Ehtesab Ya Intiqam? Pakistan Ki Siasat Ka Purana Khel
احتساب یا انتقام؟ پاکستان کی سیاست کا پرانا کھیل

پاکستان میں احتساب کا موضوع ہمیشہ سے سیاسی مباحثوں کا مرکز رہا ہے۔ ہر دور میں حکومتیں بدعنوانی کے خاتمے کے نام پر نئے قوانین اور ادارے قائم کرتی رہی ہیں، لیکن عملی طور پر یہ سوال آج بھی موجود ہے کہ آیا یہ اقدامات حقیقی احتساب کے لیے تھے یا سیاسی مخالفین کو دبانے کے لیے۔ حالیہ دنوں میں قومی احتساب آرڈیننس 1999 میں ایک بار پھر ترامیم منظور کی گئی ہیں یہ ترامیم ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب حکومت اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان اس بل پر اختلافات موجود تھے، تاہم بعد ازاں دونوں فریقین کے درمیان معاملات طے پا گئے اور بل کی منظوری کی راہ ہموار ہوگئی۔ دوسری جانب حزب اختلاف، خصوصاً پاکستان تحریک انصاف نے ان ترامیم کی سخت مخالفت کی۔
یاد رہے جب تحریک انصاف کی حکومت اسی قانون میں ترامیم کے لیے پارلیمنٹ سے رجوع کرتی تھی تو مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت حکومتِ وقت کے خلاف تقریباً یہی مؤقف اختیار کرتی تھی جو آج تحریک انصاف کر رہی ہے۔ اسی طرح اس وقت کی حکومت اپوزیشن کے اعتراضات کا مذاق اڑایا کرتی تھی، جیسا کہ آج کی حکومت کرتی دکھائی دیتی ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان کی سیاست میں اصول نہیں بلکہ اقتدار کا زاویہ تبدیل ہوتا ہے۔
پاکستان کی تقریباً تمام بڑی سیاسی جماعتیں اس امر پر متفق رہی ہیں کہ قومی احتساب آرڈیننس 1999 جو جنرل پرویز مشرف کے دور میں نافذ کیا گیا تھا اور اس کا بنیادی مقصد اس وقت کی سیاسی قیادت، خصوصاً نواز شریف اور بے نظیر بھٹو پر دباؤ ڈالنا تھا۔ مگر افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ جن جماعتوں نے اس قانون کو"کالا قانون"قرار دیا، وہی جماعتیں اقتدار میں آنے کے بعد اسے ختم کرنے کی بجائے مزید مضبوط بناتی رہیں۔
اگر پاکستان میں احتسابی قوانین کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ سلسلہ دراصل برطانوی دور سے شروع ہوتا ہے۔ تعزیراتِ پاکستان 1860 میں بدعنوانی، جعلسازی، دھوکہ دہی اور سرکاری فنڈز میں خیانت جیسے جرائم کے لیے واضح دفعات موجود تھیں۔ اس کے بعد 1947 میں"کرپشن روک تھام ایکٹ"نافذ کیا گیا جس کا مقصد رشوت، ناجائز اثاثوں اور سرکاری اختیارات کے غلط استعمال کے خلاف کارروائی کرنا تھا۔ بعد ازاں صوبائی اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹس بھی اسی قانون کے تحت کام کرتی رہیں۔ ایوب خان کے دور میں احتساب کے نام پر دو اہم قوانین متعارف کرائے گئے۔ پبلک آفسز نااہلی آرڈر (پوڈو) اور الیکٹیو باڈیز نااہلی آرڈر (ای بی ڈی او) کے ذریعے سیاستدانوں اور سرکاری عہدیداروں کو بدعنوانی کے الزامات پر نااہل قرار دینے کا اختیار دیا گیا۔
اسی طرح ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں وفاقی تحقیقاتی ایجنسی ایکٹ 1974 کے تحت ایف آئی اے قائم کی گئی جسے مالی جرائم اور سرکاری فراڈ کی تحقیقات کا اختیار دیا گیا۔ ضیاء الحق کے دور میں بھی احتساب کے نام پر قوانین متعارف کروائے گئے اور خصوصی احتسابی عدالتیں قائم کی گئیں۔ 1990 کی دہائی میں نواز شریف دور حکومت میں احتساب بیورو اور احتساب ایکٹ 1997 سامنے آئے، جبکہ جنرل مشرف کے دور میں قومی احتساب آرڈیننس 1999 کے تحت نیب کا قیام عمل میں آیا۔ اس ادارے کو سیاستدانوں، بیوروکریٹس اور کاروباری شخصیات کے خلاف بدعنوانی کے مقدمات چلانے کا اختیار دیا گیا۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ ان تمام ادوار کے باوجود تعزیراتِ پاکستان میں بدعنوانی سے متعلق بنیادی قوانین پہلے ہی سے موجود تھے۔ مثال کے طور پر رشوت ستانی کے خلاف سیکشن 161 سے 165 تک دفعات، سرکاری اختیارات کے غلط استعمال کے خلاف سیکشن 166 سے 169 تک، سرکاری اعتماد میں خیانت کے لیے سیکشن 409، جبکہ فراڈ اور جعلسازی کے لیے سیکشن 420 اور 467 سے 471 تک واضح قانونی شقیں موجود ہیں۔ اس کے باوجود ہر حکومت نے احتساب کے نام پر نئے ادارے اور قوانین متعارف کروانے کو ترجیح دی۔
آئینی و قانونی ماہرین کے مطابق جب بنیادی فوجداری قوانین میں بدعنوانی کے خلاف واضح دفعات موجود ہوں تو بار بار نئے احتسابی ادارے قائم کرنے کا مقصد اکثر سیاسی ہوتا ہے۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ اقتدار میں آنے والی حکومتیں احتساب کے نام پر مخالفین کو نشانہ بناتی رہی ہیں۔ جب یہی جماعتیں اپوزیشن میں جاتی ہیں تو وہی قوانین انہیں آمرانہ اور انتقامی محسوس ہونے لگتے ہیں۔
یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ احتساب کے نام پر قائم کیے گئے اداروں اور مقدمات پر جتنا مالی و انتظامی خرچ ہوا، شاید اتنی رقم ملزمان سے برآمد بھی نہ ہو سکی ہو۔ اس سے نہ صرف اداروں کی ساکھ متاثر ہوئی بلکہ احتساب کے تصور پر بھی سوالات اٹھنے لگے۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان کی تمام سیاسی جماعتیں ماضی سے سبق سیکھیں۔ احتساب کو سیاسی انتقام کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی بجائے اسے ایک شفاف اور غیر جانبدار نظام بنایا جائے۔ اس مقصد کے لیے ضروری ہے کہ موجودہ متنازع احتسابی قوانین اور اداروں کا ازسرنو جائزہ لیا جائے اور اگر ممکن ہو تو انہیں ختم کرکے تعزیراتِ پاکستان میں موجود قوانین کو مؤثر انداز میں نافذ کیا جائے۔
اگر واقعی بدعنوانی کا خاتمہ مقصود ہے تو قانون سازی کا مقصد سیاسی مفادات نہیں بلکہ ریاستی انصاف ہونا چاہیے۔ ورنہ احتساب کا یہ نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہمیشہ کی طرح سیاسی انتقام کی شکل اختیار کرتا رہے گا۔

