Sunday, 15 March 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Shahid Mehmood
  4. Iran Jang Jeet Chuka Hai

Iran Jang Jeet Chuka Hai

ایران جنگ جیت چکا ہے

جنگ میں جیت صرف اسلحہ اور عددی طاقت سے نہیں ہوتی ہے بلکہ کسی بھی قوم کا مورال اور اپنی دھرتی سے کمٹمنٹ ہی جنگوں کے فیصلے کرتی ہے۔ ایران پر امریکہ جیسی سپر پاور نے حملہ کرتے ہوئے یہی سوچا تھا کہ ایران ایک ہی جھٹکے میں زمین بوس ہو جائے گا اور امریکہ کی ہیبت پورے خطے میں سر چڑھ کر بولے گی اور اکثر تجزیہ کاروں کا بھی خیال یہی تھا کہ امریکہ جیسی دنیا کی سب سے بڑی ملٹری طاقت کے سامنے ایران ٹھہر نہیں سکے گا۔

میں نے اپنے پچھلے کالم میں لکھا تھا کہ اس جنگ نے امریکہ کے خوف کو ناصرف کم کیا ہے بلکہ پہلی دفعہ امریکہ اس جنگ میں تنہا دکھائی دیتا ہے۔ اس وقت تک کی صورتحال یہ ہے کہ وہ امریکہ جو مشرق وسطیٰ کے تمام ممالک کے ساتھ دفاعی معاہدے کر رکھے تھے اور تقریباً ہر ملک میں امریکی فوج اور ہوائی اڈے موجود تھے جہاں سے افغانستان، عراق، شام اور لیبیا پر حملے کئے جاتے رہے ہیں۔ یہ امریکی فوجی اڈے بظاہر خطہ میں امن قائم کرنے کے لئے بنائے گئے اور عرب ممالک کا خیال تھا کہ جب کبھی ان پر بیرونی حملہ ہوا تو امریکہ کے یہی فوجی اڈے ان کا تحفظ کریں گے۔

ایران پر حملہ کرکے امریکہ کی طاقت بھرم ٹوٹ چکا ہے کیونکہ اس جنگ میں ایران نے جو چاہا کرکے دکھایا ہے اور خطے میں ناصرف امریکہ کے ایک ایک اڈے اور دفاعی مفادات پر میزائل برسائے ہیں بلکہ اسرائیل کے اندر بھی بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہے۔ ایرانی میزائلوں کی بارش میں امریکہ اور اسرائیل کے دفاعی نظام کی اہلیت کم پڑنے لگی ہے جس کی وجہ سے بحرین، قطر، عراق سمیت کویت کے اندر موجود امریکی اڈوں کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہے اور وہی فوجی اڈے جو علاقے میں تحفظ کا نشان سمجھے جاتے تھے آج وہ تمام اڈے ناصرف ایرانی میزائلوں کے نشانے پر ہیں بلکہ عدم تحفظ کا شکار ہیں۔

ایران کی سٹریٹجی کی سب سے بڑی کامیابی ہے کہ عرب ملکوں نے ایران کی طرف سے امریکی اہداف کو نشانہ بنانے پر تحمل کا مظاہرہ کیا ہے جس کی وجہ سے اسرائیل کی مسلم ممالک کو آپس میں لڑانے کی حکمت عملی ناکام رہی ہے۔ دوسری طرف ایران نے بڑے دو ٹوک الفاظ میں اعلان کیا ہے کہ اس کا اسلامی ممالک کے ساتھ کوئی جھگڑا نہیں ہے اور ایران کسی بھی مسلم ملک کی سالمیت کو نقصان پہنچانے کا ارادہ نہیں رکھتا ہے البتہ ان ممالک میں قائم امریکی اڈوں سے جب بھی ایران کی زمین پر حملہ ہوگا تو ایران ان امریکی اہداف کو ناصرف نشانہ بنائے گا بلکہ نیست و نابود بھی کرے گا۔

ایران کی اس سٹریٹجی کا اثر یہ نکلا ہے کہ اب امریکہ خطہ میں عدم تحفظ کا شکار ہے اور امریکی اسٹیبلشمنٹ خطے سے اپنے اڈوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کا سوچ رہی ہے اور یہی نہیں بلکہ خود مشرق وسطیٰ کے مسلم ممالک میں بھی یہ احساس پیدا ہونے لگا ہے کہ امریکہ اگر مزید خطے میں موجود رہا تو ان کی سالمیت خطرے میں پڑ جائے گی۔ اسرائیل کا حلیف بننے کے بعد اب امریکہ گریٹر اسرائیل کی سازش کا کھل کر حصہ بن گیا ہے جس کے بعد عربوں کے اندر بے چینی جنم لینے لگی ہے کیونکہ گریٹر اسرائیل کا منصوبہ اگر کارگر ہوا تو کئی عرب ممالک کو ہضم کرلے گا۔

موجودہ صورت حال میں مشرق وسطیٰ کے اسلامی ممالک نے امریکہ کو اپنی حدود استعمال کرنے سے روکنے کی مہم شروع کردی ہے کیونکہ امریکی فوج کے خطہ میں سارے اخراجات مسلم ممالک پورے کرتے ہیں جبکہ غزہ اور فلسطین کی تباہی کے بعد امریکہ بقیہ مسلمان ممالک کو بھی اسرائیل کے سامنے جھکانے کی پالیسی پر گامزن دکھائی دیتا ہے۔ امریکہ کی پوزیشن اس وقت مزید کمزور ہوگئی جب آبنائے ہرمز پر ایران نے اپنا کنٹرول مضبوط کرکے آئل کی سپلائی چین کو مکمل طور پر مفلوج کردیا ہے جس کے بعد یورپ سمیت دنیا کے بڑے حصے کو تیل کر سپلائی رک گئی ہے۔

ایران کی اس سٹریٹجی نے پورے یورپ کی چیخیں نکلوا دی ہیں اور یورپی ممالک نے بھی امریکہ کی طرف سے شروع کی جانے والی اس جنگ پر آواز اٹھانا شروع کردی ہے اور سمجھا یہی جارہا ہے کہ اگر جنگ طول پکڑ گئی تو دنیا بھر میں بڑا معاشی بحران کھڑا ہو جائے گا جو پوری دنیا کو جنگ میں دھکیل دے گا۔ دنیا نے ایک اور بڑی تبدیلی یہ بھی دیکھی ہے کہ پہلی بار نیٹو ممالک نے جنگ میں امریکہ کا ساتھ دینے سے احتراز کیا ہے جس کے بعد امریکہ تیزی سے یورپ اور مشرق وسطیٰ میں اپنے حلیفوں کو کھو رہا ہے۔

اس جنگ نے پہلی بار امریکہ اور اسرائیل کے تخریبی چہرے کو دنیا کے سامنے آشکار کیا ہے اور دنیا نے دیکھا ہے کہ پرامن ممالک پر دہشت گردی کا الزام لگا کر قبضہ کرنے والے یہ دونوں ممالک اصل میں دنیا کے امن کے بڑے دشمن ہیں۔ آج جس قدر نیتن یاہو اور ٹرمپ کا گٹھ جوڑ بدنامی سمیٹ رہا ہے شاید پہلے کسی کے حصے میں آئی ہو۔ اس سارے بحران میں روس کی پوزیشن مستحکم ہوئی ہے کیونکہ امریکی نے جو روس کا پٹرول خریدنے سے انڈیا، پاکستان اور دیگر ملکوں کو روک رکھا تھا اب بحران سے نمٹنے کے لئے روسی تیل کی مانگ میں اضافہ ہوگیا ہے۔

دوسری طرف چینی ٹیکنالوجی اور اسلحہ کی ڈیمانڈ میں بھی اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے اور پاکستان کی فوجی صلاحیتوں کو خطے میں تیزی سے پذیرائی مل رہی ہے۔ اگر ہم اگلے چند سالوں کا موازنہ کریں تو لگتا یہی ہے کہ خطے میں روس، چین اور پاکستان کی حیثیت مضبوط ہوگی جو علاقے کے دیگر ممالک کو لیڈ کریں گے جبکہ امریکہ اور اس کے حواری اسرائیل، انڈیا اور افغانستان کے لئے خطے میں مسائل بڑھ جائیں گے جس کے بعد دنیا سے واحد سپر پاور کا سورج غروب ہوتا دکھائی دیتا ہے۔

ایران اسرائیل جنگ نے دنیا میں جنگی حکمت عملی کا نقشہ بھی تبدیل کردیا ہے۔ کل تک فضائی برتری ہی جنگ جیتنے کی ضمانت سمجھی جاتی تھی لیکن آج میزائل ٹیکنالوجی نے جنگ کا نقشہ تبدیل کردیا ہے اور جس تیزی سے میزائل اور ڈرون کی ٹیکنالوجی ترقی کر رہی ہے تو آنے والے دنوں میں ایک براعظم سے دوسرے بر اعظم تک ایٹمی وار ہیڈ بھیجنا ناممکن نہیں رہے گا اور اب جو ملک اپنے جہازوں سے بمباری کرکے بھاگ جاتے ہیں کل ان کے حملوں کا جواب ان ممالک کو بھی فیس کرنا پڑے گا۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ اب ایران جنگ سے اپنی جان چھڑانا چاہتا ہے لیکن شاید اب کی بار یہ جنگ امریکہ کی جان نہیں چھوڑے گی۔

ایران نے واضح پیغام دیا ہے کہ وہ جنگ بندی کے آپشن کے لئے ہر گز تیار نہیں ہے بلکہ آنے والے دنوں میں امریکی بینکوں اور دوسرے معاشی اداروں کو خطے میں نشانہ بنائے گا اور اس وقت تک جنگ جاری رکھے گا جب تک امریکہ مکمل طور پر خطے سے بھاگ نہیں جا تا ہے۔ اس وقت محسوس یہی ہو رہا ہے کہ ایرانی حکومت عملی کام کر رہی ہے اور اسرائیل کی مسلط کی گئی جنگ کو ایران جیت چکا ہے۔

Check Also

Khamosh Cheekh

By Shahid Nasim Chaudhry