FIFA Ka Akhara
فیفا کا اکھاڑہ

فیفا ورلڈ کپ اکثر ہی کسی نہ کسی تنازعے یا تنقید کی زد میں رہا ہے، مگر اس بار جس شدت سے اس کے فیصلوں، قوانین اور طرزِ عمل پر سوالات اٹھ رہے ہیں، وہ غیر معمولی ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے دنیا کے نام نہاد مہذب ممالک کے قول و فعل میں موجود تضاد اب فیفا کے رویوں اور اس کے رولز اینڈ ریگولیشنز میں بھی پوری طرح عیاں ہوگیا ہے۔
مقصد یہاں یہ بحث کرنا نہیں کہ کون سی ٹیم بہتر کھیل رہی ہے یا کون سی کمزور۔ کھیل کے شائقین ان تمام پہلوؤں سے بخوبی واقف ہیں۔ مثال کے طور پر مصر اور ارجنٹینا کے حالیہ میچ میں جس انداز سے ریفری کے فیصلوں نے سوالات کو جنم دیا، وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ مصری کوچ کی جانب سے نسلی امتیاز سے متعلق کیے گئے اشارے کو نظرانداز کرنا اور پھر کئی اہم مواقع پر مصر کے خلاف فیصلے دینا، غیر جانبداری کے دعووں پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔
دوسرا شرمناک واقعہ امریکہ اور بوسنیا کے درمیان ہونے والے مقابلے میں دیکھنے میں آیا۔ اس نے بھی فیفا کی غیر جانب داری پر ایک اور سنگین سوال کھڑا کر دیا۔ امریکی ٹیم کے کھلاڑی بالوگن کو ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر معطل کیا گیا تھا، مگر چند ہی دن بعد اسی سزا کو عملاً غیر مؤثر بنا کر اسے دوبارہ ٹیم میں شامل کر لیا گیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ مبینہ فیصلہ امریکی صدر ٹرمپ اور فیفا کے صدر جیانی انفانٹینو کے درمیان ہونے والی ٹیلی فونک گفتگو کے بعد سامنے آیا۔
یہ فیصلہ صرف ایک کھلاڑی کی واپسی نہیں تھا، بلکہ اس نے یہ تاثر مضبوط کیا کہ جب بات طاقتور ممالک کی آتی ہے تو قوانین کی تشریح بھی بدل جاتی ہے اور ان پر عمل درآمد بھی۔ جب قوانین طاقت کے سامنے جھکنے لگیں تو یہ صرف ایک سرخ لکیر عبور کرنا نہیں، بلکہ کھیل کی ساکھ اور اس کے بنیادی اصولوں کو مجروح کرنا بھی ہے۔
اس سے بھی زیادہ افسوس ناک رویہ ایران کی ٹیم کے ساتھ اختیار کیا گیا۔ ایک ایسے ملک کی ٹیم، جو برسوں سے شدید سیاسی دباؤ، پابندیوں اور بین الاقوامی کشیدگی کا سامنا کر رہی ہے، بڑی مشکلات کے باوجود ٹورنامنٹ میں شرکت کے لیے پہنچی۔ (دنیا تو یہی تاثر لے کر بیٹھی ہے کہ ملا رجیم کی عوام سوائے مذہبی رسومات کے بالکل فارغ ہے۔) امریکہ اور ایران کے تعلقات انتہائی کشیدہ ہونے کے باوجود ایرانی ٹیم ورلڈکپ کھیلنے کے لئے پرعزم تھی، امریکہ نے ایرانی کھلاڑیوں کو آخری لمحے میں ویزے دیے مگر انہیں امریکہ میں قیام کی اجازت نہیں ملی۔ انہیں ہر میچ کے بعد واپس میکسیکو جانا پڑتا تھا اور اگلے میچ کے لیے دوبارہ سفر کرنا پڑتا تھا۔
ذرا تصور کیجیے، فٹبال جیسا انتہائی جسمانی مشقت والا کھیل کھیلنے کے بعد، جب کسی ٹیم کو آرام، بحالی اور اگلے مقابلے کی تیاری کے لیے وقت درکار ہوتا ہے، تب وہ ہوٹل میں آرام کرنے کے بجائے مسلسل فضائی سفر پر مجبور ہو۔ ایسی صورتِ حال میں کھلاڑیوں کی جسمانی تھکن کے ساتھ ساتھ ذہنی دباؤ بھی کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔ وہ وقت، جو انہیں مشق، حکمتِ عملی اور اپنی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے ملنا چاہیے تھا، سفر کی نذر ہوگیا۔ یہ کسی بھی ٹیم کے ساتھ کھلی ناانصافی کے مترادف ہے۔
دوسری جانب یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ فٹبال کی بڑی طاقتیں اپنے کھلاڑیوں پر بے دریغ سرمایہ خرچ کرتی ہیں۔ ان کے پاس جدید سہولتیں، بہترین تربیت، عالمی معیار کے کوچز اور ہر ممکن وسائل موجود ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس عراق، ایران، اردن، مراکش اور مصر جیسے ممالک، جو برسوں سے جنگوں، سیاسی عدم استحکام یا معاشی مشکلات کا شکار رہے ہیں، کھیلوں پر اتنی سرمایہ کاری نہیں کر سکتے۔ یہی وہ ممالک ہیں جنہیں اکثر مغربی دنیا کمتر سمجھتی ہے اور جن کے بارے میں یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ یہاں سے عالمی معیار کے کھلاڑی نہیں آ سکتے۔
مگر حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ محدود وسائل، مسلسل مشکلات اور غیر مساوی حالات کے باوجود یہی ٹیمیں عالمی سطح پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہی ہیں۔ اس ٹورنامنٹ میں عراق نے شاندار کھیل پیش کیا، ایران نے غیر معمولی حوصلے کا مظاہرہ کیا، مراکش مسلسل بہترین کارکردگی دکھا رہا ہے، جبکہ مصر کے ساتھ ہونے والی ناانصافی پر بھی دنیا بھر میں سوالات اٹھ رہے ہیں۔
یہ تمام مثالیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ صلاحیت کسی ایک خطے، نسل یا معاشی طاقت کی میراث نہیں ہوتی۔ عزم، محنت اور جذبہ ہر جگہ موجود ہے، صرف مواقع اور انصاف کی ضرورت ہوتی ہے۔
اور اگر ہم واقعی کھیلوں میں انصاف اور میرٹ کی بات کرتے ہیں تو پھر ہمیں اپنے گھر کی طرف بھی دیکھنا ہوگا۔ پاکستان کے لیاری جیسے علاقے، جہاں فٹبال صرف ایک کھیل نہیں بلکہ زندگی کا حصہ ہے، وہاں کے بے شمار باصلاحیت کھلاڑی آج بھی وسائل، سرپرستی اور مواقع سے محروم ہیں۔ سوال یہ ہے کہ جب دنیا کے غریب اور جنگ زدہ ممالک کے نوجوان عالمی سطح پر اپنی صلاحیت ثابت کر سکتے ہیں تو ہم اپنے ہی ہونہار کھلاڑیوں کو کیوں نظرانداز کر رہے ہیں؟ شاید اس سوال کا جواب تلاش کرنا، دوسروں پر تنقید کرنے سے کہیں زیادہ ضروری ہے۔

