Monday, 16 March 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Nusrat Sarfaraz
  4. Hain Kawakib Kuch

Hain Kawakib Kuch

ہیں کواکب کچھ

"میں نے انھیں کبھی ملازم یا غیر نہیں سمجھا۔۔ ویسے بھی یہ میرے دور کے چچا ہیں۔۔ تو بس۔۔ سمجھیں گھر کے فرد ہی ہیں۔۔"بشیر نے عاجزی سے کہا۔

حمزہ کچھ دن پہلے ہی اس کالونی میں شفٹ ہوا تھا۔ یہ پارک اس کے گھر سے کافی قریب تھا لہذا موقع کا فائدہ اٹھا کر اس نے بھی ایوننگ واک شروع کر دی تھی۔ وہ کئی دن سے ان کو دیکھ رہا تھا۔ وہ اسی سالہ بزرگ چھ سالہ بچے کے ساتھ اکثروہاں آتے تھے۔ بچہ کافی انرجیٹک تھا کبھی ادھر ادھر بھاگتا، جھولوں پر لٹک جاتا تو کبھی اپنی گیند کو پوری طاقت سے ہٹ کرتا۔ بزرگ لنگڑاتے لڑکھڑاتے اس کے پیچھے بھاگتے۔ حمزہ کو ان سے بڑی ہمدردی محسوس ہوتی بزرگ حلیے سے نوکر لگتے تھے مگر حمزہ کو حیرت ہوتی کہ اتنے عمر رسیدہ شخص کو اتنے چلبلے بچے کا نو کر کیوں بنا دیا گیا ہے۔

آج ان دونوں کے ساتھ ایک درمیانی عمر کے مرد کو دیکھ کر حمزہ ان کے پاس رک گیا۔ رسمی علیک سلیک کے بعد حمزہ نے ان سے بزرگ کے بارے میں پوچھا تو بشیرنے تفصیلی جواب دیا۔

"اپنی زوجہ کے انتقال کے بعد یہ تو تنہا رہ گئے تھے۔۔ کوئی نہ تھا جو ان کا خیال رکھتا۔۔ میرا دل بہت دکھی ہوا۔۔ میری بیگم بھی بڑی نرم طبعیت کی ہیں۔۔ بلکہ انہوں نے ہی مجھ سے کہا کہ انھیں اپنے ساتھ رکھ لیں۔۔ بس جب سے حمید بابا ہمارے ساتھ ہیں۔۔ گھر کا چھوٹا موٹاکام کر دیتے ہیں۔۔ یہ میرا سب سے چھوٹا بیٹا۔۔ ایان۔۔ یہ تو ان سے بہت اٹیچ ہے۔۔"

حمزہ نے ایان کی طرف دیکھا جو حمید بابا کے سر پر گیند مارنے کی کوشش کر رہا تھا۔

"اچھا۔۔ اچھا۔۔ اصل میں میں یہاں حال ہی میں شفٹ ہوا ہوں۔۔ بلاک سی میں۔۔ آپ کی رہائش کہاں ہے؟"

حمزہ نے پوچھا

"بلاک اے میں۔۔ یہ اس پارک کے بالکل سامنے جو سفید گھر ہے۔۔ وہ ہی میرا گھر ہے۔۔"

حمزہ کو وہ سفید گھر یاد تھا۔ کافی اچھا گھر تھا۔

***

"آپ کے ڈیڈ بھی نا۔۔"

سارہ کچھ کہتے کہتے رک گئی اور منہ ہی منہ میں کچھ بڑ بڑائی۔ رافع نے اس کی بڑ بڑا ہٹ سن لی مگر نظر انداز کر گیا۔

"پاکستان میں تو سب کو لگتا ہے یہاں درختوں پر پیسہ اگتا ہے۔۔ بس گئے اور توڑ لائے۔۔"

سارہ کا غصہ بڑھ رہا تھا۔ اس ماہ میں یہ تیسر ی لسٹ تھی جو واٹس آپ پر بھیجی گئی تھی۔

"بات سنیں۔۔ آپ کے ڈیڈ کو شوگر ہے نا؟ پھر وہ اتنی چاکلیٹس کا کیا کریں گے؟"

رافع نظر چرا کر بولا "نہیں۔۔ ڈیڈ کو شوگر نہیں ہے۔۔ بی پی کا ایشو ہے مگر۔۔ شوگر نہیں ہے۔۔ وہ میٹھے کے شوقین ہیں۔۔ بس اسی لئے کہہ دیتے ہیں۔۔"

سارہ تلملا کر رہ گئی۔

"شوقین کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ بندہ چاکلیٹ کے ڈبے کے ڈبے کھا جائے۔۔ صحت کے لئے بھی نقصان دہ ہے"۔

رافع خاموشی سے اپنے موبائل میں دیکھتا رہا۔

***

"حمید بابا۔۔ او حمید بابا۔۔"

بشیر کی بیوی صبا نے صوفے پر بیٹھے بیٹھے آواز لگائی۔

"بڑے میاں کے کان تو بالکل ہی فارغ ہو گئے ہیں۔۔ پتہ نہیں اس نے موٹر بند کی یا نہیں۔۔ پرسوں بھی ٹینک بھر گیا تھا اور پورچ میں پانی پانی ہوگیا تھا"

اس نے صوفے سے اترتے ہوئے پھر پکارا مگر کوئی جواب نہ آیا

"حمید بابا۔۔"

اب کی بار وہ ان کے کان پر جا کر چلائی۔

"کیا بدتمیزی ہے یہ۔۔"

حمید بابا جو اخبار کے مطالعہ میں غرق تھے صبا کی اس حرکت پر پہلے تو اچھل پڑے اور پھر ناراض ہو گئے۔

"لو۔۔ پھر ان کے دماغ کا سوئچ آن ہوگیا۔۔"

وہ سر کھجاتے ہوئے دھیمی آواز میں بولی

"کیا کہا۔۔ بھئی زور سے بولا کرو۔۔ جانتی تو ہو کہ ہمیں کم سنائی دیتا ہے۔۔"

اس بار حمید بابا اس کے آہستہ بولنے پر خفا ہوئے۔

"میں پوچھ رہی تھی آپ نے بلڈ پریشر کی دوا کھالی؟"

صبا نے موٹر والے بات گول کر دی۔

"ہاں۔۔ ہاں۔۔ کھالی۔۔ جاو یہاں سے۔۔ اخبار پڑھنے دو۔۔"

حمید بابا نے ناگواری سے کہا اور اخبار منہ کے آگے کر لیا اگر وہ اخبار سے نظر ہٹا کر صبا کے چہرے کو دیکھتے تو اس کے غصہ پر یقیناََ ًحیران ہوتے۔

***

رافع کو پولینڈ آئے کئی سال گزر چکے تھے۔

اس کی بڑی بہن قدسیہ جرمنی میں تھی۔ دو ہی بہن بھائی تھے اور دونوں ہی مختلف دنیا کے باسی تھے۔ پاکستان تو اب خواب و خیال لگتا تھا۔ بڑی بہن شروع کے کچھ سال پاکستان آتی رہیں مگر وقت کے ساتھ ساتھ یہ آمد سالوں پر محیط ہوگئی اور اب کئی سال سے پاکستان سے رابطہ محض عید مبارک کے پیغامات تک محدود ہو کر رہ گیا تھا۔ رافع یوں بھی اپنی دنیا میں مگن رہنے والا انسان تھا۔ رہی سہی کسر سارہ نے پوری کردی۔

"وہاں اور لوگ بھی ہیں۔۔ ان کے بہن بھائی۔۔ نوکر چاکر۔۔ تمہارے والدین کا خیال رکھ رہے ہیں۔۔ ہمیں اپنے فیوچر پر فوکس کرنا چاہئے۔۔"

سارہ کے والدین یہیں پولینڈ میں مقیم تھے لہذا پاکستان میں اس کے لئے کو ئی کشش نہ تھی وہ با ر بار رافع کو باور کرواتی اور باآخر رافع کے ذہن میں بھی یہ بات راسخ ہوگئی۔

"ٹھیک کہتی ہو تم۔۔ وہاں تو سب ہیں۔۔ کوئی نہ کوئی دیکھ ہی لیتا ہوگا۔۔ ہمیں اپنے بچوں کے لئے کام کرنا ہے۔۔"

[زندگی بھی عجیب شے ہے۔ انسان کو اپنی اولاد سے بڑا پیار ہوتا ہے مگر وہ یہ نہیں سوچتا کہ میں بھی کسی کی اولاد ہوں۔ جیسے میرا دل اپنی اولاد کی لئے تڑپتا ہے ایسے ہی میرے والدین کا دل میرے لئے تڑپتا ہوگا].

رافع کی ماں بھی اپنے بچوں کی یاد میں دن رات تڑپتی۔۔ کبھی پوتا پوتی کی تصویر دیکھتی تو کبھی نواسا نواسی کی۔۔

"کیوں بار بار خود کو تکلیف دیتی ہو۔۔ وہ اپنی دنیا میں مگن ہو گئے ہیں۔۔ بھول چکے ہیں۔۔ تم بھی بھول جاؤ۔۔"

جب جب اس کے شوہر اس کو تصویروں کا البم لئے دیکھتے یہ ہی کہتے۔

"بھول جاؤں؟ اپنے ہی جسم کے حصوں کو بھول جاؤں۔۔ ایسا کیسے ممکن ہے اور میرے بچے مجھے بھولے نہیں ہیں۔۔ بس بے چارے مصروف ہیں۔۔"

مگر بچے دنیا کی رنگینوں میں گم تھے۔۔ اتنے گم کہ ماں کی بیماری پر بھی نہ آسکے اور ایک دن یہ جدائی ان کی ماں کی جان لے گئی۔

"رافع۔۔ امی۔۔ امی نہیں رہیں۔۔"

قدسیہ آپا نے کال کی تھی۔ ایک لمحے کو رافع کی سانس سی رک گئی۔

"میں شام کی فلائٹ سے جا رہی ہوں۔۔ سعد اور بچے تو نہیں جا سکیں گے۔۔ تم کو تو معلوم ہے یہاں سے جانے میں کتنے مسئلے ہوتے ہیں۔۔ لاکھوں روپے خرچ ہو جاتے ہیں۔۔ اسی لئے۔۔"

اگلی فلائٹ سے سارہ اور رافع بھی وطن پہنچ گئے۔

"اب کیوں آئے ہو؟ جب وہ تڑپ تڑپ کر بلاتی تھی تب تو ٹائم نہیں تھا۔۔ جب وہ مر گئی تو بھاگے چلے آئے۔۔ مگر کیا فائدہ۔۔"

دونوں بہن بھائی سر جھکائے سنتے رہے۔

"پاپا۔۔ اب آپ اکیلے۔۔ کیسے رہیں گے؟"

قدسیہ کو اب باپ کی فکر لاحق تھی۔

"رہ لوں گا۔۔ بہت آرام سے رہ لوں گا۔۔ جاؤ تم دونوں۔۔"

"پاپا آپ ہمارے ساتھ چلیں۔۔"

رافع نے کہا مگر پاپا نہیں مانے۔

بیوی کے انتقال کی صدمے سے ان کا دل پتھر ہو چکا تھا۔ بچے بھی کب رکنا چاہتے تھے۔ مگر ایسے چھوڑ کر جانا بھی مشکل تھا۔ بالا آخر قدسیہ نے اپنی ایک سہیلی کے توسط سے ایک کل وقتی نو کر کا انتظام کر دیا۔

"پاپا۔۔ مجھے پتہ ہے آپ ہم سے ناراض ہیں۔۔ مگر ہم مجبور ہیں۔۔ واپس نہیں آ سکتے۔۔"

قدسیہ کی آنکھوں میں آنسو تھے اور باپ کی کمزوری بیٹی کے آنسو ہی تو ہوتے ہیں۔

"میں نے آپ کے لئے سرونٹ کا انتظام کر دیا ہے۔۔ یہ دن رات یہاں رہے گا۔۔ آپ کا خیال رکھے گا۔۔ آپ وعدہ کریں اس کو نہیں نکالیں گے اور اپنا خیال رکھیں گے"۔

قدسیہ نے جب اس کے شانے پر سر رکھا تو وہ انکار نہ کر سکا، یوں دونوں بہن بھائی اپنا فرض پورا کرکے واپس لوٹ گئے۔

***

حمزہ اکثر بشیر کے گھر کے سامنے سے گزرتا۔ کبھی کبھی بشیر سے ہیلو ہائے بھی ہو جاتی۔ وہ اکثر حمید بابا کو بھی دیکھتا اور بشیر کی خدا ترسی سے متاثر ہوتا۔ حمید بابا گھر کے لان میں نظر آتے کبھی پودوں کو پانی دیتے ہوئے، کبھی بچوں کے ساتھ کھیلتے ہوئے۔ ایک دو بار تو حمزہ نے انھیں کرسی پر بیٹھے مطالعہ کرتے ہوئے بھی پایا۔ ان کو دیکھ کر ایسا بالکل نہیں لگتا تھا کہ وہ اس گھر کے فرد نہیں بلکہ کوئی پناہ گزین یا ملازم ہیں۔

"آپ جیسے لوگ دنیا میں کم ہی ہیں بشیر بھائی۔۔ ورنہ لوگ تو اپنے سگے ماں باپ کو چھوڑ دیتے ہیں اور آپ نے رشتے کی چچا کو اتنے مان کے ساتھ رکھا ہوا ہے۔۔"

بشیر انکساری سے سر جھکا کر مسکرا دیتا۔

***

"عجیب بات ہے۔۔"

رافع حیرت سے فون کی طرف دیکھ کر بولاسارہ کافی دیر سے اس کو دیکھ رہی تھی وہ پاکستان میں اپنے پاپا سے بات کر رہا تھا۔

"کیا ہوا؟"

اس نے پوچھا

"پاپا مجھے پہچانے ہی نہیں۔۔ میں نے بتایا بھی کہ میں رافع بات کر رہا ہوں مگر وہ کہتے رہے کون رافع۔۔"

سارہ اٹھ کر اس کے پاس آ بیٹھی۔

"تم بھی ہر بات پر پریشان ہو جاتے ہو۔۔ بڑھاپا ہے۔۔ بھول گئے ہوں گے۔۔ یا خفا ہوں گے۔۔"

"نہیں سارہ۔۔ بات پریشانی کی ہے۔۔ قدسیہ آپا کے ساتھ بھی وہ ایسا کر چکے ہیں۔۔ وہ آپا کو بھی بھول گئے تھے۔۔"

رافع کی پریشانی بڑھ رہی تھی۔

"فرمائشیں کرنا تو نہیں بھول رہے۔۔"

سارہ چڑ سی گئی۔ یہ بات بھی رافع کے لئے عجیب تھی۔

کچھ ماہ سے پاپا مختلف چیزوں کی لسٹ بنا کر واٹس ایپ پر ٹیکسٹ کرنے لگے تھے۔ چاکلیٹس، ٹی شرٹس، پرفیومز۔۔ یہ سب وہ پہلے کبھی نہیں مانگتے تھے۔

حد تو یہ ہوئی کہ انھوں نے قدسیہ کو بھی میک آپ کے سامان کی لسٹ بھیجی تھی۔ وہ واٹس ایپ پر بات بھی کم ہی کرتے تھے اور جب کرتے تو الجھی ہوئی بے ربط باتیں کرتے۔ رافع اور قدسیہ دونوں حیران تھے۔

***

"رافع۔۔ کچھ تو گڑ بڑ ہے۔۔ میں کال کرتی ہوں تو کوئی نہیں اٹھا تا مگر جیسے ہی ٹیکسٹ میسج کرتی ہوں فوراً جواب آ جاتا ہے۔۔ حالاں کہ پاپا ٹیکسٹ کرنے سے کتنا الجھتے تھے اور اب۔۔ اب وہ صرف ٹیکسٹ کرنے لگے ہیں۔۔ رافع۔۔ تم پلیز پاکستان کا چکر لگا لو۔۔ دیکھو تو کیا معاملہ ہے۔۔"

قدسیہ نے رافع سے کہا "ٹھیک ہے۔۔ میں نیکسٹ ویک نکلوں گا۔۔ مگر آپ پاکستان خبر نہ کیجئے گا۔۔ اچانک جا کر ہی پتہ چلے گا کہ کیا سلسلہ ہے۔۔"

وہ خود بھی فکر مند تھا لہذا اس نے سارہ کی ناراضگی کی پرواہ کئے بغیر پاکستان جانے کا فیصلہ کر لیا۔

***

"بھلی لوگ۔۔ اب ایسا بھی نہ کر اس کے ساتھ۔۔" بشیر نے اپنی بیوی کو سرزنش کی۔

"لے۔۔ میں نے کیا کیا ہے؟ وہ خود ہی زویان کا بابا بن گیا ہے تو میں کیا کروں۔۔ میں تو کسی کام کا بھی نہیں کہتی۔۔ اسی کی مر ضی ہے۔۔ کبھی مالک بن جاتا ہے کبھی نو کر۔۔"

صبا بھی کہاں ماننے والے تھی حالاں کہ جب جب موقع ملتا وہ حمید بابا سے خوب کام کروا لیتی آج کل تو حمید بابا کچھ زیادہ ہی سرگرم تھے۔ بڑھاپے کے ہاتھوں مجبور ہو جاتے تو رک جاتے ورنہ سارا سارا دل گھر کے کاموں میں لگے رہتےاور زویان تو پلا ہی ان کے ہاتھوں میں تھا۔ نجانے اپنی کس کس محرومی کا ازالہ زویان کی شکل میں کرتے تھے۔ زویان ان کو بھگا بھگا کر ہلکان کر دیتا مگر وہ ہانپتے کانپتے اس کے ساتھ لگے رہتے۔

"محلے پڑوس کے لوگ باتیں بنائیں گے۔۔ ذرا دھیان رکھا کر۔۔ کسی نے آگے خبر پہنچا دی تو سمجھ لیں۔۔ سب عیش ختم ہو جائے

گا"۔

"کچھ نہیں ہوتا۔۔" صبا نے لاپرواہی سے ہاتھ ہلا کر کہا

"آگے والے ایسے ہی درد مند ہوتے تو یہ نوبت کیوں آتی۔۔"

وہ ہر طرف سے بے فکر تھی۔

***

"پاپا۔۔ آپ۔۔ آپ کی یہ حالت۔۔"

رافع کو اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آرہا تھا۔

پاپا ملگجے کپڑوں میں ملبوس سخت گرمی میں کار پورچ کی جھاڑو دے رہے تھے۔ رافع کے پکارنے پر انھوں نے اجنبی آنکھوں سے اس کی طرف دیکھا۔

"کون۔۔ آپ کون۔۔ صاحب کو بلاؤں؟"

رافع کا دل بند ہونے لگا۔

"پاپا میں رافع۔۔ آپ کا بیٹا۔۔"

کون صاحب؟"

"پاپا اندر کون رہتا ہے؟ آپ۔۔ آپ نے یہ کیا حالت بنا لی ہے؟"

رافع کا دل چاہا پھوٹ پھوٹ کر رو دے۔

مگر پاپا کے چہرے پر کوئی شناسائی نہیں تھی۔

"میں۔۔ میں بلاتا ہوں اندر سے۔۔ صاحب کو۔۔"

وہ جھاڑو ہاتھ سے رکھ کر لنگڑاتے ہوئے اندر کی طرف بڑھے۔ رافع کا خون کھول اٹھا۔ وہ تیزی سے اندر کی جانب بڑھا لاونج کا منظر دیکھ کر اس کو اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آیا۔ ایک موٹی سی عورت صوفے پر لیٹی سیب کھا رہی تھی ٹی وی چل رہا تھا۔ چھ سات سالہ ایک بچہ آئس کریم کھاتے ہوئے ہاتھ پردوں سے صاف کرتا جا رہا تھا بشیر سیٹھی پر لیٹا فون پر بات کر رہا تھا۔ سب سے پہلے بشیر کی ہی نظر رافع پر پڑی۔ فون اس کے ہاتھ سے چھوٹ گیا۔

"سس۔۔ سر۔۔ آآ۔۔ آپ۔۔ مم۔۔ میرا مطلب۔۔ آپ۔۔ آپ اچانک۔۔"

رافع نے آگے بڑھ کر بشیر کا گریبان پکڑ لیا۔ صبا حق دق کھڑی رہ گئی اور ایان گلا پھاڑ پھاڑ کر رونے لگا۔ جب کہ حمید بابا انجان آنکھوں سے سب دیکھتے رہے۔

***

"مسٹر رافع آپ کے فادر شدید Dementiaکے شکار ہیں۔ وہ بھول چکے ہیں کہ آپ کون۔۔ بلکہ وہ تو یہ تک بھول چکے ہیں کہ وہ کون ہیں"۔

رافع احساس ندامت سے آب آب ہو رہا تھا۔

"مگر ڈاکٹر ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ انسان خود اپنے آپ کو ہی بھول جائے۔۔"

"مسٹر رافع۔۔ تنہائی انسان کو اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہے۔ ضعیفی میں انسان کی جسمانی سرگرمیاں محدود ہو جاتی ہیں مگر جذباتی ضروریات بڑھ جاتی ہیں۔۔ مسلسل اور شدید تنہائی انسان کے دماغ کو ایسے ہی متاثر کرتی ہے جیسے کوئی وائرس کرتا ہے۔۔ لونلی نیس سینڈروم کسی وائرس سے کم نہیں۔۔ آپ اپنے والد کو کمپنی دیں۔۔ ان سے باتیں کریں۔۔ ان کے ساتھ پارک وغیرہ جائیں۔۔ دوا میں لکھ رہا ہوں مگر انھیں دوا سے زیادہ آپ کے وقت کی ضرورت ہے۔

***

"کس قدر احسان فراموش نکلا یہ بشیر۔۔ اس بد بخت کو ہم ہر ماہ پابندی سے تنخواہ بھیجتے رہے۔۔ گھر کے خرچ کے پیسے بھیجتے رہے۔۔ اس کے علاوہ بھی عید بقر عید پر اضافی پیسے بھی بھیجے اور اس۔۔ اس منحوس شخص نے پاپا کو ملازم بنا کر رکھا ہوا تھا۔۔"

قدسیہ کو شدید غصہ تھا۔ مگر رافع حقیقت پسندی سے سوچ رہا تھا۔

"آپا۔۔ بشیر کو میں نے پولیس کے حوالے کر دیا ہے۔۔ وہ اپنے کئے کی سزا بھگتے گا۔۔ مگر اصل ذمہ دار تو ہم ہیں۔۔ صرف پیسہ ہی سب کچھ نہیں ہوتا۔۔ پاپا کو ہمارے پیسوں کی نہیں ہماری ضرورت ہے۔۔"

"ٹھیک کہہ رہے ہو تم۔۔ پہلے تو پاپا یہاں آنے کے لئے راضی ہی نہیں ہوتے تھے۔۔ مگر اب۔۔ اب تم ان کو یہاں لے آو۔۔"

قدسیہ نے کہا مگر رافع کچھ اور ہی سوچے بیٹھا تھا۔

"نہیں آپا۔۔ وہاں جا کر بھی پاپا کی تنہائی دور نہیں ہوگی۔۔ بلکہ بڑھ جائے گی۔۔ وہاں ہم سب ربوٹ کی طرح دن رات کام کرتے ہیں۔۔ انھیں کون کمپنی دے گا؟ یہاں ان کے ہم زبان تو ہیں۔۔ وہاں تو وہ اس سے بھی محروم ہو جائیں گے۔۔ میں نے کچھ اور سوچ لیا ہے۔۔"

قدسیہ تھوڑی حیران سی رہ گئی

"کیا؟ کیا سوچا ہے؟"

رافع کا لہجہ اٹل تھا۔

"میں پاکستان شفٹ ہو جاوں گا۔۔ جب تک پاپا زندہ ہیں میں ان کے ساتھ یہیں رہوں گا۔۔ آپا کیریئر انتظار کرسکتا ہے۔۔ بوڑھے والدین نہیں۔۔"

قدسیہ کا دل اطمینان سے بھر گیا۔

"مگر سارہ۔۔ وہ مان جائے گی؟"

رافع کو بس اس بات کی فکر تھی۔

"اگر وہ نہیں مانی۔۔ تو اسے بھی انتظار کرنا پڑے گا۔۔ میں اب اپنے پاپا کو چھوڑ کر کہیں نہیں جاوں گا۔۔"

رافع کا فیصلہ اٹل تھا۔ احساس ممونیت سے قدسیہ کا دل بھر سا گیا۔

Check Also

Na Umeedi Ko Zehan Se Nikal Dijye

By Rao Manzar Hayat