Monday, 01 June 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Dr. Uzma Noreen
  4. Aurat Khud Gharz Ya Dunya Dar

Aurat Khud Gharz Ya Dunya Dar

عورت خود غرض یا دُنیا دار

انسانی معاشرے میں عورت کے کردار پر ہمیشہ بحث ہوتی رہی ہے۔ کبھی اسے ایثار و قربانی کی علامت کہا گیا اور کبھی اسے خود غرض اور دنیادار قرار دیا گیا۔ خاص طور پر مشرقی معاشرے میں جب کوئی عورت اپنے مفادات کا تحفظ کرے یا اپنی زندگی کے بارے میں آزادانہ فیصلے کرے تو اسے فوراً خود غرضی کا نام دے دیا جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا واقعی عورت فطری طور پر خود غرض ہوتی ہے یا وہ بھی دوسرے انسانوں کی طرح اپنے حالات اور تجربات کے مطابق فیصلے کرتی ہے؟ اس سوال کا جواب جذبات سے نہیں بلکہ حقیقت پسندانہ انداز میں تلاش کرنا ہوگا۔

خود غرضی اور دنیاداری دو مختلف تصورات ہیں لیکن ہمارے معاشرے میں دونوں کو ایک ہی معنی میں استعمال کیا جاتا ہے۔ خود غرضی سے مراد یہ ہے کہ انسان صرف اپنے فائدے کے بارے میں سوچے اور دوسروں کے حقوق یا ضروریات کو نظر انداز کر دے۔ اس کے برعکس دنیاداری سے مراد زندگی کے عملی تقاضوں کو سمجھنا اور اپنی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے حقیقت پسندانہ رویہ اختیار کرنا ہے۔ ہر دنیادار شخص خود غرض نہیں ہوتا اور ہر خود غرض شخص کو صرف دنیادار بھی نہیں کہا جا سکتا۔

عورت کے بارے میں یہ تصور عام ہے کہ وہ اپنے مفاد کے لیے تعلقات بناتی اور نبھاتی ہے۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ عورت دولت، طاقت اور سماجی حیثیت کو بہت اہمیت دیتی ہے۔ اس خیال کے پیچھے کچھ حقیقی مشاہدات بھی موجود ہیں لیکن اسے تمام عورتوں پر لاگو کرنا انصاف نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ عورت بھی مرد کی طرح ایک فرد ہے۔ اس کی شخصیت، اس کے ماحول، تعلیم، معاشی حالات اور خاندانی تربیت سے تشکیل پاتی ہے۔ اگر چند عورتیں مفاد پرست ہیں تو اس سے یہ نتیجہ نہیں نکالا جاسکتا کہ تمام عورتیں ایسی ہی ہیں۔

مردانہ سماج عورت کو انھیں دو انتہاؤں میں دیکھتا ہے۔ ایک طرف وہ عورت کو قربانی اور ایثار کا پیکر بنانا چاہتا ہے۔ دوسری طرف اگر وہ اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھائے تو اسے خود غرض قرار دے دیتا ہے۔ صدیوں تک عورت سے یہ توقع کی جاتی رہی کہ وہ اپنے خواب، اپنی خواہشات اور اپنی ضروریات کو دوسروں کے لیے قربان کر دے۔ ماں ہو تو بچوں کے لیے قربانی دے۔ بیوی ہو تو شوہر کے لیے قربانی دے۔ بیٹی ہو تو خاندان کی عزت کے لیے قربانی دے۔ اس مسلسل توقع نے عورت کے لیے ایک ایسا معیار قائم کر دیا جس میں اس کی اپنی ذات کہیں پیچھے رہ گئی۔

یہ بھی سچ ہے کہ جدید دور میں عورت کا رویہ تبدیل ہوا ہے۔ اب وہ تعلیم حاصل کر رہی ہے، روزگار کما رہی ہے اور اپنے مستقبل کے فیصلے خود کرنا چاہتی ہے۔ بعض لوگوں کو یہ تبدیلی خود غرضی محسوس ہوتی ہے حالانکہ اکثر صورتوں میں یہ خود آگاہی ہے۔ ایک عورت اگر اپنی تعلیم مکمل کرنا چاہے یا اپنی معاشی خودمختاری کو اہمیت دے تو یہ ضروری نہیں کہ وہ خود غرض ہو۔ ممکن ہے وہ صرف اپنے وجود اور اپنی صلاحیتوں کا احترام کر رہی ہو۔

دنیادار ہونا بذات خود کوئی برائی نہیں۔ دنیا میں رہنے والا ہر انسان کسی نہ کسی درجے میں دنیادار ہوتا ہے۔ انسان کو گھر چاہیے، روزگار چاہیے، تحفظ چاہیے اور عزت چاہیے۔ یہ سب دنیاوی ضرورتیں ہیں۔ جو شخص ان ضرورتوں کا خیال رکھتا ہے وہ لازماً برا نہیں ہو جاتا۔ مسئلہ تب پیدا ہوتا ہے جب دنیا حاصل کرنے کے لیے دوسروں کے حقوق پامال کیے جائیں۔ اس مقام پر دنیاداری خود غرضی میں تبدیل ہو جاتی ہے۔

عورت کی خود غرضی پر تنقید کرنے والے اکثر یہ بھول جاتے ہیں کہ خود غرضی صرف عورت کا مسئلہ نہیں۔ مرد بھی اپنے مفادات کے لیے فیصلے کرتا ہے۔ مرد بھی اپنی خواہشات کو ترجیح دیتا ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ مرد کی خود غرضی کو اکثر عملی ذہانت یا کامیابی کا نام دے دیا جاتا ہے جبکہ عورت کے اسی رویے کو منفی انداز میں دیکھا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ معاشرتی تنقید کا رخ زیادہ تر عورت کی طرف رہتا ہے۔

یہ سوال بھی اہم ہے کہ کیا اپنی ذات کے لیے سوچنا ممنوع ہے؟ اگر کوئی عورت اپنی صحت، اپنے مستقبل یا اپنی عزتِ نفس کا خیال رکھتی ہے تو کیا یہ خود غرضی ہے؟ شاید نہیں۔ انسان اگر اپنی ذات کا خیال نہ رکھے تو دوسروں کے لیے بھی مثبت کردار ادا نہیں کر سکتا۔ اپنی ضرورتوں کو سمجھنا اور اپنے حقوق کا تحفظ کرنا فطری عمل ہے۔ جب انسان دوسروں کو نقصان پہنچا کر صرف اپنے فائدے کے لیے جینے لگے تو یہ قابلِ اعتراض رویہ بن جاتا ہے۔

موجودہ دور کو اکثر مفاد پرستی کا دور کہا جاتا ہے۔ اب معاشی دباؤ بڑھ چکا ہے اور تعلقات کی نوعیت بدل رہی ہے۔ ہر شخص اپنی بقا اور ترقی کی فکر میں ہے۔ ایسے ماحول میں عورت سے یہ توقع کرنا کہ وہ ہمیشہ دوسروں کے لیے قربانی دیتی رہے اور خود کچھ نہ سوچے، یہ حقیقت پسندانہ مطالبہ نہیں ہے۔ اگر مرد اپنے مستقبل کے لیے منصوبہ بندی کر سکتا ہے تو عورت بھی یہ حق رکھتی ہے۔ اگر مرد اپنے مفادات کا تحفظ کرتا ہے تو عورت کو بھی اپنی زندگی کے بارے میں فیصلے کرنے کا اختیار ہونا چاہیے۔

اصل مسئلہ عورت یا مرد کی خود غرضی نہیں بلکہ توازن کا فقدان ہے۔ ایک صحت مند معاشرہ وہ ہے جہاں انسان اپنی ذات کا خیال بھی رکھے اور دوسروں کے حقوق کا احترام بھی کرے۔ عورت کو نہ تو فرشتہ بنا کر پیش کرنا چاہیے اور نہ شیطان بنا کر۔ آخر وہ بھی ایک انسان ہے، اس میں ایثار بھی ہو سکتا ہے اور مفاد پسندی بھی۔ اس میں محبت بھی ہو سکتی ہے اور دنیاداری بھی۔ یہی بات مرد کے بارے میں بھی صادق آتی ہے۔

عورت کو خود غرض یا دنیادار قرار دینے سے پہلے ضروری ہے کہ ہم اس کے حالات اور اس کے فیصلوں کے پس منظر کو سمجھیں۔ ہر عورت ایک جیسی نہیں ہوتی اور نہ ہی ہر عورت کے انتخاب ایک جیسے ہوتے ہیں۔ انصاف کا تقاضا یہی ہے کہ ہم عورت کو بھی ایک انسان کے طور پر دیکھیں جس کے اندر خوبیاں بھی ہیں کمزوریاں بھی، خواب بھی ہیں اور ضرورتیں بھی۔ اس کے اندر قربانی کا جذبہ بھی ہے اور اپنی ذات کے احترام کی خواہش بھی۔ اس لیے میں یہ سمجھتی ہوں کہ عورت کو خود غرض اور دنیا دار کہ کر تنقید کرنا بیمار ذہنیت کی علامت ہے اور اس نرگسیت سے مرد سماج کو اب باہر نکلنا ہوگا۔

Check Also

Kiraye Ka Makan Ho To Istikhara Nahi Aata

By Iffat Navaid