Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Dr. Abrar Majid
  4. Allah Ki Mehboob Makhlooq

Allah Ki Mehboob Makhlooq

اللہ کی محبوب مخلوق

اللہ نے انسان پر سب سے پہلا احسان اس کی تخلیق کا کیا ہے، پھر اس کو اپنی سب سے بڑی صفت علم سے نوازا، بیان سکھایا اور زمین پر اپنا خلیفہ بنا دیا۔ اس میں انسان کا کیا کمال ہے؟ یہ سب اسی کا فضل ہے۔ قرآنِ کریم نے اس تخلیقی محبت کا آغاز ہی یوں فرمایا:

"الرَّحُمٰنُ۔ عَلَّمَ الُقُرُاٰنَ۔ خَلَقَ الُاِنُسَانَ۔ عَلَّمَهُ الُبَيَانَ"۔ (الرحمن: 1-4)

(وہ رحمن ہی ہے جس نے قرآن سکھایا، انسان کو پیدا کیا اور اسے بیان کا سلیقہ بخشا۔)

سب سے بڑھ کر یہ کہ اس نے انسان کی خطاؤں پر سزا کے بجائے، اپنے قانونِ عدل پر اپنی صفتِ رحمت کو غالب کرکے یقینی معافی کا اعلان کر دیا۔ جیسا کہ حدیثِ قدسی میں ہے: "إِنَّ رَحُمَتِي سَبَقَتُ غَضَبِي" (بے شک میری رحمت میرے غضب پر سبقت لے گئی)۔

اس کی رہنمائی کے لیے وقتاً فوقتاً اپنی کتاب سے مدد اور اس کی اصل حیثیت کی یاددہانی کا سلسلہ جاری رکھا اور جو سب سے بڑا فضل اس پر کیا وہ یہ کہ اسے ایک "ابدی وجود" (Eternal Being) بنا دیا۔ موت فنا کا نام نہیں، بلکہ اس ابدی سفر کی ایک مائیکرو شفٹنگ (Micro-shifting) ہے۔ اس نے انسان کے وجود کو مٹی کے بے جان ذروں سے اٹھا کر لامتناہی شعور بخشا۔

جدید کوانٹم فزکس (Quantum Physics) اور فلسفہِ شعور (Panpsychism) اب اس سچائی کی طرف لوٹ رہے ہیں کہ کائنات کا ذرہ ذرہ اندھا مادہ نہیں، بلکہ ایک گہرے عالمگیر شعور سے جڑا ہوا ہے۔ اللہ نے مٹی کے انہی ابدی ذرات کو جب انسان کے قالب میں ڈھالا، تو گویا پوری کائنات کا نچوڑ اس ایک وجود میں سمو دیا۔ اس نے انسان کی زندگی کے مختلف مراحل طے کیے۔ عالمِ برزخ، ماں کا پیٹ، پھر اس دنیا میں ایک مخصوص وقت کے لیے، پھر دارِ امتحان اور پھر اس کی حتمی منزل جنت کو سجایا۔

اس جنت کے ہلکے سے نظارے کے لیے ان نعمتوں کے نمونے اس دنیا میں بھی عطا کر دیے اور کتاب میں ان کے بارے میں سب کچھ کھول دیا، کچھ چھپایا نہیں اس انسان سے۔ اس کے امتحان کا پرچہ پہلے سے کھول کر رکھ دیا کہ یہ یہ کر لو تو تمہاری جنت پکی۔

اس کی محبت کی کیا کیا داستان سناؤں! اس نے انسان کی جبلت اور کمزوریوں کو اپنی کتاب میں خود بیان کرکے اس کے لیے معافی کا جواز پیدا کر دیا۔ وہ جب انسان کو کہتا ہے کہ "خُلِقَ الُإِنسَانُ عَجُولًا" (انسان جلد باز پیدا کیا گیا ہے) یا "وَخُلِقَ الُإِنسَانُ ضَعِيفًا" (انسان کمزور پیدا کیا گیا ہے)، تو دراصل وہ اپنے ہی تخلیق کردہ شاہکار کی نفسیات کا عذر پیش کرکے اپنی ہی رحمت کے دروازے چوپٹ کھول دیتا ہے۔

انسان اس کا اپنا شاہکار ہے۔ وہ اسے فرشتوں کی طرح مکمل خوبیوں اور مینوفیکچرڈ کمال (Manufactured Perfection) کے ساتھ بھی پیدا کر سکتا تھا، مگر اس نے اپنی حکمت سے اس کے اندر معمولی معمولی کمزوریاں اور مادی جھکاؤ بھی رکھے، تاکہ اس کی غلطیوں اور کوتاہیوں پر اس کی معافی کی گنجائش کو اپنے قانونِ فطرت اور میزانِ عدل کے عین مطابق برقرار رکھ سکے۔ اگر انسان خطا نہ کرتا، تو اللہ کی غفور و رحیم صفات کا ظہور کیسے ہوتا؟

رسول اللہ ﷺ نے اسی نقطے کی وضاحت فرمائی: "اگر تم لوگ گناہ نہ کرو تو اللہ تمہیں ختم کرکے ایسی قوم لائے گا جو گناہ کرے گی اور پھر استغفار کرے گی، تو اللہ انہیں معاف فرمائے گا"۔ (صحیح مسلم)

اس نے دنیا کی چند گھڑیوں کو اس طرح آراستہ کرکے دیا کہ اس کے لیے زینت، کھیل اور جستجو کے سامان پیدا کر دیے۔ اس کی دنیاوی بوریت (Existential Boredom) کو دور کرنے اور وقت کی لغزش کا احساس مٹانے کے لیے اسے مال اور اولاد کی رونق سے نواز دیا، تاکہ اسے ان چند گھڑیوں کے گزرنے کا بوجھل احساس تک نہ ہو۔ یہ مال اور اولاد مادی دنیا کے تسلسل اور انسان کی نفسیاتی بقا کا وہ حسین انتظام ہیں جنہیں قرآن نے "الُمَالُ وَالُبَنُونَ زِينَةُ الُحَيَاةِ الدُّنُيَا" (مال اور بیٹے تو دنیا کی زندگی کی زینت ہیں) کہہ کر پکارا اور پھر اپنی حکمت سے اس کی احسن گزر بسر کے لیے ایک ایسا ضابطہ (Code of Life) بھی دے دیا جس میں جابجا اس کی بقا کے راز پوشیدہ ہیں۔

جس میں اس کے فائدوں کے لیے عمل اور حرکت سے مربوط ایک ایسا حیاتیاتی نظام (Biological System) دیا، تاکہ اس کے خون کی گردش سے اس کا چند گھڑیوں کا مشقت پر منحصر نظام فعال رہے اور اس کا مدافعتی نظام (Immune System) پوری طرح سے قائم رہے۔ جدید طبی سائنس (Medical Science) اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ انسانی جسم میں "Homeostasis" (داخلی توازن) اور مدافعت کا نظام صرف اسی وقت بہترین کام کرتا ہے جب جسم متحرک اور عمل سے جڑا ہو۔ اللہ نے انسان کی جسمانی حرکت، حرارت اور یہاں تک کہ روزمرہ کی مشقت کو اس کی بقا کا ضامن بنا دیا۔

اپنے تخلیقی شاہکار کی اداؤں پر فخر کرنے کے لیے اس نے انسان کو غورو فکر، تدبر اور تحقیقات کی ترغیب، نصیحت اور حکم دے کر کائنات کی تسخیر کو اس کی تخلیق کے مقصد کا درجہ دے دیا۔ قرآن بار بار کہتا ہے: "أَفَلَا يَتَفَكَّرُونَ" (کیا وہ غور نہیں کرتے؟) اور "وَسَخَّرَ لَكُم مَّا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الُأَرُضِ" (اور اس نے تمہارے لیے مسخر کر دیا جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے)۔

یہاں محبت کا ایک اور مابعد الطبیعاتی (Metaphysical) پہلو دیکھیے، کائنات کی ہر شے اپنے اندر ایک مادی ریکارڈنگ اور یادداشت (Memory) رکھتی ہے۔ جدید سائنسی تحقیقات، جیسے پانی کے مالیکیولز پر انسانی جذبات کے اثرات (Memory of Water)، یہ ثابت کرتی ہیں کہ جمادات و نباتات بھی انسان کے رویوں کو محسوس اور ریکارڈ کرتے ہیں۔ اللہ نے کائنات کی اس پوشیدہ حسّیات کو انسان کے تابع کر دیا تاکہ جب انسان زمین پر خدا کا نام لے، تو زمین کا وہ ٹکڑا اور کائنات کا وہ ذرہ قیامت کے دن اس کے حق میں گواہی دے۔ یعنی کائنات کو انسان کے لیے صرف ایک گھر نہیں، بلکہ اس کا ایک مخلص گواہ اور ساتھی بنا دیا۔

محبت کی انتہا دیکھیے کہ اس نے انسان کے سونے جاگنے، کھانے پینے اور یہاں تک کہ جائز نفسانی خواہشات کے پورا کرنے کو بھی "عبادت" کا درجہ دے دیا۔ اگر اس کو دنیا میں آزمائش کی کوئی چھوٹی موٹی مشقت دی بھی، تو اس کی ذہنی اور قلبی الجھنوں کا حل ڈھونڈنے کے لیے اس کی دعاؤں، ہدایت کی تڑپ اور شکر کو بھی اعلیٰ ترین عبادات میں شامل کر لیا۔

آج کی جدید نفسیات (Psychology) کہتی ہے کہ "اظہارِ تشکر" (Gratitude) اور "دعا/مراقبہ" (Meditation) انسان کو ذہنی تناؤ اور اینگزائٹی (Anxiety) سے بچانے کے سب سے بڑے ٹولز ہیں۔ اللہ نے انسان کو ان نفسیاتی الجھنوں سے بچانے کے لیے شکر کا مائنڈ سیٹ دیا اور بدلے میں کوئی قیمت طلب نہیں کی، بلکہ یہ پیار بھرا وعدہ فرما لیا:

"لَئِن شَكَرُتُمُ لَأَزِيدَنَّكُمُ" (اگر تم شکر گزار بنو گے، تو میں تمہیں اور زیادہ دوں گا)۔

یوں اس کریم رب نے انسان کی اپنی نفسیاتی اور جسمانی صحت کے نسخے (شکر اور دعا) کو اپنے ہاں "عبادت اور بدلہ" کے طور پر تسلیم کرکے محبت کی ایک ایسی لازوال داستان رقم کر دی، جس کی کوئی دوسری مثال ممکن ہی نہیں۔

Check Also

Akhenaten: Roshni, Baghawat Aur Tanhai Ka Firon

By Asif Masood