Tail, Bijli Aur Awam
تیل، بجلی اور عوام

چند سال پہلے مجھے ایک بڑی نیشنل لیول کی کمپنی کی سالانہ کانفرنس میں شرکت کا موقع ملا۔ کراچی کے ایک بڑے ہوٹل کے کانفرنس ہال میں تین سے چار سو سیلز ریپس موجود تھے جبکہ اگلی نشستوں پر ہیڈ آفس کی سینئر مینجمنٹ براجمان تھی۔ ہال میں جنرل مینیجر، مارکیٹنگ مینیجر، بزنس مینیجر، پراڈکٹ مینیجر، برانڈ مینیجر جیسی شخصیات تھیں جن کا تعلق ہیڈ آفس سے تھا جبکہ دوسری طرف سیلز مینیجر، فیلڈ مینیجر اور سیلز آفیسر بیٹھے تھے جن کا کام دن رات فیلڈ میں رہ کر کمپنی کے بزنس ٹارگٹس کو حاصل کرنا تھا۔
جب کانفرنس شروع ہوئی تو سال کے اہداف کو حاصل کرنے پر زور دار تالیاں ببجائی گئیں اور اس کے ساتھ ہی ایک ایک کرکے سینئر مینجمنٹ کے لوگوں کو بلایا جانے لگا۔ ان میں سے کسی کو بہترین کارکردگی کی بنیاد پر تعریفی شیلڈیں دی گئیں اور کچھ مینجمنٹ کے افراد کی گاڑیاں آپ گریڈ ہوئیں تو کچھ کو کیش انعامات ملے اور اکثر سینئر مینجمنٹ کے افراد کو بونس اور انکریمنٹ دینے کے اعلانات ہوتے رہے۔
فیلڈ فورس کے لوگ مسلسل تالیاں بجاتے رہے اور اس امید پر خوشی سے نعرے لگاتے رہے کہ جلد ہی ان کی باری بھی آئے گی اور وہ بھی اپنا انعام وصول کریں گے۔ لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا بلکہ جنرل مینیجر نے ڈائس پر آکر اپنی مارکیٹنگ ٹیم کی خوب تعریفیں کیں اور فیلڈ فورس کو تنبیہہ کی گئی کہ کمپنی نے اپنے اہداف تو حاصل کر لئے ہیں لیکن مینیجمینٹ کی امیدوں کے مطابق فیلڈ فورس نے کام نہیں کیا اور آنے والے دنوں میں تمام فیلڈ فورس کی کڑی نگرانی کا عندیہ دیا گیا اور جو مینیجمینٹ کے دیئے گئے ٹاسک پورے نہیں کرے گا اس کو فائر کردیا جائے گا۔
یقین جانئے ایسی ہی صورتحال اس وقت وطن عزیز کی ہے جہاں موجودہ حکومت نے معاشی بدحالی کی بات کرتے ہوئے حکومت سنبھالی تھی اور ملک کو معاشی مسائل سے نکالنے کے دعوے کئے تھے جس کا آغاز وزیر اعظم، وزرائے اعلی سمیت ساری کابینہ کے ممبران کی تنخواہوں میں ریکارڈ اضافے سے کیا گیا تھا اور ہر وزیر کی تنخواہ آٹھ سے دس لاکھ روپے تک بڑھا دی گئی۔ پھر بڑی بڑی گاڑیوں کی تقسیم شروع ہوئی اور آخر میں پٹرول، گیس، بجلی اور مفت ٹیلی فون سروسز کی عیاشیوں میں اضافہ کیا گیا۔ اس کے بعد بیوروکریسی کے چہیتوں کو نوازا جانے لگا جہاں تیرہ سو سی سی گاڑیوں کو پراڈو، لینڈ کروزر سمیت کئی ہزار سی سی گاڑیوں سے تبدیل کیا گیا اور لامحدود پٹرول کی عیاشی بھی شامل کی گئی۔
حد تو یہ ہے کہ سرکاری محکموں میں افسران کی ایک فوج ہے اور یہ سارے افسران عوام کے ٹیکسوں پر عیاشی کرتے ہیں اور ریٹائرمنٹ کے بعد بھی قوم کا پیچھا نہیں چھوڑتے ہیں اور ہر افسر لاکھوں کی پنشن اور مراعات وصول کرتا ہے۔ ایسے ہی معاملات عدلیہ میں بھی دیکھے گئے ہیں کہ ججز کی تنخواہوں میں ریکارڈ اضافہ ہوا اور تو اور عدلیہ کے عملہ کی تنخواہیں بھی اساتذہ، ڈاکٹروں اور انجینئروں جیسے پڑھے لکھے افراد سے کئی گنا زیادہ ہیں۔ وطن عزیز میں حکمرانوں اور بیوروکریٹس کے زیر سایہ طرح طرح کے مافیا جنم لیتے ہیں جن میں شوگر اور بجلی کے کارخانے سر فہرست ہیں جو کبھی سبسڈی کے نام پر لوٹتے ہیں اور کبھی بغیر بجلی سپلائی کئے اربوں کی رقم حکومت سے بٹورتے ہیں اور یہ سلسلہ سالہا سال سے چل رہا ہے اور اب حالت یہ ہو چکی ہے کہ ان تمام طبقات کے اللے تللوں کے لئے لوگوں کی چمڑی ادھیڑ کر اس پر نمک پاشی کی جارہی ہے۔
پاکستانی قوم کئی دھائیوں سے ان پاور پلانٹس کی قید میں ہیں اور ان کی ادائیگیوں کی خاطر ٹیکسوں، ڈیوٹیوں کی مد میں اصل قیمت سے پانچ گنا ادائیگیاں کرتے ہیں اور پھر حکومت اور واپڈا مل کر اضافی بجلی کے یونٹس کا بل الگ سے کلیم کرتے ہیں۔ اس کے بعد مہنگے جہاز خریدے جاتے ہیں اور لگژری آسائشوں کو شامل کیا جاتا ہے اور ابھی یہ سلسلہ رکا نہیں ہے جبکہ دوسری طرف عوام بیٹھی انتظار کررہی ہے کہ شاید کبھی ان کی زندگیوں میں بھی کوئی تبدیلی آئے گی اور ان کو بھی آسائشیں تو دور کی بات بنیادی ضروریات ہی مل سکیں گی۔ اسی امید پر انتظار کرتے ہوئے اٹھائیس فیصد سے زیادہ آبادی خط غربت سے نیچے لڑھک گئی ہے جبکہ ساڑھے سات فیصد کے حساب سے بیروزگاری میں اضافہ ہوگیا ہے اور اب نہ لوگوں کو روزگار ملتا ہے اور اگر ملتا بھی ہے تو اس کی تنخواہ بہت کم ہوتی ہے۔
آج بھی پرائیویٹ سکولوں اور کالجوں میں پڑھانے والے اساتذہ کی اکثریت بیس سے تیس ہزار روپے پر گزارہ کرتی ہے جبکہ مختلف دکانوں اور کارخانوں میں مزدور پچیس سے تیس ہزار روپے کمانے کے لئے اپنا خون پسینہ بہاتے ہیں۔ ملک میں دو کروڑ سے زیادہ بچے سکول نہیں جاتے ہیں اور چائلڈ لیبر کا حصہ بن کر ماں باپ کا ہاتھ بٹاتے ہیں۔ آج کل تو ویسے بھی روزی کمانے کے لئے ٹھیلے لگانے والوں کی زندگی انفورسمنٹ کے محکموں نے اجیرن کر رکھی ہے جبکہ پٹرول اور بجلی کی بڑھتی قیمتوں سے ناصرف اشیاء کی لاگت بڑھ جاتی ہے بلکہ مہنگی امدورفت سے مہنگائی کا طوفان بھی عوام کو جھیلنا پڑتا ہے۔ پھر شہر کی خوبصورتی کے نام پر بڑے پیمانے پر توڑ پھوڑ سے بھی لوگوں کے لئے روزگار کمانا مشکل ہوتا جارہا ہے جبکہ پراپرٹی کے شعبہ میں صرف لاہور شہر میں لوگوں کے تیس ارب روپے پھنسے ہوئے ہیں جس کے لئے نہ تو حکومت کوئی قدم اٹھاتی ہے اور نہ ہی متعلقہ محکمے کاروائی کرتے ہیں۔
موجودہ حالات میں حکومت نے تعلیمی اداروں کو بند کرکے اور سرکاری ملازمین کو گھروں پر رہ کر کام کرنے کی ہدایت کرکے جو بچت پالیسی اپنائی ہے اس میں ان افسران کو پوری تنخواہ ملتی رہے گی لیکن بائیکیا اور گاڑی چلا کر اپنا پیٹ پالنے والوں کے لئے زندگی مزید تنگ ہو جائے گی۔ یہ لوگ گھروں میں بیٹھیں گے تب بھی بھوکے مریں گے اور روزی کے لئے باہر نکلیں گے تو بھی بھوک ان کو نہیں چھوڑے گی اور پھر جابرانہ ٹریفک چالان نے الگ سے لوٹ مچارکھی ہے۔ اسی طرح روزانہ دیہاڑی کرنے والے مزدوروں اور گلی گلی پھر کر دکانوں پر مال سپلائی کرکے شام کو روٹی کمانے والوں کے لئے بھی اب زندگی آزمائش بن چکی ہے۔
مختصر یہ کہ پاکستان میں عام آدمی اب پریشانی کا شکار ہے جسے حکمران ریلیف دینے کی بجائے مسلسل ٹیکسوں اور مہنگائی کی چکی میں پیس رہے ہیں اور حالت یہ ہے کہ کبھی آئی ایم ایف کا نام لے کر عوام کی بچتوں کو چھینا جاتا ہے تو کبھی مہنگے پٹرول، مہنگی بجلی اور گیس کے معاہدوں کے نام پر لوگوں کی دو وقت کی روٹی بھی چھین لی جاتی ہے لیکن اسی سالوں میں حل کوئی نہیں نکلا ہے بلکہ ہر گزرتے دن کے ساتھ پاکستان میں لوگ غربت کا شکار ہو رہے ہیں۔
حد تو یہ ہے کہ جو لوگ حکومت میں ہیں اور بڑے بڑے عہدوں پر بڑی تنخواہیں وصول کررہے ہیں ان کی عیاشیاں کم نہیں ہوتی ہیں اور پھر یہ لوگ اپنا لوٹ کھسوٹ کا مال یورپ یا دبئی میں جمع کرکے دہری شہریت حاصل کر لیتے ہیں اور جب ساری زندگی ملک اور قوم کا خون نچوڑ کر ریٹائرڈ ہوتے ہیں تو پہلی فلائٹ میں ملک سے فرار ہو جاتے ہیں۔ وطن عزیز اس وقت اشرافیہ کی بے حسی کا شکار ہے جس میں عام آدمی ہر گزرتے دن کے ساتھ بھوک اور مفلسی کی طرف بڑھ رہا ہے اور تیل اور بجلی اس کے لئے عذاب بن چکے ہیں اور لوگوں کو غاروں کی طرف دھکیل رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ایسے حکمرانوں کا کیا کرنا ہے جو خرابی کرتے ہیں اور بوجھ بھی بنتے ہیں۔

