Monday, 16 March 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Shair Khan
  4. Dubai Ka Toot-ta Hua Jadui Hisar

Dubai Ka Toot-ta Hua Jadui Hisar

دبئی کا ٹوٹا ہوا جادوئی حصار

کبھی ایسا لگتا تھا کہ خلیج کی ریت پر بسایا گیا یہ شہر گویا کسی جادوئی حصار میں محفوظ ہے اردگرد کا خطہ آگ اور بارود کی لپیٹ میں بھی ہو تو بھی دبئی کی چمکتی ہوئی عمارتیں، جگمگاتی سڑکیں اور سیاحوں سے بھرے ساحل اس تاثر کو زندہ رکھتے تھے کہ یہ شہر ہر طوفان سے محفوظ ہے مگر تاریخ کا ایک اصول ہے جب خطے میں آگ بھڑکتی ہے تو اس کی تپش دیواروں اور سرحدوں کو زیادہ دیر تک نہیں مانتی۔ حالیہ جنگی فضا نے اس تصور کو پہلی بار حقیقی دھچکا دیا ہے ڈرونز کی گونج، میزائلوں کی خبریں اور آسمان پر چھائے دھوئیں کے بادلوں نے اس خطے کے محفوظ ہونے کے دعوے کو کمزور کر دیا ہے۔ وہ دبئی جو کبھی دنیا کے امیروں کے لیے ایک محفوظ جنت سمجھا جاتا تھا اب اچانک غیر یقینی کے سائے میں نظر آنے لگا ہے۔ جب برجوں کے شہر کے قریب گرنے والے ملبے کی خبر آئی تو گویا اس چمکتے ہوئے شہر کی پیشانی پر پہلی بار خوف کی لکیریں نمودار ہوگئیں۔

دبئی کی کامیابی صرف اس کی بلند عمارتوں یا ٹیکس فری معیشت کی وجہ سے نہیں تھی بلکہ اس تصور کی وجہ سے تھی کہ یہاں زندگی ہر خطرے سے دور ہے۔ یہی وجہ تھی کہ دنیا بھر کے سرمایہ دار سیاح اور کاروباری لوگ یہاں کا رخ کرتے تھے۔ مگر جنگ کے بادل جب قریب آتے ہیں تو سب سے پہلے سرمایہ خوفزدہ ہوتا ہے اور اس کے بعد وہ لوگ جو آسائش کی زندگی کے عادی ہوتے ہیں۔

اب سوشل میڈیا پر ایسے مناظر بھی سامنے آئے ہیں جہاں غیر ملکی شہری جلدی جلدی شہر چھوڑنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ وہی شہر جہاں کبھی لوگ سکون اور تحفظ کی مثالیں دیتے تھے وہاں پہلی بار بے یقینی کی سرگوشیاں سنائی دینے لگی ہیں دوسری طرف وہ محنت کش طبقہ جس میں پاکستانیوں، بھارتیوں اور بنگلہ دیشیوں کی بڑی تعداد شامل ہے بدستور اسی شہر میں رہنے پر مجبور ہے کیونکہ ان کے پاس جانے کے لیے کوئی دوسرا محفوظ گوشہ نہیں۔

یہ منظر ہمیں ایک تلخ حقیقت کی یاد دلاتا ہے کہ جنگیں صرف میدانِ جنگ میں نہیں لڑی جاتیں بلکہ ان کے اثرات پورے خطے کی معیشت، سیاست اور معاشرت کو اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں جو شہر کل تک خود کو ایک جادوئی بلبلا سمجھتا تھا۔ آج اسے بھی یہ احساس ہو رہا ہے کہ عالمی سیاست کی آندھیاں کسی کے لیے مستقل پناہ گاہ نہیں چھوڑتیں اور شاید سب سے افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ دشمن کی چال ہمیشہ یہی رہی ہے کہ وہ خود میدان سے دور رہ کر دوسروں کی سرزمین کو جنگ کا اکھاڑا بنا دے وہ انہی ملکوں کے وسائل انہی کے اڈوں اور انہی کی زمین کو استعمال کرکے انہی کی تباہی کا سامان پیدا کرتا ہے مگر بدقسمتی سے ہماری عیاش پرست اور مفاد میں ڈوبی ہوئی مسلم دنیا ابھی تک اس شطرنج کے کھیل کو پوری طرح سمجھ نہیں سکی۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب قومیں شعور سے محروم ہو جائیں تو دشمن کو تلوار اٹھانے کی ضرورت نہیں رہتی وہ صرف منصوبہ بناتا ہے اور تباہی خود ان کے دروازے تک پہنچ جاتی ہے۔

اصل المیہ یہ نہیں کہ جنگ چھڑ گئی ہے اصل المیہ یہ ہے کہ ہمیں اب تک اس کھیل کی سمجھ نہیں آئی۔ دشمن خود دور بیٹھ کر اپنے شہروں کو محفوظ رکھتا ہے اور جنگ کی آگ ہمارے آنگن میں بھڑکا دیتا ہے۔ ہماری زمین، ہمارے وسائل اور ہمارے ہی آسمان کو استعمال کرکے ہمارے ہی شہروں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ یہ ایک عجیب شطرنج ہے جس میں مہرے بھی ہم ہیں اور بساط بھی ہماری ہے مگر فتح کا جشن کوئی اور مناتا ہے۔ افسوس کہ عیش و عشرت کے سراب میں ڈوبی مسلم دنیا ابھی تک اس فریب کو سمجھنے کے بجائے خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ تاریخ بار بار یہی بتاتی ہے کہ جب قومیں شعور کھو دیتی ہیں تو دشمن کو تلوار اٹھانے کی ضرورت نہیں رہتی وہ صرف منصوبہ بناتا ہے اور پھر ایک دن شہر جلتے ہیں آسمان دھوئیں سے بھر جاتا ہے اور لوگ حیران ہو کر پوچھتے ہیں یہ آگ آخر لگی کیسے؟

Check Also

Hukumat Ka Petroleum Nirkhon Mein Mazeed Izafe Se Gurez

By Nusrat Javed