Monday, 01 June 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Zafar Syed
  4. Faiz Sahab Ki Realist Film Buri Tarah Nakam Kyun Hui?

Faiz Sahab Ki Realist Film Buri Tarah Nakam Kyun Hui?

فیض صاحب کی رئیلسٹ فلم بری طرح ناکام کیوں ہوئی؟

فیض احمد فیض اردو کے اہم شاعر، مدیر اور بائیں بازو کے دانشور کی حیثیت سے تو جانے جاتے ہیں لیکن یہ بات کم لوگوں کے علم میں ہوگی کہ انھوں نے دو فلمیں بھی بنائی تھیں۔

اصل میں ترقی پسندوں نے بھانپ لیا تھا کہ عوام تک پہنچنے کا سب سے آسان میڈیم فلم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ساحر لدھیانوی، کرشن چندر، عصمت چغتائی، مجروح سلطان پوری اور دوسرے کئی ترقی پسند ادبی شاعری چھوڑ کر بالی وڈ کی دنیا میں جا بسے اور انھوں نے کاغذ کی بجائے سلیولائیڈ کو ذریعۂ اظہار بنا لیا۔

اسی بات کو مدِ نظر رکھ کر فیض نے بھی فلم بنانے کا سوچا۔ سب سے پہلے انھوں نے سنہ 1956 میں مشہور ہدایت کار اے آر کاردار کے بھائی اے جے کاردار کے ساتھ مل کر ایک فلم کی داغ بیل ڈالی، جاگو ہوا سویرا۔۔

یہ فلم بنگال کے مچھیروں کی زندگی پر مبنی تھی اور اس کی کہانی مانک بندوپادھیائے کے ناول بوٹ مین آف پدما، سے اخذ کی گئی تھی۔ فیض نے نہ صرف اس فلم کی کہانی، مکالمے اور گیت لکھے، بلکہ ہدایت کاری میں بھی ہاتھ بٹایا۔

مکالمے کا شعبہ میں نے فیض کے کھاتے میں لکھ تو دیا ہے لیکن اس فلم میں مکالمے اتنے ہی ہیں جتنے فیض صاحب اصل زندگی میں بولتے تھے، یعنی بقدرِ اشکِ بلبل اور بلبل بھی انیمیا زدہ۔

جاگو ہوا سوایرا اٹلی سے شروع ہونے والی حقیقت نگاری کی فلمی تحریک نیو ریئلزم، سے متاثر تھی۔ جاننے والے جانتے ہیں کہ دوسری جنگِ عظیم کے ملبے میں، جب اٹلی کے شہروں میں کھنڈروں میں فرق کرنا مشکل تھا اور لوگ روٹی کے ٹکڑے کو ترس رہے تھے، اطالوی فلم سازوں کے ایک گروہ نے سینما کی روایت کو بدل ڈالا۔ اس تحریک کو نیو ریئلزم یعنی "نئی حقیقت پسندی" کہا گیا اور تقریباً 1943 سے 1952 تک یہ اطالوی سینما کا غالب رویہ رہی۔

یہ تحریک ایک طرح سے امریکہ میں ڈپریشن کے بعد تیس کی دہائی میں شروع ہونے والی گلیمرائزڈ چمک دمک، کوریوگرافڈ رقص پر مبنی میوزیکل فلموں کے خلاف ردعمل تھا، جس کا بنیادی اصول یہ تھا کہ اصل زندگی کو، اصل لوگوں کے ذریعے، اصل مقامات پر دکھایا جائے۔ نیو ریئلزم کی نمایاں خصوصیات یہ تھیں: کہانیاں مزدوروں، بےروزگاروں، یتیموں اور لاچار دیہاتیوں کی، شوٹنگ سٹوڈیو کے مصنوعی ماحول کی بجائے جیتے جاگتے شہروں کی گلیوں میں، اداکار پیشہ ور نہیں بلکہ عام لوگ، روشنی قدرتی، مکالمے عام بول چال سے اخذ کردہ اور بیانیہ شعوری طور پر بے ربط، کیونکہ زندگی خود ایسی ہی ہے۔

اس تحریک کی سب سے نمایاں فلم سائیکل چور، (The Bicycle Theives) جس میں کیمرا کسی گلیمرائے ہیرو ہیروئن کی بجائے ایک ایسے باپ پر مرکوز ہے جو بیٹے کے ساتھ مل کر اپنی مسروقہ سائیکل ڈھونڈ رہا ہے۔

ہندوستان میں بھی نیو ریئلزم کی تحریک اثر چھوڑے بغیر نہ رہ سکی۔ کسی اور ہدایت کار سے زیادہ گہرائی سے اسے ستیہ جیت رائے نے برتا، جس کا سب سے میٹھا پھل 1955 میں آنے والی فلم پاتھیر پنچالی کی صورت میں ہمارے سامنے ہے، جو غیر پیشہ ور اداکاروں اور بنگال کے دیہاتوں میں عکس بند ہوئی۔

پاتھیر پنچالی کے صرف ایک سال بعد یعنی 1956 میں جاگو ہوا سویرا کا ڈول ڈالا گیا۔

یہ شاید پاکستان کی تاریخ کی سب سے انوکھی فلم ہے، جس میں اس زمانے میں رائج کمرشل فلموں کا ہر فارمولا جان بوجھ کر تار تار کیا گیا۔ اس زمانے میں زیادہ تر جذباتی رومانوی ڈرامائی میوزیکل فلمیں بنتی تھیں، اس فلم میں نہ جذبات ہیں، نہ رومان ہے، نہ ڈراما، نہ ناچ گانا۔

فلم کی زیادہ تر عکاسی ڈھاکہ سے 30 میل دور دریائے میگھنا کے کنارے کی گئی۔ اس فلم میں مچھیروں کے ایک خاندان کی کہانی پیش کی گئی تھی جو ایک کشتی خریدنے کے لیے رقم اکٹھی کرنے کی تگ و دو کرتے ہیں اور اس دوران انھیں ایک ساہوکار کی چیرہ دستیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

نیو ریئلزم سے متاثر اس فلم میں حقیقی مناظر، زیادہ تر اصل لوگ اور اصل لوکیشنز استعمال کی گئیں۔ فلم دیکھتے ہوئے مصنوعی پن کا شائبہ تک نہیں گزرتا اور لگتا ہے کہ ہم کوئی دستاویزی فلم دیکھ رہے ہیں جن میں اصل کہانی فلم بند کی گئی ہے۔ اس وقت کے مشرقی پاکستان میں غربت اور بھوک کا راج تھا، اس لیے فلم کے برطانوی کیمرا مین والٹر لیزلی کو فلم کے منظرنامے میں حقیقت کا رنگ بھرنے میں کوئی خاص دشواری پیش نہیں آئی۔

عالمی سطح پر فلم کو وہ پذیرائی ملی جو اس وقت تک کسی پاکستانی فلم کے حصے میں نہیں آئی تھی۔ 1959 کے پہلے ماسکو انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں اسے طلائی تمغہ ملا اور یہ آسکرکے بہترین غیر ملکی فلم کے زمرے میں پاکستان کا پہلی اندراج تھی (اگرچہ حتمی نامزدگیوں تک پہنچنے میں ناکام رہی)۔

مگر گھر کی مرغی دال برابر کے مصداق، فلم کو اپنے ہاں کسی اور سلوک کا سامنا کرنا پڑا۔ فیض کی صاحبزادی سلیمہ ہاشمی نے لاہور میں منعقدہ فیض فیسٹیول کے موقعے پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ جب یہ فلم نمائش کے لیے پیش کی گئی تو ناقدین میں تو بڑی سراہی گئی لیکن اسے باکس آفس پر وہ کامیابی حاصل نہ ہو سکی جس کی توقع تھی جس کا فیض کو بڑا صدمہ پہنچا۔

فلم صرف کراچی کے جوبلی سینیما میں نمائش کے لیے پیش کی گئی لیکن تین دن چلنے کے بعد اتر گئی۔

اس کی وجہ کیا ہے؟ بہت سادہ۔ لوگوں کی اکثریت تفریح کی خاطر فلم دیکھنے جاتی ہے۔ کلرک، کسان، مزدور، تانگے بان، دکاندار، طلبہ، دن بھر کے تھکے ہارے، زندگی کے مارے، شام کو ٹکٹ خرید کر جاتے ہیں کہ انہیں اپنی بےمعنی، لایعنی، دکھوں کی ماری، بےچاری زندگی سے الگ کوئی سبز باغ دکھلائے جائیں، جن میں عالیشان بنگلوں میں روغنی چہروں والے، اصل زندگی سے ماورا کردار ہوں، وہ ایکشن اور ڈراما ہو جس کا وہ اصل زندگی میں صرف خواب دیکھ سکتے ہیں۔ اس طرح تین گھنٹوں کے لیے وہ اپنے غم بھول جائیں۔

فیض صاحب کے حریف ن م راشد نے لوگوں کے اسی احساس کو زبان دی ہے: زندگی سے بھاگ کر آیا ہوں میں۔۔

لیکن اگر دو تین چار روپے ضائع کرکے فلم کے پردے پر بھی انہیں اسی منحوس زندگی کی چخ چخ دیکھنے کو ملے جسے وہ سینیما کے احاطے سے باہر چھوڑ کر آئے ہیں تو کون کمبخت ایسی فلم دیکھے گا؟

فیض نے اس کے بعد دستاویزی فلمیں تو ضرور بنائیں لیکن فیچر فلموں سے دل اس قدر کھٹا ہوگیا کہ اگلے 14 سال تک انھوں نے کوئی اور فلم بنانے کا نہیں سوچا۔ البتہ اوپر بیان کردہ نکتہ شاید وہ سمجھ نہیں پائے، اس لیے تاہم 1972 میں جب بھٹو صاحب کی حکومت نے ملک میں فلموں کے فروغ کے لیے نیف ڈیک کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا، تو فیض نے سوچا کہ ایک اور کوشش کرنے میں کیا حرج ہے؟ بلکہ ایک بھی نہیں، تین کوششیں۔

انھوں نے نیف ڈیک سے تین فلمیں بنانے کا معاہدہ کیا جن میں پہلی فلم کا نام تھا دور ہے سکھ کا گاؤں۔۔

ایک بار پھر ہدایت کاری کے لیے فیض نے اپنے پرانے رفیقِ کار اے جے کاردار کا انتخاب کیا۔ اس فلم میں حکومت نے بھی خاصی دلچسپی دکھائی اور اس کی تشہیر کے لیے بڑے پیمانے پر مہم چلائی گئی۔

فلم بڑے زور و شور سے تیار ہوئی، سارے مراحل سے گزری، بس آخری مرحلہ پرنٹ صاف کروانے کا تھا، جس کے لیے کاردار فلم کی ریل لے کر لندن چلے گئے۔ اب وہاں ایک عجیب درگھٹنا گھٹی کہ کاردار کسی وجہ سے لیبارٹری کا بل ادا کرنے میں ناکام رہے۔ لیبارٹری والوں نے پیسوں کے بغیر فلم دینے سے انکار کر دیا اور نتیجہ یہ نکلا کہ فلم ضبط ہوگئی۔

بھٹو صاحب کی حکومت سنہ 1977 میں مارشل لا کے نیچے آ گئی اور فلم کا معاملہ غتربود ہوگیا۔ فیض نے فلم نکلوانے کے لیے بڑی کوششیں کیں، حتیٰ کہ نوبت مقدمے بازی تک پہنچ گئی، لیکن اس دوران فلم لندن کی لیبارٹری کے گودام سے غائب ہو چکی تھی۔

سلیمہ ہاشمی نے ہمیں بتایا کہ فیض کو اس قدر محنت سے بنائی گئی فلم کے یوں غائب ہونے کا آخر وقت تک قلق تھا۔ سلیمہ اور فیض گھر نے بھی فلم کو ڈھونڈ نکالنے کی بڑی کوششیں کیں لیکن تاحال اس فلم اتہ پتہ نہیں مل سکا۔

جاگو ہوا سویرا، بھی سنہ 1958 میں ڈبہ بند ہونے کے بعد خاصے عرصے تک کے لیے کھو گئی تھی، لیکن پھر یکایک سنہ 1977 میں لندن کے ایک گودام سے برآمد ہوگئی۔

امید پہ دنیا قائم ہے، اس لیے توقع کی جا سکتی ہے کہ ایک نہ ایک دن دور ہے سکھ کا گاؤں، بھی کہیں سے نکل آئے گی اور فیض کے چاہنے والے اپنے محبوب فنکار کا یہ رخ بھی دیکھ سکیں گے۔

جب تک دور ہے سکھ کا گاؤں ملتی ہے، تب تک آپ دکھ کا گاؤں یعنی جاگو ہوا سویرا دیکھیے۔

Check Also

Adelaide: Homer Ki Lazawal Takhleeq

By Asif Masood