Kifayat Shayari Ya Dohra Mayar?
کفایت شعاری یا دوہرا معیار؟
پاکستان میں جب بھی معاشی مشکلات بڑھتی ہیں تو سب سے پہلے جس لفظ کا سہارا لیا جاتا ہے وہ ہے "کفایت شعاری"۔ حکومتیں عوام اور سرکاری ملازمین کو یہ باور کراتی ہیں کہ ملک مشکل حالات سے گزر رہا ہے، لہٰذا اخراجات کم کرنا وقت کی ضرورت ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ کفایت شعاری واقعی سب کے لیے یکساں ہوتی ہے، یا پھر اس کا بوجھ صرف عام لوگوں اور سرکاری ملازمین پر ہی ڈال دیا جاتا ہے؟
حال ہی میں حکومت نے کفایت شعاری مہم کے نام پر عید سے قبل سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں کٹوتی کا فیصلہ کیا ہے۔ بظاہر یہ قدم قومی خزانے پر بوجھ کم کرنے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔ ابتدا میں سرکاری افسران کو یہ آپشن دیا گیا تھا کہ وہ اپنی مرضی سے تنخواہوں میں کٹوتی کروا لیں، مگر زیادہ تر افسران نے اس کی مخالفت کی۔ اب اطلاعات ہیں کہ اکاؤنٹنٹ جنرل پاکستان ریونیو (AGPR) کے ذریعے تنخواہوں سے براہِ راست کٹوتی کرکے عید کا یہ "تحفہ" دیا جائے گا۔
یہاں اصل سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب حکومت کفایت شعاری کی بات کرتی ہے تو کیا یہ اصول صرف نچلے اور درمیانے طبقے کے لیے ہی ہیں؟ کیونکہ دوسری جانب یہی حکومت ارکانِ اسمبلی (ایم این ایز) کی رہائش گاہوں کی مرمت اور دیکھ بھال کے لیے کروڑوں روپے خرچ کر رہی ہے۔ اگر واقعی ملک کو معاشی بچت کی ضرورت ہے تو کیا یہ مناسب نہیں تھا کہ سب سے پہلے حکمران طبقہ اپنی سہولیات اور اخراجات کم کرتا؟
یہ صورتحال ایک واضح دوہرے معیار کی عکاسی کرتی ہے۔ ایک طرف عام ملازم جو پہلے ہی مہنگائی کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے، اس کی تنخواہ میں کٹوتی کی جا رہی ہے، جبکہ دوسری طرف حکمرانوں کی رہائش گاہوں کی تزئین و آرائش پر خطیر رقم خرچ کی جا رہی ہے۔ یہ تضاد نہ صرف معاشی انصاف کے اصولوں کے خلاف ہے بلکہ اس سے عوام میں مایوسی اور بے اعتمادی بھی پیدا ہوتی ہے۔
کفایت شعاری کی اصل روح یہ ہے کہ قربانی سب سے پہلے اقتدار کے ایوانوں سے شروع ہو۔ اگر حکمران طبقہ اپنی مراعات، پروٹوکول اور غیر ضروری اخراجات میں کمی کرے تو نہ صرف قومی خزانے کو فائدہ ہوگا بلکہ عوام میں یہ پیغام بھی جائے گا کہ مشکل وقت میں سب برابر کے شریک ہیں۔
بدقسمتی سے ہمارے ہاں اکثر ایسا نہیں ہوتا۔ معاشی بحران کا بوجھ ہمیشہ عام آدمی اور سرکاری ملازمین کے کندھوں پر ڈال دیا جاتا ہے، جبکہ طاقتور طبقات اپنی مراعات برقرار رکھتے ہیں۔ اگر حکومت واقعی کفایت شعاری کو سنجیدگی سے نافذ کرنا چاہتی ہے تو اسے سب سے پہلے اپنے اخراجات اور مراعات کا جائزہ لینا ہوگا۔
ورنہ عوام کے ذہن میں یہی سوال گونجتا رہے گا کہ کفایت شعاری صرف کمزوروں کے لیے کیوں؟

