Ghaza Board Of Peace Ka Pehla Ijlas, Khadshat o Tawaquat
غزہ بورڈ آف پیس کا پہلا اجلاس، خدشات وتوقعات

غزہ بورڈ آف پیس کا پہلا باضابطہ اجلاس گزشتہ روز جمعرات کو واشنگٹن میں امریکہ کی میزبانی میں منعقد ہوا، جس میں پاکستان سمیت 47 ممالک کے نمائندگان نے شرکت کی۔ امریکی صدر نے اجلاس کو بتایا کہ بورڈ میں شامل ممالک نے غزہ کے لیے ایک بڑے ریلیف پیکیج کا اعلان کیا ہے، جس کے لیے 60 ارب ڈالر سے زائد رقم فراہم کیے جانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ فنڈ دینے والے ممالک میں قازقستان، آذربائیجان، متحدہ عرب امارات، مراکش، بحرین، قطر، سعودی عرب، ازبکستان اور کویت شامل ہیں۔ بظاہر یہ اقدام ایک انسانی ہمدردی پر مبنی کوشش دکھائی دیتا ہے، تاہم اگر اس کے پس منظر اور خدوخال کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو کئی سنگین سوالات جنم لیتے ہیں۔
یہ بات خاص طور پر قابلِ غور ہے کہ برطانیہ، کینیڈا، فرانس اور جرمنی جیسے امریکہ کے قریبی اور روایتی اتحادی ممالک نے اس بورڈ آف پیس میں شامل ہونے سے صاف انکار کر دیا ہے۔ ان ممالک کی عدم شمولیت خود اس بورڈ کی غیر جانبداری، شفافیت اور اصل مقاصد پر سوالیہ نشان ہے۔ اگر واقعی یہ ایک خالصتاً انسانی اور امن پر مبنی فورم ہوتا تو مغربی طاقتیں اس سے الگ رہنے کے بجائے اس کی قیادت کرتیں، مگر ان کا پیچھے ہٹ جانا اس امر کی علامت ہے کہ معاملہ محض تعمیرِ نو تک محدود نہیں۔
بورڈ آف پیس کو غزہ پر عبوری حکومت جیسے اختیارات دیے گئے ہیں، جن میں غزہ کی تعمیرات کی نگرانی، انتظامی معاملات کی دیکھ بھال، غزہ کو شدت پسندوں سے پاک کرنا اور بالخصوص حماس کو غیر مسلح کرنا شامل ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں سے اس بورڈ کی اصل نوعیت واضح ہو جاتی ہے۔ پاکستان کے وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے اس حوالے سے نہایت واضح اور دو ٹوک موقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان حماس کو غیر مسلح کرنے کے کسی بھی منصوبے کا حصہ نہیں بنے گا۔ پاکستان صرف امن کے قیام، انسانی امداد اور سماجی خدمات کے دائرے میں تعاون کے لیے تیار ہے، نہ کہ کسی مزاحمتی قوت کو زبردستی ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنے کے لیے۔
دوسری جانب اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہونے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ غزہ میں اس وقت تک تعمیراتی کام شروع نہیں کیا جائے گا جب تک غزہ کو مکمل طور پر غیر مسلح نہ کر دیا جائے۔ یہ بیان خود اس بات کا ثبوت ہے کہ تعمیرِ نو کو ایک دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس کے جواب میں حماس نے بھی اپنا مؤقف پوری وضاحت سے بیان کیا ہے کہ جب تک اسرائیلی فوج غزہ سے مکمل انخلا نہیں کرتی، اس وقت تک غیر مسلح ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
وزیراعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے نہایت متوازن اور اصولی موقف اختیار کیا۔ انہوں نے کہا کہ غزہ کی تعمیرِ نو سے پہلے سب سے اہم مسئلہ وہاں کے عوام کی جانوں کا تحفظ ہے۔ انہوں نے مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کے قیام کے لیے جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کو روکنے، فلسطینی عوام کو ان کی سرزمین پر مکمل حق دینے اور اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام پر زور دیا۔ یہ موقف نہ صرف پاکستان کی خارجہ پالیسی کی عکاسی کرتا ہے بلکہ مسلم دنیا کے اجتماعی جذبات کی بھی ترجمانی ہے۔
اگر منصفانہ اور غیر جانبدار تجزیہ کیا جائے تو یہ حقیقت کھل کر سامنے آتی ہے کہ جب تک اسرائیل خود اس امن بورڈ کا حصہ ہے، اس وقت تک غزہ میں حقیقی امن کا قیام ممکن نہیں۔ کئی ماہ گزر جانے کے باوجود جنگ بندی کے دعوؤں کے برعکس غزہ میں روزانہ نہتے اور معصوم شہریوں پر بمباری کی جا رہی ہے۔ نہ اسپتال محفوظ ہیں، نہ اسکول، نہ پناہ گزین کیمپ اور نہ ہی رہائشی عمارتیں۔ ہر طرف لاشیں، ملبہ اور انسانی المیہ بکھرا ہوا ہے۔
ایسے خون آشام حالات میں امن کے نام پر اس بورڈ کا قیام محض ایک نمائشی اور سیاسی ڈرامہ محسوس ہوتا ہے۔ اگر اسرائیل اپنی جارحیت بند نہیں کرتا اور اسی شدت کے ساتھ انسانی جانوں کا خون بہاتا رہتا ہے تو اس بورڈ کی موجودگی درحقیقت مظلوم فلسطینیوں کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔ اس بورڈ کی ساخت، اختیارات اور اہداف بذاتِ خود اس بات کا ثبوت ہیں کہ اصل مقصد امن نہیں بلکہ فلسطینی مزاحمت کو کمزور کرنا ہے۔
پاکستان کا مؤقف اس معاملے میں بالکل واضح اور دوٹوک ہے۔ پاکستان امن کا داعی ضرور ہے، لیکن کسی بھی ایسے منصوبے کا حصہ نہیں بن سکتا جو مظلوم قوم کے حقِ مزاحمت کو ختم کرنے کے لیے بنایا گیا ہو۔ یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ دنیا کے کس قانون اور کس اخلاقی اصول کے تحت ایک قابض طاقت کو منصف بنا دیا جائے اور مظلوم فریق کو غیر مسلح ہونے کا حکم دیا جائے اس طرح کے فیصلے انصاف نہیں بلکہ طاقت کی بالادستی کی بدترین مثال ہوتے ہیں۔
اگر اسرائیل اور امریکہ واقعی غزہ میں امن چاہتے ہیں تو انہیں سب سے پہلے جارحیت بند کرنا ہوگی، محاصرہ ختم کرنا ہوگا اور فلسطینی عوام کو آزادی کے ساتھ جینے کا حق دینا ہوگا۔ محض حماس کو غیر مسلح کرنے پر اصرار دراصل مسئلے کے حل کے بجائے مسئلے کو مزید گھمبیر بنانے کے مترادف ہے۔ ایسے میں نہ صرف پاکستان بلکہ تمام مسلم ممالک پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس معاملے پر گہری نظر رکھیں، اجتماعی حکمتِ عملی اپنائیں اور کسی بھی یکطرفہ فیصلے کی سخت مخالفت کریں۔
دہشت گردی چاہے کہیں بھی ہو اور کسی کے ہاتھوں بھی ہو، ناقابلِ قبول ہے، لیکن اگر اسے امن کے نام پر جواز فراہم کیا جائے تو یہ دوہرا معیار اور کھلی منافقت ہے۔ پاکستان اس دوہرے معیار کو مسترد کرتا ہے۔ پاکستان امن کا علمبردار ہے، مگر اپنے مظلوم مسلمان بھائیوں پر مزید ظلم و ستم برداشت نہیں کرے گا اور نہ ہی ان سے حقِ دفاع چھینے جانے کو قبول کرے گا انصاف کا تقاضا یہ ہےکہ اسرائیل کو غزہ بورڈ آف پیس سے الگ کرکے ایک منصفانہ بورڈ قائم ہونےکاثبوت دیاجائے تاکہ غزہ کے مظلوموں انسانوں کو اپنی مکمل آزادی کے ساتھ جینےکا حق دیاجائے۔

