Friday, 12 June 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Zafar Syed
  4. Ambar Bail Ki Uljhi Bailen (2)

Ambar Bail Ki Uljhi Bailen (2)

"امبربیل" کی الجھی بیلیں (2)

اردو میں فطرت نگاری کی گنی چنی مثالوں میں سب رنگ میں شائع ہونے والی امبربیل، کی 21ویں قسط بھی آتی ہے جس میں جنگل کا ماحول یوں باندھا گیا ہے کہ پڑھنے والے کو صرف آس پاس کے منظر دکھائے ہی نہیں گئے بلکہ سنوائے اور محسوس بھی کروائے گئے ہیں۔ انوار صدیقی تو خیر کسی شمار قطار میں ہی نہیں، اردو کے اچھے اچھے ادیب بھی عام طور پر خود کو صرف حسِ بصارت کی تنگ گلی تک محدود کرکے اسی میں ٹامک ٹوئیاں مارتے چلے جاتے ہیں، جب کہ اچھا فکشن تو کیا، اچھی نثر بھی وہی ہوتی ہے جو باقی چار حسوں سے بھی کام لینے پر قادر ہو۔

اسی جنگل والی قسط سے ایک مثال دیکھیے: لیکن میری آہٹ سے پیڑوں پر بسیرا کرنے والے پرندے پھڑپھڑانے لگے۔ میں نے ان کی پروا نہیں کی۔ تھوڑی دیر میں ایسا محسوس ہوا جیسے پورا جنگل جاگ گیا ہو۔ شاید جنگل کے تمام باسیوں کو پتہ چل گیا تھا کہ کوئی پاگل جانور اندھیرے میں سفر کر رہا ہے۔ ہر طرف پرندوں کا شور گونجنے لگا اور پھر اس شور پر درندوں کی چنگھاڑ غالب آ گئی۔ پورا جنگل حرکت میں آ گیا تھا۔۔

جمشید جتنا بھاگتا دوڑتا اس سے باہر نکلنے کی کوشش کرتا ہے، اتنا ہی اس دلدل جنگل میں دھنستا چلا جاتا ہے۔ وہ جس چوٹی پر چڑھ کر کسی آبادی کے آثار دیکھنے کی کوشش کرتا ہے، اسے چاروں طرف جنگلوں سے ڈھکی پہاڑیوں کا لامتناہی سلسلہ نظر آتا ہے۔ یہ جال دراصل کیچو نے بچھایا ہے اس کا مقصد بالآخر جمشید سے وصال کی آرزو ہے۔

جمشید اس طلسم میں یوں پھنس جاتا ہے کہ اسے لگتا ہے یہ جنگل پھیل کر سارے کرۂ ارض پر محیط ہوگیا ہےاور وہ کبھی یہاں سے نکل نہیں پائے گا۔ کئی بار ایسا ہوا کہ وہ ہفتوں یا مہینوں دن رات چلنے کے بعد دوبارہ اسی جگہ پہنچ گیا جہاں سے پہلے بھی گزرا تھا۔ (اس موقعے پر شاید آپ کو ایک ہارر فلم بلیئر وِچ پراجیکٹ، یاد آئے، جس میں اسی قسم کا نہ ختم ہونے والا جنگل ہے، مگر وہ بھی بہت بعد میں یعنی 1999میں بنی تھی۔)

ایک طویل عرصہ اس جنگل میں سر مارنے کے بعد آخر ایک دن جمشید کی ملاقات ایک سادھو سے ہوتی ہے۔ وہ سادھو اسے بتاتا ہے کہ دیوی نجانے کب سے جمشید کی راہ دیکھ رہی ہے اور اس سے وصال کا لمحہ قریب ہے۔ جلد ہی دیوی کے درشن ہو جاتے ہیں۔ یہاں ذرا شکیل عادل زادہ کے قلم کی جولانیاں دیکھیے کہ جیسے و ہ بھی نجانے کب سے اسی لمحے کا منتظر تھا:

اس کی زلفیں سیاہ اور دراز تھیں اور ان کے درمیان اس کا چہرہ، وہ چاندی سے بنا ہوا تھا یا شفق سے یا خون سے۔ میری آنکھوں کو سکتہ ہوگیا۔ اس کے دمکتے ہوئے رخساروں سے جیسے کرنیں پھوٹ رہی تھیں، یا جیسے اس کے رخسار آئینہ ہوں جن پر دودھیا اور سرخ رنگ کی روشنی کا ملا جلا عکس پڑرہا ہو۔ اس کے ہونٹ، ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے ان کی کھال کھینچ دی گئی ہو اور اندر کا گلابی گوشت عریاں ہوگیا ہو۔ یا جیسے وہ دیر سے آنچ پر رکھے ہیں۔ اگر آنچ دور نہیں کی تو وہ ابھی جل اٹھیں گے۔ وہ مجھ سے کچھ فاصلے پر کھڑی ہوئی تھی۔ پورا بدن سرو کی طرح کھنچا ہوا، مجسمے کی طرح ترشا ہوا، آبشار کی طرح گنگناتا ہوا۔۔

آپ نے دیکھا ہوگا کہ اس سراپے میں صرف بصری نہیں بلکہ صوتی اور حسی تشبیہات اور استعارے بھی برتے گئے ہیں جن میں سے کئی ایسے ہیں جو غالباً پہلے کسی اور نے استعمال نہیں کیے، حالانکہ حسنِ نسواں کا بیان ایسا پیش پا افتادہ موضوع ہے کہ اس پر ہر کسی نے ہاتھ صاف کر رکھا ہے اور کوئی نئی بات نکال محال ہے۔

جعلی امبربیل، یعنی انوار صدیقی کی تحریر میں بھی اسی قسم کی کہانی ہے۔ جمشید کا بےپایاں جنگل میں کھو جانا، پھر ایک سادھو سے ملاقات میں دیوی سے ملاقات کی نوید اور آخر میں خود دیوی سے ملاقات اور ملاپ اور پھر جدائی۔ مگر یہ سارا پلاٹ یوں بیان کیا گیا ہے کہ جیسے گنگو تیلی نے جان بوجھ کر راجہ بھوج کا منھ چڑانے کی کوشش کی ہو۔ اس سے بڑا ظلم حضرت نے یہ کیا کہ داستان میں طالبانیت کا پیوند لگا دیا۔ اس سے قبل پورے امبربیل، میں کہیں مذہب کو مسئلہ نہیں بنایا گیا تھا، مگر اب میر جمشید عالم ایک سادھو کو دیکھ کر فرماتے ہیں کہ میرا مذہب ان سے الگ تھا، ہمارے اور ان کے اعتقاد میں زمین آسمان کا فرق تھا۔ وہ پتھر کی موتیوں کے آگے سجدہ کرتے تھے، میں ایک خدا پر بغیر دیکھ کر ایمان لانے والے جتھے سے تعلق رکھتا تھا۔۔

اگر مذہب کہانی کا حصہ بنایا جائے تو اس کے استعمال میں کوئی قباحت نہیں، لیکن یہ کیا کہ بارہ تیرہ سو صفحے کالے کرنے کے بعد اچانک آپ کو مذہب کارڈ کھیلنے کا خیال آ جائے، جب کہ اس سے پہلے کہانی کسی اور ڈگر پر چلتی رہی ہو۔

یہی مذہب کارڈ انوار صدیقی نے جعلی امبربیل کی چوتھی اور آخری جلد میں اور جگہوں پر بھی کھیلا ہے اور بڑی ڈھٹائی سے کھیلا ہے۔ ایک اور منظر آپ کو دکھاتا ہوں۔ لیکن اس سے پہلے وضاحت ضروری ہے کہ یہ منظر بھیانک بلکہ گھناونا ہے، اس لیے کمزور دل افراد سے پیشگی معذرت۔

جمشید نے کتاب کے آخری صفحوں میں جگ دیپ کو گولیاں مار کر اپاہج کر دیا ہے اور اب وہ اس کی آنکھوں کے سامنے اس کی بہن انیتا کا ریپ کرنے پر تلا ہوا ہے۔

(معلوم ہوتا ہے کہ ریپ کرنا اور کروانا انوار صدیقی صاحب کا مرغوب عمل ہے کہ اس سے پہلے وہ دنیش کمار کی بہن راج کماری پریت کا ریپ اس کے ڈرائیور کے ہاتھوں کروا چکے ہیں۔)

اب جمشید خود جس انیتا کا ریپ کرنے پر کمربستہ ہے، یہ وہی انیتا ہے اوپر دیے گئے اقتباس کے مطابق جس کا منھ بند نہ ہوتا تو وہ جمشید کے پستول سے یکے بعد دیگرے نکلی دو گولیوں کی داد دیے بغیر نہ رہ سکتی۔ یہ وہی انیتا ہے جس کے لیے جمشید دل میں نرم گوشہ رکھتا ہے اور ایک موقعے پر وہ اس کا ممنونِ احسان بھی ہونے پر مجبور ہو جاتا ہے جب جمشید کو پولیس پکڑ کر لے جاتی ہے اور انیتا بدنامی کی پروا نہ کرتے ہوئے آئی جی کو فون کرکے کہتی ہے کہ جمشید کو چھوڑ دیا جائے کیوں کہ واردات کی رات وہ میرے ساتھ تھا اور واردات بھی وہ جب خود انیتا کے اپنے خاندان کے ڈیڑھ درجن کے قریب لوگ قتل ہوئے ہیں۔

یہ صرف اخلاقی کجی نہیں، تکنیکی اور فنی ناکامی بھی ہے جس سے کوئی بھی اچھا ادیب بچنے کی کوشش کرتا۔ ذرا تصور کیجیے کہ جمشید جیسا مہذب کردار، جس میں خلوص، تہذیب، برداشت اور نفاست کوٹ کوٹ کر بھرے ہوئے ہیں، وہ انیتا کی قدر بھی کرتا ہے اور اس کا زیرِ بار بھی ہے، وہی جمشید گھٹیا ترین سی بلکہ ڈی گریڈ فلموں کے ولن کی کریہہ سطح پر اتر کر بھائی کے سامنے بہن کا ریپ کرنے پر تلا ہوا ہے۔

کیچو اپنے ایک چیلے کی مدد سے جمشید کو اس اسفل ترین عمل سے باز رکھنے کی کوشش کرتی ہے، لیکن اس کے ردِ عمل میں جمشید کے اندر ایک شعلہ بھڑک جاتا ہے، کون سا شعلہ؟ مذہب کا شعلہ۔

غیرتِ دینی کی چنگاری شعلہ بن کر میرے اندرون کو روشن کرنے لگی۔ اس ذاتِ پاک کا نام روشن ہو کر جگمگانے لگا جس نے مجھے ایک مشتِ خاک سے تخلیق کیا تھا۔ اس موقعے پر ایک مجذوب صاحب جمشید کی مدد کو آ جاتے ہیں اور اسے کیچو کے مکھن میں سے بال کی طرح نکال لے جاتے ہیں۔

چہ خوب! ذرا سوچیے کہ ایک ہندو دیوی کسی مسلمان کو ایک ایسے مکروہ کام سے باز رکھنے کی کوشش کر رہی ہے جس سے نیچ حرکت کا کسی انسان سے ارتکاب کا تصور بھی مشکل ہے، مگر ایک مسلمان مجذوب اس کالے کرتوت والے کو بچانے کے لیے آن دھمکتا ہے اور کالے کرتوت پر تلا شخص کہتا ہے کہ میرے سامنے ذاتِ پاک کا نام جگمگما رہا ہے۔

کہانی، پلاٹ، کردار تو بھاڑ میں گئے، انوار صاحب نے نیک و بد، سیاہ و سفید، ہیرو اور ولن کی تفریق ہی تہس نہس کر ڈالی۔

اس موضوع پر اس سے زیادہ اور کچھ کہنے کا یارا نہیں، اس لیے ہم شکیل عادل زادہ والے اصل امبربیل، کی طرف پلٹتے ہیں اور دوبارہ اسی لمحے کا رخ کرتے ہیں جب جادوئی جنگل میں جمشید کا سامنا دیوی سے ہوتا ہے۔

دیوی، جس کا نام اب چندراوتی ہوگیا ہے، جمشید کو شربتِ وصال سے شرابور کرتی ہے۔ اس کی نشیلی قربت میں ماہ و سال کی گنتی تو الگ رہی، جمشید اپنا آپ تک بھلا بیٹھتا ہے۔ کون پرکاش بھون، کون شاردا، کون ڈالی؟ اسی بہشت میں سالہا سال لمحوں کی طرح گزر جاتے ہیں۔

اور پھر ایک صبح جب وہ نیند سے جاگتا ہے تو چندراوتی پہلو میں نہیں ہوتی۔ جمشید کی وحشت کا کوئی ٹھکانہ نہیں رہتا۔ وہ اپنا گریبان چاک کر لیتا ہے، منھ کھرچ لیتا ہے، درختوں سے سر مارتا ہے، مگر چندراوتی کا پتہ نہیں ملتا۔ ایک سادھو نمودار ہو کر اسے بتاتا ہے کہ اب وہ کبھی واپس نہیں آئے گی اور تمہیں اب دوبارہ انسانی آبادیوں کی طرف چلے جانا چاہیے۔

ہم نےایک دو فلموں کا ذکر کیا ہے جو امبربیل، کے بعد آئیں لیکن ان میں امبربیل کی جھلک نظر آئی۔ لیکن ایک گیت ایسا ہے جو امبربیل، سے پہلے آ کر اس کی نوید دے گیا تھا۔

مہدی حسن کی آواز میں فلم میری زندگی ہے نغمہ، کا ایک مشہور گیت مہدی حسن نے اپنی لافانی آواز میں گایا ہے۔ پتہ نہیں ہمارے ذہن کا اوور ری ایکشن ہے یا پھر واقعی امبربیل، کی 21ویں قسط اور اس گیت میں کوئی تعلق ہے۔ اس کے بول شیون رضوی نے لکھے تھے اور یہ فلم 1972 میں آئی تھی، یعنی سب رنگ کی اس قسط سے کوئی چار سال پہلے۔

اس گیت کے بول دیکھیے:

اک حُسن کی دیوی سے مجھے پیار ہوا تھا
دل اُس کی محبت میں گرفتار ہوا تھا

وہ روپ کہ جس روپ سے کلیاں بھی لجائیں
وہ زلف کہ جس زلف سے شرمائیں گھٹائیں

میخانے نگاہوں کے، اداؤں کے ترانے
دے ڈالے مجھے اُس نے محبت کے خزانے

***

کشمیر کی وادی کے وہ پُر کیف نظارے
لمحات محبت کے جہاں ہم نے گزارے

انگڑائیاں لے کر مری بانہوں کے سہارے
گلنار نظر آتی تھی وہ شرم کے مارے

یک طرفہ نہ تھے حُسن و محبت کے اشارے
اُس نے بھی کئی بار مرے بال سنوارے

***

کچھ روز کٹے یوں بھی برا وقت جب آیا
اُس حُسن کی دیوی نے بھی نظروں کو پھرایا

غربت نے زمانے کی نگاہوں سے گرایا
آنچل مرے ہاتھوں سے محبت نے چھڑایا

***

اک رات کو اُس نے مجھے سوتا ہوا چھوڑا
چل دی وہ کہیں، پیار کو روتا ہوا چھوڑا

سویا ہوا میں نیند سے جاگا جو سویرے
وہ جب نہ ملی، چھا گئے آنکھوں میں اندھیرے

معلوم نہیں آپ کو مماثلت لگتی ہے یا نہیں، بہرحال جس طرح ہم نے امبربیل، کے بعد آنے والی دو فلموں کی امبربیل، سے مشابہت کو اتفاق مان لیا تھا، اسی فارمولے کے تحت اس سے پہلے آنے والے گیت کو بھی حسنِ اتفاق ماننے کے سوا کوئی چارہ نہیں!

ہم نے شروع میں وعدہ کیا تھا کہ امبربیل، کا تقابل سب رنگ ہی میں شائع ہونے والے ایک اور مقبول سلسلے بازی گر، سے کیا جائے گا۔ بازی گر، بابر زماں خان نامی ایک نوجوان کی کہانی ہے جو ایک تبتی لڑکی کی تلاش میں ہندوستان کے کونے کونے میں مارا مارا پھرتا ہے۔ یہ سب رنگ کا پہلا سلسلہ تھا جس میں کوئی دیومالائی عنصر شامل نہیں، ورنہ اس سے پہلے غلام روحیں، سونا گھاٹ کا پجاری، انکا، اقابلا اور خود امبربیل، سب ماورائے عقل اور پراسرار واقعات پر مبنی ہیں۔

تحریر پھر لمبی ہوگئی ہے، اس لیے۔۔

Check Also

Carl Sagan Ke Naam

By Umar Farooq