Chaudhry Sahab Di Khair Hove, Bhaag Lagge Rehn
چوہدری ساب دی خیر ہووے، بھاگ لگے رہن

دوسری جنگ عظیم ختم ہوئی تو دنیا نے اجتماعی طور پر یہ فیصلہ کیا کہ آئندہ لڑائی جھگڑا تھوڑا مہذب طریقے سے کیا جائے۔ اس مقصد کے لیے اقوام متحدہ قائم ہوگئی اور عالمی سیاست کا ایک نیا محلہ آباد ہوگیا۔ اس محلے میں ایک چوہدری بھی تھا جس کا نام امریکا تھا۔ امریکا سپرپاور بن کے اُبھرا۔ اس کو ملٹری مائٹ یا عسکری طاقت ماننے والے اس کے اتحادی دشمن سب شامل تھے۔ انکل سام یا چوہدری سام ایسا چوہدری تھا جو صبح شام گلی کا چکر لگاتا، ہاتھ میں لاٹھی گھماتا اور سب کو یاد دلاتا رہتا کہ "پتر، محلے کا انتظام میرے پاس ہے"۔
اسی دوران 1947 میں اسی محلے میں پاکستان نامی نیا گھر بن گیا۔ مسئلہ یہ تھا کہ گھر تو مل گیا مگر نہ صحن میں گندم تھی، نہ کندھے پر بندوق اور نہ ہی وہ وسائل جن کے بل پر کوئی چوہدری کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرے۔ چوہدری سام سے نمٹنے کے چند ہی طریقے تھے۔ پہلا طریقہ یہ کہ اسے دیکھتے ہی مونچھوں کو تاؤ دیا جائے اور کہا جائے "چوہدری، آجا میدان وچ!"۔ لیکن اس کے لیے گھر میں دانے بھی ہونے چاہئیں اور کندھے پر بندوق بھی۔ پاکستان کے پاس اُس وقت نہ دانے تھے نہ بندوق۔ دوسرا طریقہ یہ ہوتا کہ اسے دیکھ کر ایسے گزرا جائے جیسے برابر کا پڑوسی ہو۔ یعنی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر برابری کی سطح کے تعلقات رکھے جائیں۔ یہ بھی اس وقت ممکن نہ تھا۔ تیسرا طریقہ یہ تھا کہ کھلے عام دشمنی مول لے لی جائے اور چوہدری سام کو گالیاں نکالی جائیں۔ لیکن اس کا انجام عام طور پر اچھا نہیں ہوتا۔ دنیا میں ایسے کئی ممالک ہیں جو اس تجربے کے بعد آج بھی آئی سی یو میں پڑے ہوئے ہیں۔
چوتھا اور سب سے آزمودہ طریقہ یہ تھا کہ جہاں چوہدری نظر آئے وہیں دونوں ہاتھ اٹھا کر کہا جائے "چوہدری ساب دی خیر ہووے، بھاگ لگے رہن!"۔ پاکستان نے یہی طریقہ اختیار کیا۔ اسے آپ سفارتکاری کہیں یا محلے داری کی حکمت عملی، مگر یہی وقت کی حقیقت تھی، یہی حالات کا تقاضہ۔ روس اور چین جیسے ممالک اس لیے بچ گئے کہ ان کے پاس وسیع جغرافیہ، معدنی دولت اور آبادی کا سمندر تھا۔ شمالی کوریا کمیونسٹ بلاک کا "چھوٹا بھائی" بن کر زندہ رہا، مگر آج تک معاشی طاقت نہیں بن سکا۔ چین نے سب سے دلچسپ راستہ نکالا۔ وہ امریکا کو سلام بھی نہیں کرتا اور دشمنی بھی نہیں مول لیتا۔ بس خاموشی سے تجارت کرتا جاتا ہے اور فیکٹریاں لگاتا جاتا ہے۔
پاکستان کے حصے میں جو پلاٹ آیا اس کے ایک جانب ڈیورنڈ لائن تھی، دوسری جانب بھارت، تیسری جانب چائنہ جو امریکی ناراضگیوں کا شکار تھا اور چوتھی جانب ایران جو اس وقت امریکی کالونی تھا۔ لوگ پاکستان کو بخشو کہتے ہیں۔ ٹھیک ہے، لیکن عرب ورلڈ، انڈونیشیا و ملائیشیا و ترکیہ سمیت افریقی دولت مند ممالک نے تو دولت ہوتے بھی بخشو کا کردار اپنایا۔ ان کی کیا مجبوری تھی؟ وہ آج تک بخشو ہیں۔ پاکستان تو چلیں اپنی جغرافیائی مجبوری یا نامساعد حالات کے سبب بخشو بنا یا ڈالر کی چاہ میں بنا۔ باقی ممالک ترقی یافتہ تھے۔ وہ آج بھی ترقی کر رہے ہیں مگر عسکری قوت بن پائے نہ ایٹمی طاقت حاصل کر پائے۔ پاکستان بخشو بن کر پروفیشنل افواج بھی پال گیا اور واحد اسلامی ایٹمی ملک بھی بن گیا۔
فرق یہ ہے کہ پاکستان نے اس "بخشو فلسفے" کو صرف سلام دعا تک محدود نہیں رکھا۔ اس نے اس دوران ایک پروفیشنل فوج بھی بنا لی، ایک ٹاپ کلاس میزائل پروگرام بھی کھڑا کر لیا اور آخرکار ایٹمی طاقت بھی بن گیا۔ یہی تو اصل میں "سروائیول آف دی فٹسٹ" ہے۔ ایک ایسا ملک جو بظاہر قرضوں تلے دبا ہوا ہے مگر عسکری میدان میں اس کا وزن اتنا ہے کہ اس کا موازنہ اپنے سے پانچ گنا بڑے ملک بھارت سے کیا جاتا ہے۔ ایسا ملک جس کا ذکر اسرائیل کی سیکیورٹی بحثوں میں بھی آ جاتا ہے۔
اب ظاہر ہے کچھ لوگوں کو فوراً 1971 اور کارگل کی کھجلی شروع ہو جاتی ہے۔ 1971 عسکری تاریخ کی ایک بڑی غلطی تھی۔ وہ سروائیول دور تھا ہم عسکری محاذ پر واقعی بھارت سے بہت کمزور تھے اور ایک ایسے جغرافیائی مقام پر پھنس گئے تھے جہاں زمینی کمک پہنچانا ممکن ہی نہیں تھا۔ وہ بلنڈر تھا اور ہم نے اس کی قیمت ادا کی۔ کارگل زیادہ تر سیاسی اور شخصی فیصلہ تھا۔ اس کا خمیازہ بھی ہمیں پیچھے ہٹ کر بھگتنا پڑا۔ لیکن اگر پیچھے نہ ہٹتے تو قیمت شاید کہیں زیادہ ہوتی۔
امریکی ٹائیٹینک پے در پے گلیشئرز سے ٹکرانے کے بعد اب ڈوب رہا ہے لیکن ڈوبتے ڈوبتے بھی دو دہائیاں نکال لے گا۔ امریکی مائٹ کو چیلنج درپیش ہے۔ آج اس کے پرانے اتحادی اس کے ساتھ نہیں ہیں نہ ہی وہ ٹرمپ کی آواز پر جنگ میں شامل ہو رہے ہیں۔ یہ صورتحال بتاتی ہے عالمی طاقت کا توازن شفٹ ہو رہا ہے۔ برکس اتحاد کی آواز بلند ہو رہی ہے۔ ڈالر کے مستقبل پر سوال اُٹھنے لگے ہیں۔ عرب ممالک اپنی سوچ میں مبتلا ہیں کہ امریکا تحفظ کی ضمانت ہے یا الٹا بوجھ ہے۔ پاکستان شنگھائی تعاون کی تنظیم، برکس اور سعودی ترکیہ بلاک کے ساتھ ساتھ بھی چل رہا ہے۔ صورتحال پر نظر رکھ رہا ہے۔ یہ بھی سروائیول کی دوڑ ہے۔
پاکستان کے دیرینہ مسائل اپنی جگہ درست ہیں مگر جب کوئی شخص ہمکتا ٹھمکتا یہ کہنے پہنچتا ہے کہ پاکستان بخشو ہے تو مجھے اس کی معصومیت پر ترس آتا ہے۔ اسے نہ عالمی سفارتکاری کا اندازہ ہوتا ہے، نہ تاریخ کا شعور اور نہ ہی جغرافیے کی مجبوریوں کا علم۔۔ وہ بس تنقید برائے تنقید کرنے آتا ہے۔ یہ فیشن ہے۔ ملک کو گالی دو یا ملک کو ٹرول کرو۔ اس فیشن کی وجوہات سیاسی بھی ہیں اور مذہبی بھی۔ یہ بالکل بجا ہے یہاں نظام مملکت کے بہت سے بڑے بڑے اور پیچیدہ مسائل ہیں۔ ان مسائل کے ذمہ دار جرنیل بھی ہیں اور سیاستدان بھی۔ بیوروکریسی بھی اور عدلیہ بھی۔ جرنیلوں کا کھاتا کافی لمبا ہے۔ لیکن اس کی آڑ میں ملک کو گالی دینا، اس کی افواج کو ٹرول کرنا اور اس کی عزت پر وار کرنا بھی رامزدگی ہے اور رامزدگی کا کوئی علاج سائنس دریافت نہیں کر پائی۔

