Sunday, 22 February 2026
  1.  Home
  2. Dr. Muhammad Tayyab Khan Singhanvi
  3. Silicon Angutha Aur Digital Shanakht Ka Bohran

Silicon Angutha Aur Digital Shanakht Ka Bohran

سیلیکون انگوٹھا اور ڈیجیٹل شناخت کا بحران

ڈیجیٹل عہد نے جہاں انسانی سہولت کو نئی وسعتیں عطا کی ہیں وہیں جرائم کی دنیا کو بھی ایسی باریک راہیں دکھا دی ہیں جن کا تصور چند برس قبل ممکن نہ تھا۔ کبھی نوسر باز جعلی کالز اور مشکوک لنکس کے ذریعے شہریوں کے واٹس ایپ یا دیگر سوشل میڈیا اکاؤنٹس تک رسائی حاصل کرتے تھے، مگر اب دھوکے کی یہ صنعت ایک نئی سطح پر پہنچ چکی ہے۔ سیلیکون انگوٹھوں کے ذریعے سم کارڈز نکلوا کر مالیاتی کھاتوں تک رسائی حاصل کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ مجرمانہ ذہن ٹیکنالوجی کی رفتار سے ہم قدم بلکہ بعض اوقات اس سے بھی آگے بڑھ رہا ہے۔

حال ہی میں کراچی کے ایک شہری کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ محض انفرادی واردات نہیں بلکہ ایک تشویش ناک رجحان کی علامت ہے۔ ایڈیشنل ڈائریکٹر نیشنل سائبر کرائم انوسٹی گیشن اتھارٹی طارق نواز کے مطابق متاثرہ شہری کا موبائل نیٹ ورک اچانک معطل ہوا۔ ابتدائی طور پر یہ ایک تکنیکی خرابی محسوس ہوئی، مگر تحقیق سے معلوم ہوا کہ اسی نمبر کی ایک نئی سم جاری ہو چکی تھی۔ یوں اصل صارف کا رابطہ منقطع کرکے مجرم نے اس کے نام پر متبادل سم حاصل کی اور پھر اسی بنیاد پر مالیاتی اکاؤنٹس کو فعال کرنے کی کوشش کی۔ اطلاعات کے مطابق ملزم نے سیلیکون سے تیار کردہ مصنوعی انگوٹھے کی مدد سے بائیومیٹرک تصدیق کے عمل کو بھی دھوکہ دیا۔

یہ واقعہ کئی بنیادی سوالات کو جنم دیتا ہے۔ اول، کیا بائیومیٹرک تصدیق کا نظام واقعی ناقابلِ تسخیر ہے؟ دوم، کیا ٹیلی کام اور مالیاتی اداروں کے درمیان ڈیٹا کی حفاظت کا مربوط نظام موجود ہے؟ اور سوم، کیا شہریوں کو اپنی ڈیجیٹل شناخت کے تحفظ کے لیے درکار شعور حاصل ہے؟ بظاہر بائیومیٹرک تصدیق کو انسانی شناخت کی آخری اور مستند دلیل سمجھا جاتا ہے، مگر اگر مصنوعی مواد کے ذریعے اس عمل کو گمراہ کیا جا سکتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ حفاظتی ڈھانچے میں کہیں نہ کہیں کمزوری موجود ہے۔

ڈیجیٹل معیشت کی بنیاد اعتماد پر قائم ہوتی ہے۔ جب ایک صارف اپنا انگوٹھا مشین پر رکھتا ہے تو وہ دراصل اپنے وجود کی تصدیق نظام کے سپرد کر رہا ہوتا ہے۔ اگر یہی تصدیق جعل سازی کا شکار ہو جائے تو نہ صرف انفرادی سطح پر مالی نقصان ہوتا ہے بلکہ مجموعی ڈیجیٹل اعتماد بھی مجروح ہوتا ہے۔ پاکستان میں گزشتہ چند برسوں کے دوران موبائل بینکنگ اور برانچ لیس بینکاری میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ لاکھوں صارفین اپنے فون کو جیب میں رکھے ایک مکمل بینک کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔ ایسے میں اگر سم کی غیر مجاز تبدیلی یا بائیومیٹرک جعل سازی کے ذریعے اکاؤنٹس تک رسائی ممکن ہو جائے تو یہ خطرہ محض ایک فرد تک محدود نہیں رہتا بلکہ پورے نظام کو ہلا سکتا ہے۔

سیلیکون انگوٹھے کا تصور سننے میں کسی سائنسی افسانے کا منظر معلوم ہوتا ہے، مگر عملی طور پر یہ ٹیکنالوجی دستیاب ہے۔ فنگر پرنٹ کی نقول بنانے کے لیے مخصوص مواد اور تھری ڈی پرنٹنگ جیسی سہولیات کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اگر کسی مرحلے پر شناختی ڈیٹا لیک ہو جائے یا غیر محفوظ طریقے سے محفوظ کیا گیا ہو تو مجرمین اس کا فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ اس تناظر میں ڈیٹا سیکیورٹی اور اینکرپشن کی اہمیت دوچند ہو جاتی ہے۔

یہاں ریاستی اداروں کا کردار نہایت اہم ہے۔ نیشنل سائبر کرائم انوسٹی گیشن اتھارٹی کی جانب سے فوری کارروائی اور مقدمے کا اندراج یقیناً حوصلہ افزا اقدام ہے، مگر اصل چیلنج پیشگی روک تھام کا ہے۔ سائبر جرائم کی نوعیت یہ ہے کہ وہ سرحدوں اور روایتی دائرہ اختیار سے ماورا ہوتے ہیں۔ اس لیے تحقیقاتی مہارت، ڈیجیٹل فرانزک کی صلاحیت اور بین الادارہ جاتی ہم آہنگی ناگزیر ہیں۔ اگر سم کے اجرا کے نظام میں کثیر سطحی تصدیق شامل نہ ہو تو محض ایک بائیومیٹرک مرحلہ ناکافی ثابت ہو سکتا ہے۔

ٹیلی کام کمپنیوں اور بینکوں کو بھی اپنی داخلی نگرانی کے نظام کو ازسرِنو جانچنا ہوگا۔ سم کی تبدیلی یا ڈپلیکیٹ اجرا کے عمل میں فوری الرٹ سسٹم متعارف کرانا ضروری ہے تاکہ اصل صارف کو بروقت اطلاع مل سکے۔ اسی طرح مالیاتی اکاؤنٹس کی فعالیت کے لیے اضافی تصدیقی اقدامات، مثلاً چہرہ شناسی یا ون ٹائم پاس کوڈ کی کثیر سطحی توثیق، جعل سازی کے امکانات کم کر سکتی ہے۔ ٹیکنالوجی جتنی سہولت فراہم کرتی ہے، اتنی ہی احتیاط بھی طلب کرتی ہے۔

شہریوں کی ذمہ داری بھی کم نہیں۔ اکثر لوگ اپنے شناختی کوائف، فنگر پرنٹ کی نقول یا سم کی تفصیلات کو غیر محتاط انداز میں شیئر کر دیتے ہیں۔ بعض اوقات سوشل میڈیا پر ذاتی معلومات کی فراوانی مجرموں کے لیے خام مواد فراہم کرتی ہے۔ ڈیجیٹل خواندگی کو نصاب اور عوامی مہمات کا حصہ بنانا وقت کی ضرورت ہے تاکہ صارفین محض ٹیکنالوجی کے استعمال کنندہ نہ رہیں بلکہ اس کے خطرات سے بھی آگاہ ہوں۔

اس واقعے کا ایک پہلو قانونی اور پالیسی سطح پر بھی غور طلب ہے۔ کیا موجودہ قوانین بائیومیٹرک جعل سازی جیسے جرائم کے لیے مؤثر سزائیں فراہم کرتے ہیں؟ کیا ڈیٹا کے تحفظ کے لیے جامع قانون سازی نافذ العمل ہے اور اس پر عمل درآمد یقینی بنایا جا رہا ہے؟ اگر قانون اور نفاذ میں خلا موجود ہو تو مجرمین نت نئے طریقے آزماتے رہیں گے۔

حقیقت یہ ہے کہ سائبر دنیا میں جرم کی رفتار قانون سازی سے کہیں زیادہ تیز ہے۔ آج سیلیکون انگوٹھا استعمال ہو رہا ہے، کل کوئی اور طریقہ سامنے آ سکتا ہے۔ اس دوڑ میں کامیابی اسی کو ملے گی جو پیشگی تیاری، تحقیق اور مسلسل آپ گریڈیشن کو شعار بنائے۔ ریاست، ادارے اور شہری اگر مشترکہ حکمت عملی اختیار کریں تو اس خطرے کا سدباب ممکن ہے، وگرنہ ڈیجیٹل سہولتیں عدم تحفظ کے احساس میں تبدیل ہو سکتی ہیں۔

یہ واقعہ ایک وارننگ ہے کہ ٹیکنالوجی کی چمک دمک کے پیچھے اندھیرے گوشے بھی موجود ہیں۔ اگر ہم نے ان گوشوں میں روشنی نہ ڈالی تو اعتماد کی وہ عمارت جس پر ڈیجیٹل معیشت کھڑی ہے، کمزور پڑ سکتی ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ بائیومیٹرک نظام کو ناقابلِ تسخیر سمجھنے کے بجائے اسے مسلسل بہتر بنانے کی کوشش کی جائے، تاکہ شہری کا انگوٹھا اس کی شناخت کی ضمانت رہے، نہ کہ کسی نوسر باز کے لیے کھلا دروازہ۔

Check Also

Uran Bharta Hua Khwabon Ka Parinda: Maryam Ka Jahaz Nahi Ye Pakistan Ki Parwaz Hai

By Asif Masood