Hazrat Baba Haji Sher Muhammad Shaheed
حضرت بابا حاجی شیر محمد شہیدؒ

برصغیر پاک و ہند کی مٹی بڑی زرخیز ہے۔ یہاں کی فضاؤں میں آج بھی ان اولیاء اللہ کی خوشبو بسی ہے جنہوں نے تپتے ہوئے صحراؤں میں محبت کے چشمے جاری کیے۔ لیکن تاریخ کے نہاں خانوں میں کچھ ایسی ہستیاں بھی پوشیدہ ہیں جن کا مقام محض روایتی ولایت سے کہیں بلند ہے۔ یہ وہ نفوسِ قدسیہ ہیں جنہیں براہِ راست "فیضانِ نبوت" کی خوشبو میسر آئی۔ ایسی ہی ایک عظیم المرتبت اور یکتائے زمانہ شخصیت حضرت بابا حاجی شیر محمد شہیدؒ المعروف "دیوان چاولی مشائخ" کی ہے، جن کا تذکرہ تاریخِ اسلام اور برصغیر کی روحانی تاریخ میں ایک سنہری باب کی حیثیت رکھتا ہے۔
کچھ ہستیاں ایسی ہوتی ہیں جن کے ذکر سے قلم کی روشنائی بھی معطر ہو جاتی ہے۔ بابا حاجی شیر محمد شہیدؒ کا تعلق اس ہاشمی خانوادے سے ہے جس کی جڑیں حضرت عباس ابن عبدالمطلبؓ کی عظیم وراثت میں پیوست ہیں۔ آپ کی روحانی زندگی کا سب سے درخشندہ پہلو یہ ہے کہ آپ کو نواسۂ رسولﷺ، حضرت امام حسن مجتبیٰؓ کے دستِ مبارک پر بیعت کرنے کا وہ عظیم شرف حاصل ہوا جو آپ کو برصغیر کے دیگر تمام اولیاء سے ممتاز کرکے "عظیم تابعی رسولﷺ" کے اعلیٰ درجے پر فائز کرتا ہے۔
تاریخی اعتبار سے 131 ہجری کا عہد برصغیر میں ایک بڑے سیاسی انقلاب کا پیش خیمہ تھا۔ یہ وہ وقت تھا جب محمد بن قاسم کی فتحِ سندھ و ملتان کو تقریباً چار دہائیاں بیت چکی تھیں، لیکن ابھی بھی یہاں کی مٹی میں مقامی سرداروں کا اثر و رسوخ باقی تھا۔ اس وقت ملتان اسلامی خلافت کا حصہ تو تھا، لیکن مضافات میں راجہ داہر کے بیٹے جے سنگھ اور مقامی چھوٹی ریاستیں موجود تھیں۔ بنو امیہ کا سورج غروب ہو رہا تھا اور عباسی انقلاب دستک دے رہا تھا۔ اسی پرفتن اور تبدیلی کے دور میں بابا حاجی شیر محمد شہیدؒ نے ہاشمی غیرت کے ساتھ توحید کی شمع روشن کی اور کفر و باطل کے اندھیروں کو مٹایا۔
درگاہِ عالیہ دیوان چاولی مشائخ کی روحانی عظمت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ یہ آستانہ صدیوں سے اکابرینِ امت اور جلیل القدر اولیاء کا مرجع رہا ہے۔ روایت ہے کہ شیخ الاسلام حضرت غوث بہاؤالدین زکریا ملتانیؒ نے یہاں ایک طویل عرصہ چلہ کشی فرمائی اور اس مقام کے روحانی انوار و تجلیات سے فیض یاب ہوئے۔ اسی طرح سلطان الہند حضرت بابا فرید الدین گنج شکرؒ کی اس آستانے سے گہری عقیدت تاریخ کا حصہ ہے۔ آج بھی یہاں "بابا فرید کا کنواں" مرجعِ خلائق ہے، جہاں زائرین روحانی سکون کی تلاش میں کھنچے چلے آتے ہیں۔ درگاہ کے احاطے میں بابا فریدؒ کے خاندان کے متبرک مزارات کی موجودگی اس مقام کی قدامت اور روحانی مرکزیت کی کھلی گواہی دیتی ہے۔
روحانیت کی دنیا میں کچھ نشانیاں ایسی ہوتی ہیں جو زمان و مکاں کی قید سے آزاد ہوتی ہیں۔ آپ کے آستانے پر موجود وہ "آسا مبارک" جو حضرت خواجہ اویس قرنیؒ کی نسبت سے آپ کو عطا ہوا، محض ایک لکڑی کا ٹکڑا نہیں بلکہ اس اویسی فیض کی علامت ہے جو صدیوں کا فاصلہ مٹا کر آپ تک پہنچا۔ 125 سال کی طویل عمر پانے والی اس ہستی نے اپنی زندگی کا ہر لمحہ اشاعتِ دین اور انسانیت کی خدمت کے لیے وقف کر دیا تھا۔ اس آستانے کی کشش کا یہ عالم تھا کہ لعل شہباز قلندرؒ کی وجدانی کیفیت ہو یا دیگر نامور مشائخِ عظام، سب نے یہاں حاضری کو اپنے لیے سعادت سمجھا اور یہاں سے "اویسیہ فیض" حاصل کیا۔ یہاں تک کہ انسانیت اور امن کی تلاش میں نکلے ہوئے سکھ مت کے بانی گرو نانک بھی یہاں قیام پذیر رہے اور اس دربار کی روحانیت سے متاثر ہوئے۔
آپ کی شہادت کا واقعہ حق و صداقت کی وہ داستان ہے جسے 27 رمضان المبارک کی مقدس رات نے اپنی آغوش میں محفوظ کر رکھا ہے۔ 131 ہجری کی وہ رات جب آپ نے جامِ شہادت نوش فرمایا، دراصل برصغیر میں اسلام کی جڑوں کو اپنے خون سے سینچنے کا عمل تھا۔ آپ کا ہاشمی نسب اور اویسیہ ہاشمی خاندان کی نیابت وہ حقیقت ہے جسے وقت کے سرد و گرم اور عدالتی ایوانوں نے بھی تسلیم کیا ہے۔
آج بھی اس آستانے سے فیضِ الٰہی کا چشمہ اسی طرح جاری و ساری ہے اور زائرین کی روح کو منور کر رہا ہے۔ اس عظیم المرتبت ہستی کے دو عرس مبارک بڑے عقیدت و احترام سے منعقد کیے جاتے ہیں۔ پہلا اور اصل عرس مبارک 27 رمضان المبارک کی مبارک ساعتوں میں ہوتا ہے، جب پورے دربار پر ایک عجیب نورانی کیفیت طاری ہوتی ہے۔ اس دوران آستانہ عالیہ پر عبادات کا خصوصی اہتمام ہوتا ہے اور درود و سلام کی دلآویز صدائیں فضاؤں کو معطر کرتی ہیں۔ اس کے علاوہ ہر سال 8، 9 اور 10 جولائی کو بھی عرس مبارک کی تقریبات نہایت تزک و احتشام سے منعقد ہوتی ہیں، جن میں شرکت کے لیے نہ صرف ملک بھر سے بلکہ بیرونِ ملک سے بھی ہزاروں عقیدت مند کھنچے چلے آتے ہیں۔ یہ بین الاقوامی سطح کا اجتماع اس بات کی گواہی ہے کہ آپ کا فیض آج بھی سرحدوں کی قید سے آزاد ہو کر انسانیت کی رہنمائی کر رہا ہے۔
آج اس ہاشمی وراثت اور عظیم آستانے کی خدمت کا فریضہ موجودہ سجادہ نشین دیوان پیر غلام مصطفٰی اویس اور صاحبزادہ دیوان پیر طارق اویس ہاشمی نہایت وقار اور تقویٰ سے انجام دے رہے ہیں۔ ان ہی کی زیرِ قیادت یہ آستانہ آج بھی لاکھوں عقیدت مندوں کے لیے مشعلِ راہ بنا ہوا ہے، جہاں سے حبِ رسولﷺ اور اتباعِ اہل بیتؓ کا درس عام ہو رہا ہے۔ پیر انتظار حسین مصور کی یہ مدلل اور تحقیقی تحریر ناصرف تاریخ کی درستی کرتی ہے بلکہ نئی نسل کو ان عظیم ہستیوں کے روحانی مقام اور برصغیر میں اسلام کی قدیم جڑوں سے بھی روشناس کراتی ہے۔ بابا حاجی شیر محمد شہیدؒ کی زندگی استقامت، علم اور ہاشمی وراثت کا وہ انمول باب ہے جو تا قیامت اہل حق کے دلوں کو گرماتا رہے گا۔

