے جسے آپس کے روابط، اتحاد اور باہمی اعتماد سے ٹالنے کی کوشش کرنا ہوگی اور مذاہب سے بالاتر ہوکر انسانیت کے رشتوں کو اپنی ترجیح بنانا ہوگا۔ مذاہب کو سنڑل کمانڈ میں لانا ہوگا تاکہ ان کے نام پر تشدد انتہا پسندی اور نفرتوں کے تاثر کو ختم کرکے مذاہب بارے انسانی فلاح کے حقیقی مفہوم کو واضح کیا جا سکے۔

ریاستوں کو اپنے وسائل کا ایک بڑا حصہ انسانیت کی بھلائی کے لئے وقف کرنا ہوگا۔ وسائل پر یقین رکھنے والے نظام معیشت کی مہار کو وسائل کی رضاکارانہ تقسیم کی طرف موڑنا ہوگا۔ محبتوں کو فروغ دے کر نفرتوں کو ختم کرنا ہوگا۔

وہ ریاستیں جن کے وسائل اور ٹیکنالوجی تک رسائی محدود ہے انہیں مل کر عالمی امن کو یقینی بنانے کے لئے اپنی خود مختاری کو قائم رکھتے ہوئے دفاعی، سفارتی اور تجارتی سطح پر ریجنل فیڈریشنز کا قیام عمل میں لانا ہوگا جس میں ایک سوچ اور باہمی مفادات کی حامل ریاستیں مثلاً چین، پاکستان، ترکمانستان، ازبکستان، تاجکستان، آزربائیجان اور ترکی مل کر باہمی فیڈریشن بنا سکتے ہیں اور آپس میں ہر طرح کے جغرافیائی رابطوں کو آسان شرائط کے ساتھ بحال کر سکتے ہیں تاکہ مسقبل کی تجارتی ضروریات سے لے کر دفاع تک کے مشترکہ مفادات میں ایک یکجہتی کی بنیاد پر طاقت بن سکیں۔

بظاہر یہ مشکل ہے مگر اس کے اندر بہت زیادہ فائدہ ہے۔ اگر ان تمام ریاستوں کا فی الفور ملنا ممکن نہ ہو تو پاکستان اور چین ملکر کوئی ایسا باہمی ماڈل متعارف کروا سکتے ہیں جس سے دونوں ملکوں کے مستقبل کے تجارتی، سفارتی اور دفاعی اہداف کو محفوظ اور پائیدار بنایا جا سکے۔ مشاہدے اور تجربات کی بنیاد پر دوسرے ریاستیں بھی بعد میں شمولیت کو اختیار کر سکتی ہیں۔

اس پر دونوں ملکوں کی اعلیٰ سطح کی قیادت کو سر جوڑ کر بیٹھنا چاہیے اور ملکر درپیش چیلنجز اور دنیا میں ان کے بارے موجود غلط فہمیوں کو دور کرنے کے لئے کوئی حکمت عملی ترتیب دے کر عملی قدم اٹھانا چاہیے۔ اس وقت دونوں ریاستوں کو دنیا کی اکثریتی ریاستوں کا امن پسندانہ سوچوں اور دفاعی صلاحیتوں کی بدولت اعتماد ہے۔

پاکستان کی کوششوں کی اہمیت اس لئے بھی واضح ہے کہ پاکستان کے اس وقت دنیا کی تمام بڑی با اثر اور عالمی طاقت کی حامل ریاستوں خواہ وہ امریکہ ہو، روس، یورپی یونین، اسلامی دنیا اور مشرق وسطیٰ یا چین کے ساتھ بہت ہی مثالی تعلقات ہیں اس لئے موجودہ حالات میں ایک تعمیری کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

آپس میں طویل المدتی معاہدے ترتیب دے کر اپنے زرائع کی اشتراکیت سے عالمی تجارتی ضرورتوں اور باہمی مشکلات کا احسن طریقے سے حل ڈھونڈا جا سکتا ہے۔ اس سے نہ صرف حالات کی بہتری ممکن ہوگی بلکہ مواقعوں کے نئے دروازے کھلیں گے جس سے ریجن میں طاقت کے توازن کا ایک نیا باب شروع ہوگا بلکہ خود کفیلی کر طرف بڑھنے میں ایک دوسرے کی مدد میں ممد و معاون ماحول پیدا ہوگا جس سے دفاعی تحفظ کے ساتھ ساتھ سرمائے کے استعمال اور حصول کی محفوظ حکمت عملیاں وجود پائیں گی۔

Check Also

Ayatullah Khamenei Ki Shahadat Aur Mashriq e Wusta Ka Badalta Manzar Nama?

By Shahid Nasim Chaudhry