Saturday, 07 March 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Mubashir Ali Zaidi
  4. Jasoosi Digest Aur Main (2)

Jasoosi Digest Aur Main (2)

جاسوسی ڈئجسٹ اور میں (2)

جاسوسی ڈائجسٹ پبلی کیشنز میں ایڈیٹر صاحب نے مجھے کام سکھانے کے لیے حسام بٹ کے حوالے کیا تھا۔ وہ بھی اپنی طرز کے الگ ہی آدمی تھے۔ اصل نام رشید بٹ تھا لیکن حسام نام پسند فرمایا۔ بتاتے تھے کہ ح پر پیش ہے اور س پر تشدید نہیں ہے۔ اداکار حسام قاضی کے نام پر اعتراض تھا کہ اس کا تلفظ غلط کیا جاتا ہے یا نام ہی غلط ہے۔

ان دنوں وہ تیس سال کے ہوں گے۔ میانہ قد، گندمی رنگ، ہر وقت سلیقے سے بنے بال، آنکھوں پر موٹے فریم کی عینک لگاتے جس سے آنکھیں بھی موٹی لگتیں۔ چہرے پر ہر وقت سنجیدگی چھائی رہی۔ مسکراتے ہوئے اچھے لگتے تھے لیکن ہونٹوں کو اس کی زحمت کم دیتے تھے۔ اکثر ہلکے رنگوں کے قمیص شلوار پہنتے تھے۔ کبھی پینٹ شرٹ پہن کر آجاتے تو عجیب معلوم ہوتے۔

بٹ صاحب سے دنیا جہان کی باتیں ہوتیں۔ ادارے اور اس سے متعلق بیشتر باتیں انھوں ہی نے مجھے بتائیں۔ میں کام کے دوران ان سے الفاظ کا املا بھی پوچھتا جاتا کیونکہ ہر اشاعتی ادارے کی اپنی لغت ہوتی ہے۔ جیسے شکیل عادل زادہ کے سب رنگ اور احفاظ الرحمان کے جنگ میگزین میں قاعدہ تھا۔ ڈائجسٹوں کے دو مسائل تھے۔ ایک کمپوزنگ سافٹ وئیر جس میں کچھ الفاظ کو درست لکھا ہی نہیں جاسکتا تھا۔ مثلاََ لیے کو لئے لکھنا مجبوری تھی ورنہ اس کے نقطے غائب ہوجاتے تھے۔ دوسرے، کم سے کم جگہ میں زیادہ سے زیادہ مواد بھرنا۔ اس کے لیے الفاظ جوڑ کر لکھے جاتے۔ میں اسی لیے بٹ صاحب سے سوال پوچھتا رہتا اور وہ درست املا بتاتے جاتے۔ لیکن ایک لفظ دوسری بار پوچھنے پر انھیں غصہ آجاتا اور شمشیر برہنہ بن جاتے۔ عربی لفظ حسام کے معنی تلوار ہیں۔

شبینہ، بٹ صاحب اور میں سب ایڈیٹر تھے اور اصل کام پروف پڑھنا اور اغلاط درست کرنا تھا۔ لیکن ہم کہانیاں لکھتے تھے اور ترجمے بھی کرتے تھے۔ اس طرح کچھ اضافی پیسے مل جاتے۔ ایک دن بٹ صاحب نے بتایا کہ ان کے پاس ان کی چھپی ہوئی تمام کہانیاں ہیں لیکن ایک تحریر کہیں کھوگئی جس کا انھیں قلق ہے۔ میں نے ان سے مہینہ اور سال اشاعت دریافت کیا۔ میں کریم آباد اور گلشن اقبال میں پرانی کتابوں کے ٹھیلوں پر جاتا رہتا تھا۔ اگلے ہفتے گیا تو وہی ڈائجسٹ مل گیا۔ بٹ صاحب کو لاکر دیا تو بہت خوش ہوئے۔

دوپہر کا کھانا ہم ساتھ کھاتے۔ ایک کاتب بھی ہوتے جن کا نام میں بھول گیا ہوں۔ وہ ٹریسنگ پیپر کے فائنل پرنٹ پر غلطیاں درست کرتے تھے۔ آرٹسٹ شاہد حسین بھی آجاتے۔ لمبا قد، دبلا جسم، چہرے پر سندھیوں جیسی داڑھی، چہرے پر مسکراہٹ، خوب ہنسی مذاق کرتے تھے۔ ایک دن کہنے لگے، میں کھانا جلدی جلدی کھاتا ہوں۔ بیوی ابھی میز پر کھانا لگارہی ہوتی ہے کہ میں کھا بھی چکتا ہوں۔ پھر وہ ناراض ہوتی ہے۔ شاہد بھائی واقعی جلدی میں رہتے تھے۔ دنیا سے بھی جلدی رخصت ہوگئے۔

ادارے کے چار ڈائجسٹ تھے اور کام بہت تھا۔ سسپنس اور جاسوسی کے سرورق ذاکر بناتے تھے۔ پاکیزہ پر لڑکیوں کی تصویریں چھپتی تھی۔ سرگرزشت کا سرورق شاہد بھائی بناتے تھے۔ اس کے علاوہ اندر کی بہت سی تصاویر بھی۔ سب رنگ کے معیار کو چھونا بہت مشکل تھا جہاں اقبال مہدی اور انعام راجا جیسے مصوروں کے بنائے ہوئے اسکیچ چھپتے تھے۔ دوسرے ڈائجسٹوں میں ہر تصویر اوریجنل نہیں ہوتی تھی۔ بعض اوقات کاپی اور ٹریسنگ پکڑی جاتی تھی۔ شاہد بھائی کے علاوہ باری صاحب سے بھی اسکیچ بنوائے جانے لگے تھے۔

باری صاحب بھی دلچسپ کردار تھے۔ ان کا اصل کام کاپی پیسٹنگ یعنی کاپیاں جوڑنا تھا۔ سیدھے سادے مرنجاں مرنج آدمی۔ وہمی سے لگتے تھے۔ ہر وقت انگلیاں صاف کرتے رہتے جن پر گوند لگ جاتی تھی۔ وہ شاہد بھائی جیسے تو نہیں لیکن گزارے لائق اسکیچ بنالیتے تھے جو اندر کی کہانیوں پر لگائے جاتے۔ بٹ صاحب نے بتایا کہ باری صاحب کی شادی ہوئی تھی لیکن چلی نہیں۔ چھوٹا سا گھر ہے اور چھوٹی سی نوکری۔ بس اپنی بوڑھی والدہ کی خدمت میں لگے رہتے ہیں۔ میں نے اپنی پہلی کتاب کی پیسٹنگ باری صاحب سے کروائی تھی۔

ادارے میں ایک چوتھے سب ایڈیٹر یا پروف ریڈر بھی تھے جن کا ذکر میں نے ابھی تک نہیں کیا۔ انھیں ڈاکٹر صاحب کہا جاتا تھا کیونکہ ہومیوپیتھ۔ پروف ریڈنگ بھی ہومیوپیتھک قسم کی کرتے۔ میں مستقل سلسلوں کی قسط ایک دن میں پڑھ ڈالتا۔ وہ پانچ صفحے کی کہانی پانچ دن میں پڑھتے تھے۔ دن میں یہاں کی ملازمت کے بعد شام کو نیوکراچی میں کہیں کلینک کرتے تھے۔ معراج رسول صاحب کو خود بھی ہومیوپیتھی سے دلچسپی تھی۔ جب ان کی طبعیت ناساز ہوتی تو ڈاکٹر صاحب کو طلب کرتے۔ وہ معراج رسول کے پاس جاکر ان کی شکایت سنتے۔ واپس آکر اپنی دراز سے فارماکوپیا نکالتے اور دوا کا نسخہ لکھتے۔ پیٹھ پیچھے لوگ انھیں شاہی حکیم کہنے لگے تھے۔

نوے کے عشرے میں کراچی کے حالات خراب تھے۔ فائرنگ، ٹارگٹ کلنگ، بم دھماکے ہوتے رہتے تھے۔ ایک صبح میں دفتر پہنچا تو اس عمارت کا برا حال تھا۔ ملبہ بکھرا پڑا تھا۔ معلوم ہوا کہ رات کو قومی اخبار کے دفتر میں دھماکا ہوا ہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہوئی کہ اس وقت بلڈنگ میں کوئی بھی نہیں تھا۔ اخبار کا دفتر خالی تھا۔ انور فراز صاحب ویک اینڈ پر گھر جاتے تھے ورنہ پانچ دن اسی بلڈنگ میں رات گزارتے تھے۔ خوش قسمتی سے اس وقت وہ کھانا کھانے باہر گئے ہوئے تھے۔

اس دھماکے پر بہت وایلا ہوا۔ قومی اخبار کے مالک الیاس شاکرنے اسے خوب کیش کروایا۔ مذمتی بیانات تو چھپے لیکن حکومت سے تگڑی مالی امداد ملی۔ اس کے بعد انھوں نے اس بلڈنگ میں موجود تمام دفاتر کو ایک ایک کرکے خریدنا شروع کردیا۔ جاسوسی ڈائجسٹ پبلی کیشنز نے بھی بوریا بستر سمیٹا اور ڈی ایچ اے فیز ٹو ایکسٹنشن کا رخ کیا۔ میں اس سے پہلے جاب چھوڑ چکا تھا لیکن اگلی ملازمت قریب ہی ملی۔ ایکسپریس کا دفتر قیوم آباد میں قائم ہوا جو جاسوسی کے دفتر سے صرف ڈھائی تین میل دور تھا۔

جاری ہے۔۔

Check Also

Takhleeq Ka Fan

By Asif Masood