Eid Ki Shopping
عید کی شاپنگ

عید مسلمانوں کے لیے خوشی، محبت اور شکر گزاری کا دن ہے۔ ہر شخص چاہتا ہے کہ اس دن وہ اچھے کپڑے پہنے، اپنے گھر کو سجائے اور اپنے پیاروں کے ساتھ خوشیاں بانٹے۔ مگر اکثر لوگ عید کی شاپنگ آخری دنوں کے لیے چھوڑ دیتے ہیں جس کی وجہ سے بازاروں میں شدید رش، مہنگائی اور کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
درحقیقت عید کی شاپنگ کی بہتر منصوبہ بندی پہلے سے کر لینی چاہیے۔ اگر ہم عید سے کچھ دن پہلے ہی کپڑے، جوتے اور بچوں کی ضروری چیزیں خرید لیں تو نہ صرف رش سے بچ سکتے ہیں بلکہ سکون سے خریداری بھی کر سکتے ہیں۔ آخری دنوں میں بازاروں کا ہجوم اتنا زیادہ ہوتا ہے کہ لوگ ایک دوسرے سے ٹکرا رہے ہوتے ہیں، دکان داروں کا رویہ بھی اکثر سخت ہو جاتا ہے اور چیزوں کی قیمتیں بھی اچانک بڑھ جاتی ہیں۔
ایسی صورتحال میں بہت سے والدین کو اپنی ضروریات کو چھوڑ کر بچوں کی ضروریات پوری کرنی پڑتی ہیں اور جن کے بچے نہیں ہوتے وہ بھی مہنگائی کی وجہ سے اپنی ضروریات پر سمجھوتہ کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ اس لیے بہتر یہ ہی ہے کہ انسان وقت سے پہلے تیاری کر لے تاکہ ان مشکلات سے بچا جا سکے۔
اسی طرح عید کی تیاریوں میں ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ کپڑے پہلے سے استری کرکے رکھ لیے جائیں۔ اگر عید سے ایک ہفتہ پہلے ہی کپڑے پریس کرکے رکھ لیے جائیں تو عید کے دن بہت سی پریشانیوں سے بچا جا سکتا ہے۔ عید کی صبح اگر سب کچھ تیار ہو تو گھر کا ماحول بھی پرسکون رہتا ہے۔ ورنہ عین وقت پر کپڑے ڈھونڈنے یا استری کرنے کی وجہ سے جلدی اور گرمی میں بے چینی پیدا ہو جاتی ہے اور بعض اوقات چھوٹی چھوٹی باتوں پر لڑائی جھگڑا بھی ہو جاتا ہے۔
اگر کپڑے پہلے سے تیار ہوں تو بیٹے، بھائی، شوہر یا والد کو آسانی سے وقت پر کپڑے دیے جا سکتے ہیں جس سے وہ سکون کے ساتھ عید کی نماز ادا کر سکتے ہیں۔ اسی طرح اگر سارا وقت استری کرنے میں لگ جائے تو ناشتہ بنانے کا وقت بھی مشکل ہو جاتا ہے، حالانکہ عید کے دن میٹھا کھا کر نماز کے لیے جانا خوشی اور سنت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ اس لیے بہتر ہے کہ پہلے سے اچھا سا میٹھا تیار کر لیا جائے تاکہ سب لوگ خوشی خوشی عید کی نماز کے لیے جائیں اور گھر کا ماحول بھی خوشگوار رہے۔
رمضان کے آخری دن دراصل عبادت کے لیے بہت قیمتی ہوتے ہیں۔ ان دنوں میں زیادہ سے زیادہ اللہ تعالیٰ سے مغفرت مانگنی چاہیے اور آنے والی زندگی کے لیے دعائیں کرنی چاہئیں۔ اگر ہم شاپنگ کے ہجوم اور تیاریوں میں الجھ جائیں تو عبادت کا قیمتی وقت ضائع ہو جاتا ہے۔ اس لیے بہتر یہی ہے کہ خریداری اور تیاری پہلے مکمل کر لی جائے تاکہ باقی دن سکون سے عبادت میں گزارے جاسکیں۔
عید کا پہلا دن خاص طور پر اپنے گھر والوں کے ساتھ گزارنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ دوست اہم ہوتے ہیں مگر سب سے پہلے انسان کی اپنی فیملی ہوتی ہے۔ گھر میں خوبصورت سی سجاوٹ کریں، پرسکون ماحول بنائیں اور مل کر خوشی کے لمحات گزاریں تاکہ یہ عید ایک یادگار عید بن جائے
یاد رکھیں، سمجھدار وہی ہے جو خوشیوں کو بھی حکمت اور ترتیب کے ساتھ منانا جانتا ہو۔ اپنی زندگی میں ایک رول شامل کر لیں۔ خوشی میں خوشی میں سمجھ کام اتی ہے اور غم میں صبر کام اتا ہے۔ اس جملے کی گہرائی کو جو انسان سمجھ گیا سمجھو اس نے اپنے لیے بہت بڑی اسانی پیدا کر لی۔
اگر ہم تھوڑی سی منصوبہ بندی کر لیں تو عید کی خوشیاں دگنی ہو سکتی ہیں اور ہمارے گھروں میں سکون، محبت اور مسکراہٹیں ہمیشہ قائم رہ سکتی ہیں۔
میری اللہ سے دعا ہے۔ یہ دعا ہر اس انسان کے لیے ہے جو اپنا قیمتی وقت نکال کر میرے اس کالم کو پڑھ رہا ہے یا پڑھ رہی ہے۔ یہ خاص دعا اس خوبصورت انسان کے لیے جس نے اپنا قیمتی وقت میرا کالم پڑھنے پہ لگایا۔
یا اللہ! اس عید کو ہمارے لیے خوشیوں، رحمتوں اور برکتوں کا ذریعہ بنا دے۔ ہمارے گھروں میں محبت، سکون اور آسانیاں پیدا فرما، ہماری عبادتوں کو قبول فرما اور آنے والی زندگی کو خیر و برکت سے بھر دے۔

