Ye Zulm Band Karen
یہ ظلم بند کریں

یہ کیسا انصاف ہے؟ ایک طرف سرکاری سکول پوری شان سے کھلے ہوئے ہیں، بچے کلاسوں میں بیٹھے ہیں، اساتذہ پڑھا رہے ہیں اور امتحانات کے نام پر پورا نظام چل رہا ہے۔ دوسری طرف پرائیویٹ سکولوں کے دروازوں پر تالے لٹک رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ آخر یہ فرق کیوں؟ قانون اگر قانون ہے تو سب کے لیے ہونا چاہیے۔ اگر حالات ایسے ہیں کہ تعلیمی ادارے بند کرنا ضروری ہیں تو پھر یہ پابندی سب پر ہونی چاہیے۔ لیکن اگر سرکاری سکول کھل سکتے ہیں تو پھر پرائیویٹ سکول کیوں نہیں؟
یہ پاکستان کا المیہ ہے کہ یہاں فیصلے اصولوں پر نہیں بلکہ ترجیحات پر ہوتے ہیں۔ سرکاری سکولوں میں سکول بیسڈ اسیسمنٹ یا سالانہ امتحانات کے نام پر تعلیمی سرگرمیاں جاری ہیں۔ بچے آ رہے ہیں، امتحان دے رہے ہیں اور سکولوں کا نظام چل رہا ہے۔ لیکن پرائیویٹ سکولوں کے بارے میں اچانک یہ فیصلہ کر لیا جاتا ہے کہ انہیں بند کر دیا جائے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ زیادہ تر پرائیویٹ سکول فروری میں اپنے سالانہ امتحانات مکمل کر چکے ہیں اور نئی کلاسز کا آغاز بھی ہو چکا ہے۔ یعنی ان کے پاس پڑھانے کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں۔ لیکن دروازے بند ہیں۔
یہ صرف سکول بند کرنے کا معاملہ نہیں، یہ ہزاروں خاندانوں کے معاش کا معاملہ بھی ہے۔ پاکستان میں پرائیویٹ سکول صرف عمارتوں کا نام نہیں ہوتے۔ یہ لاکھوں اساتذہ کی روزی روٹی ہیں، یہ چھوٹے چھوٹے کاروبار ہیں، یہ وہ ادارے ہیں جو سرکاری نظامِ تعلیم کا بوجھ بھی اٹھا رہے ہیں۔ اگر یہ سکول بند ہوں گے تو صرف کلاس روم خالی نہیں ہوں گے بلکہ ہزاروں گھروں کے چولہے بھی ٹھنڈے پڑ جائیں گے۔
حکومت شاید یہ سمجھتی ہے کہ پرائیویٹ سکول صرف فیسیں وصول کرتے ہیں۔ لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ یہ ادارے محدود وسائل کے باوجود بچوں کو بہتر ماحول دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ والدین اپنی جیب سے پیسے دے کر اپنے بچوں کو یہاں اس لیے بھیجتے ہیں کیونکہ انہیں امید ہوتی ہے کہ یہاں تعلیم اور نظم و ضبط دونوں ملیں گے۔ مگر جب حکومت خود ہی اس نظام کو دیوار کے ساتھ لگا دے تو پھر والدین، اساتذہ اور طلبہ سب بے یقینی کا شکار ہو جاتے ہیں۔
مزید افسوسناک بات یہ ہے کہ اگر کوئی پرائیویٹ سکول کھلا بھی نظر آتا ہے تو وہ کسی نہ کسی بہانے سے کھلا ہوتا ہے۔ کہیں سالانہ امتحان کا نام لے لیا جاتا ہے، کہیں کسی اور سرگرمی کا۔ گویا ہم اپنے بچوں کو یہ سکھا رہے ہیں کہ قانون کو ماننے کے بجائے اس کا راستہ کیسے نکالا جاتا ہے۔ یہ طرزِ عمل ایک مہذب معاشرے کی بنیاد نہیں بن سکتا۔
ایک مہذب ریاست وہ ہوتی ہے جہاں قانون سب کے لیے برابر ہو۔ جہاں سرکاری اور نجی اداروں کے درمیان امتیاز نہ ہو۔ جہاں فیصلے انصاف کی بنیاد پر کیے جائیں نہ کہ سہولت کی بنیاد پر۔ اگر حکومت واقعی ایک ذمہ دار اور مہذب معاشرہ بنانا چاہتی ہے تو اسے سب سے پہلے تعلیم کے میدان میں انصاف کرنا ہوگا۔
ورنہ سچ یہ ہے کہ ایسے فیصلے صرف سکولوں کے دروازے بند نہیں کرتے، یہ انصاف کے دروازے بھی بند کر دیتے ہیں اور جب انصاف کے دروازے بند ہو جائیں تو معاشرے میں بے چینی اور بے اعتمادی جنم لینا شروع ہو جاتی ہے۔ یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب سوال اٹھتے ہیں اور یہ سوال پھر خاموش نہیں ہوتے۔

