Thursday, 12 March 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Muhammad Idrees Abbasi
  4. Hamen Khomeini Kyun Na Mil Saka?

Hamen Khomeini Kyun Na Mil Saka?

ہمیں خمینی کیوں نہ مل سکا؟

گزشتہ بارہ روز سے ایران پہ حملوں کے بعد دل میں ایک عجیب سی خلش محسوس ہوتی ہے۔ آقائے خمینی نے اپنی جان، جان آفریں کے سپرد کردی اور امر ہو گئے۔ جاری جنگ پہ لوگوں نے بہت کچھ لکھا، لیکن ایک اہم نکتہ پہ توجہ کم ہے۔ ہم پاکستانی اتنے بدقسمت کیوں رہے ہیں ہمیں پچھتر برس سے زیادہ کا سفر طے کرنے کے باوجود قیادت کا اس طرز کا معیار نہیں مل سکا۔ قائد اعظم بہت مختصر وقت میں داغ مفارقت دے گئے، پھر ہم نے سیاست دان بہت دیکھے، حکمران بھی بہت دیکھے، مگر سچ پوچھیں تو ایسے رہنما بہت کم دیکھے جن کے کردار میں درویشی ہو، جن کی زندگی اقتدار کی بجائے اصولوں سے پہچانی جائے اور جن کی سادگی ان کی سب سے بڑی پہچان بن جائے۔

دنیا کی تاریخ میں کبھی کبھی ایسے لوگ پیدا ہوتے ہیں جو اپنے زمانے سے بڑے ثابت ہوتے ہیں۔ ان کی زندگی محض ایک سیاسی سفر نہیں ہوتی بلکہ ایک نظریاتی جدوجہد بن جاتی ہے۔ ایران کے انقلابی رہنما آیت اللہ امام خمینی بھی انہی شخصیات میں شمار کیے جاتے ہیں۔ ان کی زندگی کا سب سے نمایاں پہلو اقتدار نہیں بلکہ سادگی اور بے نیازی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ انقلاب کے بعد جب وہ اقتدار کے مرکز میں آئے تو بھی ان کی ذاتی زندگی میں وہی سادہ پن قائم رہا جو ایک درویش صفت عالم کی زندگی میں ہوتا ہے۔ نہ کوئی محلات، نہ دولت کے انبار اور نہ ہی دنیاوی آسائشوں کی دوڑ۔

امام خمینی کی ذاتی زندگی کے بارے میں کئی واقعات بیان کیے جاتے ہیں جو ان کے طرزِ حیات کی سادگی کو واضح کرتے ہیں۔ ان کے پاس ذاتی جائیداد یا بینک بیلنس کے انبار نہیں تھے۔ ان کی زندگی کا بڑا حصہ ایک سادہ سے گھر میں گزرا اور بعض اوقات وہ سرکاری مہمان خانوں میں قیام کرتے رہے۔ ان کے انتقال کے بعد جب ان کے ذاتی اثاثوں کا ذکر آیا تو بتایا گیا کہ ان کے ترکے میں دولت یا جائیداد کی بجائے کتابیں اور علمی سرمایہ ہی اصل میراث تھی۔ یہی کسی عالم اور مفکر کی اصل دولت ہوتی ہے۔ ان کے بیٹوں اور خاندان کے افراد کی زندگی بھی اسی سادگی کی روایت کا تسلسل سمجھی جاتی ہے۔ اقتدار کے قریب ہونے کے باوجود ان کی زندگیوں میں وہ شاہانہ طرز نہیں پایا جاتا جو اکثر حکمران خاندانوں کا مقدر بن جاتا ہے۔

خمینی نے طویل اقتدار پایا، مگر صرف ایک نکتے پہ وہ مار کھاتے تھے، وہ ان کی طویل حکمرانی تھی۔ کسی لیڈر کے تمام تر اوصاف حمیدہ کے باوجود انسانی جبلت کا ایک فطری رحجان یکسانیت سے بور ہو جانا ہے۔ طویل حکمرانی بعض اوقات لوگوں کے اندر تنقیدی رویہ پیدا کر دیتی ہے۔ مگر اس کے باوجود بہرحال کسی رہنما کے کردار کا اصل پیمانہ یہ ہوتا ہے کہ اس کی ذاتی زندگی میں دیانت، سادگی اور نظریاتی وابستگی کتنی مضبوط تھی۔ اگر اقتدار کے باوجود اس کا دامن دنیاوی حرص سے پاک رہا ہو تو تاریخ اسے مختلف انداز میں یاد رکھتی ہے۔

جب ہم اپنی سرزمین پاکستان کی طرف دیکھتے ہیں تو دل میں ایک ہوک اٹھتی ہے یہ ملک ایک عظیم خواب کی تعبیر کے طور پر وجود میں آیا تھا مگر وہ خواب اس لئے ادھورا رہ گیا کہ اسے پورا کرنے والی شخصیت نہ پیدا ہو سکی۔ قائد اعظم کے بعد کی تاریخ میں ہم نے سیاست کے کئی رنگ دیکھے۔ اقتدار کی کشمکش، مفادات کی سیاست اور الزامات کی گرد نے وہ منظر ہی دھندلا دیا جس میں ایک صاف شفاف قیادت دکھائی دیتی ہے۔

ہماری بدقسمتی مگر اب تک یہی ہے کہ ہم اب تک ایسی شخصیات کے پیچھے بھاگ رہے ہیں، جو سراب ثابت ہوتی ہیں۔ ہم وہ بدقسمت قوم ہیں جسے وہ رہنما نہ مل سکا جو اقتدار کو ذاتی نمود بنانے کا ذریعہ نہ سمجھے بلکہ اسے ایک امانت تصور کرے اور جس کی ذاتی زندگی شفاف اور کھلی کتاب کی مانند ہو اور جس کے کردار پر انگلی اٹھانے کی گنجائش نہ ہو۔ قوموں کی تقدیر صرف منصوبوں اور پالیسیوں سے نہیں بدلتی، بلکہ کردار سے بدلتی ہے۔ کسی سیاسی پارٹی کا نام نہیں لوں گا، لیکن پر ایک پارٹی کے کارکنان ذرا اپنے دل میں سوچیں، کیا ان کا لیڈر صادق اور امین کے پیمانے پہ پورا اترتا ہے؟ ہرگز نہیں۔ اگر کارکنان ایسا سمجھتے ہیں تو یا تو وہ سٹنٹڈ گروتھ کا شکار ہیں، یا پھر انکی آنکھوں پہ پردا پڑا ہے اور ان کی مت ماری ہوئی ہے۔

پاکستان کی تاریخ میں عوام نے کئی بار امید کے چراغ جلائے، مگر اکثر یہ چراغ سیاسی طوفانوں میں مدھم ہو گئے۔ کبھی جمہوریت کے نام پر توقعات بندھیں، کبھی انقلاب کے نعروں نے دلوں کو گرمایا اور کبھی اصلاحات کے وعدوں نے لوگوں کو نئی امید دی۔ مگر وقت گزرنے کے ساتھ اکثر یہ امیدیں مایوسی میں بدلتی گئیں۔

کیا اب بھی وہ لمحہ نہ آیا جب ہم اپنے اندر جھانکنے پر مجبور ہوں اور سوچیں کہ ہم بنجر کیوں ہیں؟

شاید مسئلہ صرف قیادت کا نہیں بلکہ ہمارے اجتماعی مزاج کا بھی ہے۔ ہم بعض اوقات جذبات میں فیصلے کرتے ہیں اور کردار کے بجائے نعروں سے متاثر ہو جاتے ہیں۔ یا پھر برصغیر کے لوگ یہاں کے آب و ہوا اور گرم مصالحہ جات کی بناء غبی ہیں، سست اور کاہل الوجود ہیں، غلامی پسند ہیں اور روایتی طور پہ ڈنگ ٹپاؤ ہیں۔ ان سب باتوں کے باوجود لیکن تاریخ ہمیں یہی سکھاتی ہے کہ پائیدار تبدیلی صرف اس وقت آتی ہے جب قیادت اور قوم دونوں اپنے اندر سچائی، دیانت اور قربانی کا جذبہ پیدا کریں۔

یہ جنگ بہرحال کبھی نہ کبھی ختم ہو جائے گی، مگر ہم کوئی سبق اس سے سیکھیں گے؟

پاکستان بھی شاید آج اسی لمحے کا منتظر ہے۔ ایک ایسے کردار کا منتظر جو مفادات کی سیاست سے بلند ہو، جو قوم کو اپنے عمل سے راستہ دکھائے اور جو یہ ثابت کر دے کہ قیادت کا اصل معیار ذاتی نمائش یا دولت نہیں بلکہ کردار ہوتا ہے۔

شاید تاریخ کا اگلا باب اسی سوال کا جواب اپنے اندر چھپائے ہوئے ہے۔ بزرگ اور اولیاء اللہ تو یہی کہتے ہیں، واللہ اعلم باالصواب۔ اللہ بہرحال ان کی زبان مبارک کرے۔

About Muhammad Idrees Abbasi

Engineer Muhammad Idrees Abbasi is former advisor world bank and writes on politics and social topics.

Check Also

Tail, Bijli Aur Awam

By Shahid Mehmood