Rizq Ki Physics: Bahao Ka Qanoon
رزق کی فزکس: بہاؤ کا قانون

رزق کو ہم عموماً ایک سیدھی سادی مذہبی اصطلاح سمجھ کر دل کے طاق پر رکھ دیتے ہیں، حالانکہ یہ لفظ زندگی کے پورے نظام میں سانس لیتا ہوا ایک متحرک اصول ہے۔ رزق صرف پیسہ نہیں، یہ وقت ہے، صحت ہے، علم ہے، تعلقات ہیں، عزت ہے اور وہ مواقع بھی ہیں جو اچانک دروازہ کھٹکھٹا دیتے ہیں۔ ہماری سب سے بڑی غلطی یہ ہے کہ ہم رزق کو جامد شے سمجھتے ہیں، جیسے کہیں ایک تھیلی رکھی ہے، جس میں سے کچھ لوگوں کو زیادہ اور کچھ کو کم مل جاتا ہے۔ حالانکہ رزق جامد نہیں، یہ بہاؤ ہے۔ جیسے کائنات میں ہر شے حرکت میں ہے، ویسے ہی رزق بھی حرکت چاہتا ہے۔ جہاں حرکت رکتی ہے، وہاں بہاؤ بھی رک جاتا ہے۔ انسان جب خوف، کنجوسی، بداعتمادی اور حرص کے گرد دائرہ کھینچ لیتا ہے تو وہ خود اپنے رزق کے راستے بند کر لیتا ہے، پھر شکوہ کرتا ہے کہ حالات سازگار نہیں، قسمت ساتھ نہیں دے رہی۔
اللہ کا قانون بڑا واضح ہے کہ جو کچھ تم خرچ کرتے ہو، وہی واپس آتا ہے، بلکہ اس سے بہتر شکل میں۔ یہ کوئی محض اخلاقی نصیحت نہیں بلکہ ایک کائناتی اصول ہے۔ جیسے پانی کو بند کر دو تو وہ سڑ جاتا ہے اور بہنے دو تو شفاف رہتا ہے، ویسے ہی رزق کو روک لو تو وہ بے برکت ہو جاتا ہے اور رواں رکھو تو بڑھتا چلا جاتا ہے۔ مگر یہاں خرچ کرنے کا مطلب صرف پیسے لٹانا نہیں، بلکہ علم بانٹنا، وقت دینا، کسی کے کام آنا، کسی کا بوجھ ہلکا کرنا بھی اسی قانون کا حصہ ہے۔ ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ پہلے بہت آ جائے، پھر دیں گے، حالانکہ قانون اس کے برعکس ہے: دو گے تو بڑھے گا۔ خوف کی ذہنیت انسان کو بتاتی ہے کہ اگر دے دیا تو کم ہو جائے گا، مگر حقیقت یہ ہے کہ خوف خود سب سے بڑا خسارہ ہے، کیونکہ وہ بہاؤ کو توڑ دیتا ہے۔
بند نظام کی مثال بالکل سادہ ہے۔ ایک شخص صرف اپنی ذات کے گرد گھومتا ہے، اس کا ہر فیصلہ "میرا فائدہ" کے محور پر ہوتا ہے، وہ ہر آنے والے کو ممکنہ خطرہ سمجھتا ہے، ہر خرچ کو نقصان، ہر مدد کو بوجھ۔ ایسے شخص کی زندگی میں رزق کی آمد محدود ہو جاتی ہے، چاہے وہ بظاہر کتنا ہی کما رہا ہو۔ دوسری طرف کھلا نظام وہ ہے جہاں انسان اعتماد کے ساتھ زندگی میں قدم رکھتا ہے، جہاں دینے میں خوشی ہے، جہاں دوسروں کی ترقی اپنی شکست نہیں لگتی۔ ایسے لوگ عموماً یہ شکایت نہیں کرتے کہ ان کے پاس کیا نہیں، بلکہ شکر کرتے ہیں کہ جو ہے، وہ کافی ہے۔ حیرت انگیز طور پر یہی لوگ وقت کے ساتھ زیادہ وسائل، بہتر مواقع اور اندرونی سکون حاصل کر لیتے ہیں۔ یہ کوئی جادو نہیں، بلکہ بہاؤ کا سیدھا اصول ہے۔
ہماری نیت کا کردار یہاں مرکزی ہے۔ نیت دراصل وہ زاویہ ہے جس سے ہم زندگی کو دیکھتے ہیں۔ اگر نیت خوف سے بنی ہو تو ہر راستہ تنگ نظر آتا ہے اور اگر نیت اعتماد سے بنی ہو تو امکانات خود راستہ بناتے ہیں۔ قرآن میں یہ بات بہت گہرے انداز میں کہی گئی ہے کہ تم جو خرچ کرتے ہو، اللہ اس کا بدل دیتا ہے اور وہ سب سے بہتر رزق دینے والا ہے۔ اس آیت کو صرف صدقے تک محدود کرنا دراصل اس کے مفہوم کو چھوٹا کر دینا ہے۔ یہ قانون ہر سطح پر کام کرتا ہے: خیالات میں، تعلقات میں، محنت میں اور خوابوں میں۔ جو انسان اپنی محنت بھی آدھے دل سے کرتا ہے، وہ دراصل اندر ہی اندر خسارے کے خوف میں مبتلا ہوتا ہے، جبکہ جو پورے دل سے کام کرتا ہے، وہ نتیجے کو اللہ پر چھوڑ دیتا ہے اور یہی اعتماد اس کے لیے نئے در کھولتا ہے۔
رزق کی برکت ایک اور اہم پہلو ہے جسے ہم اکثر نظر انداز کر دیتے ہیں۔ برکت مقدار میں نہیں، اثر میں ہوتی ہے۔ کم آمدن کے باوجود مطمئن زندگی گزارنے والے لوگ ہمیں روز ملتے ہیں اور زیادہ آمدن کے باوجود پریشان حال چہرے بھی۔ برکت دراصل وہ توانائی ہے جو رزق کو زندگی سنوارنے کے قابل بناتی ہے۔ یہ توانائی شکر، قناعت اور نیک نیتی سے پیدا ہوتی ہے۔ جب انسان ہر وقت موازنہ، حسد اور شکایت میں مبتلا رہتا ہے تو اس کا رزق چاہے کتنا ہی بڑھ جائے، زندگی تنگ ہی رہتی ہے۔ اس کے برعکس جو شخص موجود نعمتوں کو پہچان لیتا ہے، وہی ان نعمتوں کے پھیلنے کا سبب بنتا ہے۔ بہاؤ کا قانون یہاں بھی خاموشی سے اپنا کام کرتا ہے۔
عملی قدم اس پورے تصور کا خلاصہ ہے۔ صرف مان لینا کافی نہیں، بلکہ زندگی میں چھوٹے مگر مسلسل اقدامات ضروری ہیں۔ جب خوف آئے تو اس کے باوجود درست قدم اٹھانا، جب دل کنجوسی کی طرف مائل ہو تو کچھ نہ کچھ دے دینا، جب شکوہ زبان پر آئے تو شکر کا جملہ چن لینا، یہ سب رزق کے راستوں کو کھولنے کے عملی طریقے ہیں۔ زندگی میں کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ ہم دیتے ہیں مگر فوراً نتیجہ نظر نہیں آتا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں صبر رزق کی فزکس کا لازمی جزو بن جاتا ہے۔ ہر بیج فوراً پھل نہیں دیتا، مگر زمین اسے کبھی ضائع نہیں کرتی۔ اللہ کا نظام بھی ایسا ہی ہے، وہ تاخیر کر سکتا ہے، مگر ضائع نہیں کرتا۔
آخر میں بات سادہ ہے مگر گہری۔ رزق کا مسئلہ دراصل رقم کا نہیں، رویے کا مسئلہ ہے۔ جس دن ہم رزق کو خوف کے بجائے اعتماد کے ساتھ دیکھنا سیکھ لیں گے، اسی دن ہماری زندگیوں میں بہاؤ دوبارہ شروع ہو جائے گا۔ ہم جتنا کھلیں گے، اتنا ہی ہمیں ملے گا اور جتنا بند ہوں گے، اتنا ہی تنگ ہو جائیں گے۔ رزق کی فزکس ہمیں یہی سکھاتی ہے کہ کائنات میں سب کچھ گردش میں ہے، جو ہاتھ کھلے رکھتا ہے، وہ پانے کے قابل ہوتا ہے اور جو مٹھی بند کر لیتا ہے، وہ آخرکار خود بھی خالی رہ جاتا ہے۔
رزق محض جیب میں رکھا ہوا عدد نہیں، یہ دل کے زاویے سے جڑا ہوا ایک بہتا ہوا مفہوم ہے۔ جب دل کھلتا ہے تو راستے کھلتے ہیں اور جب خوف حاوی ہو جائے تو امکانات سمٹنے لگتے ہیں۔ یہ تحریر اگر کسی ایک جگہ قاری کو ٹھہرنے پر مجبور کر دے، تو سمجھئے کہ بات اپنا راستہ بنا گئی۔
رزق رکتا نہیں، ہم ہی اسے باندھ لیتے ہیں
خوف کی مٹھی میں تقدیر کو جکڑ لیتے ہیں
جو بھی دیتا ہے، وہی پاتا ہے آخر کار
ہم مگر پہلے ہی نقصان کا ڈر پا لیتے ہیں
برکت اترتی ہے نیت کی شفاف آنکھوں سے
ہم حسابوں میں خدا کو بھی پرکھ لیتے ہیں
کم سہی، شکر اگر دل سے ادا ہو جائے
خالی دامن بھی سکونوں سے بھر لیتے ہیں
زندگی بہہتی ہے دریا کی طرح خاموش
ہم کنارہ پکڑ کے پھر پیاس سے مر لیتے ہیں

