Naya Jazba Nai Himmat, Qaum Ki Khush Hali Aur Qanoon Ki Baladasti
نیا جذبہ نئی ہمت، قوم کی خوشحالی اور قانون کی بالا دستی

کسی بھی زندہ اور غیرت مند قوم کی بقا، ترقی اور خوشحالی کا دارومدار چند ایسے سنہری اصولوں پر ہوتا ہے جنہیں اپنا کر وہ دنیا کے نقشے پر اپنا لوہا منواتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ وہی قومیں عروج حاصل کرتی ہیں جہاں کا ہر شہری ایک نئے جذبے اور نئی ہمت کے ساتھ ملکی تعمیر و ترقی میں اپنا حصہ ڈالتا ہے اور جہاں کا نظامِ عدل کسی مصلحت کا شکار ہوئے بغیر معاشرے کے ہر کمزور اور طاقتور کے لیے برابر ہوتا ہے۔
مایوسی اور گلے شکووں کا دور ختم ہونا چاہیے، کیونکہ اندھیروں کا گلہ کرنے سے کبھی روشنی نہیں ہوا کرتی، روشنی کے لیے خود چراغ جلانا پڑتا ہے۔ ہمیں اجتماعی اور انفرادی سطح پر ایک ایسے انقلاب کی ضرورت ہے جو ہماری سوچ، ہمارے کردار اور ہمارے نظام کو بدل کر رکھ دے shelves.
اس نئے سفر کا آغاز ایک نئے جذبے اور نئی ہمت سے ہوتا ہے۔ جذبہ وہ طاقت ہے جو انسان کو ناممکن کو ممکن بنانے کا حوصلہ دیتی ہے اور ہمت وہ ڈھال ہے جو راستے میں آنے والی ہر مشکل کے سامنے سینہ تان کر کھڑی ہو جاتی ہے۔ جب تک کسی قوم کے نوجوانوں اور شہریوں میں آگے بڑھنے کا سچا جذبہ اور کٹھن حالات سے ٹکرانے کی ہمت موجود ہے، اسے دنیا کی کوئی طاقت پیچھے نہیں دھکیل سکتی۔ ہمیں ماضی کی تلخیوں اور ناکامیوں کو پسِ پشت ڈال کر ایک روشن مستقبل کی طرف قدم بڑھانا ہوگا۔ یہ نیا جذبہ ہمیں سکھاتا ہے کہ ہم نے صرف اپنے لیے نہیں، بلکہ اس مٹی کے لیے جینا ہے جس نے ہمیں پہچان اور عزت دی ہے۔
لیکن صرف جذبہ اور ہمت ہی کافی نہیں ہوتے، ان کے ساتھ محنت کا جنون ہونا شرطِ اول ہے۔ محنت کامیابی کی کنجی ضرور ہے، لیکن جب یہ محنت جنون کی حد تک پہنچ جائے تو پھر معجزات رونما ہوتے ہیں۔ دنیا کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں، جن اقوام نے صفر سے شروع کرکے ثریا تک کا سفر طے کیا، ان کے پیچھے صرف ایک ہی راز تھا اور وہ تھا انتھک محنت کا جنون۔ جاپان ہو یا چین، جرمنی ہو یا ملائیشیا، ان قوموں کے معماروں نے دن رات ایک کرکے اپنے وطن کو تعمیر کیا۔
ہمارے ہاں بدقسمتی سے شارٹ کٹ تلاش کرنے اور بنا محنت کے سب کچھ حاصل کر لینے کا مرض عام ہو چکا ہے۔ ہمیں اس سوچ کو بدلنا ہوگا۔ ہمیں اپنے کھیتوں، کارخانوں، دفاتر اور درسگاہوں میں محنت کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنانا ہوگا۔ جب تک ہمارا کسان، ہمارا مزدور، ہمارا تاجر اور ہمارا دانشور جنون کی حد تک جا کر اپنے فرائض انجام نہیں دے گا، تب تک قوم کی حقیقی خوشحالی کا خواب شرمندہِ تعبیر نہیں ہو سکتا۔
ہمیں یہ کڑوی سچائی تسلیم کرنی ہوگی کہ ملک کی ستر فیصد آبادی دیہاتوں اور کھیتوں کھلیانوں میں بستی ہے۔ ہمارا کسان جو سردی، گرمی اور کٹھن موسموں کی پروا کیے بغیر زمین کا سینہ چاک کرکے قوم کے لیے اناج اگاتا ہے، وہ آج کس حال میں ہے؟ وہ جب منڈی میں اپنے خون پسینے کی کمائی یعنی گندم، کپاس یا آلو کی فصل لے کر جاتا ہے، تو وہاں اسے آڑھتیوں اور مڈل مین کے ہاتھوں لٹنا پڑتا ہے۔ اس کے پاس محنت کا جنون بھی ہے اور مٹی سے وفا کا جذبہ بھی، لیکن جب مارکیٹ کے نرخ اس کی لاگت بھی پوری نہیں کرتے تو وہ ٹوٹ جاتا ہے۔
زراعت کی یہ زبوں حالی اور کسان کی یہ بے بسی اس بات کی گواہ ہے کہ ہمارے معاشی نظام میں کہیں نہ کہیں انصاف کی کمی ہے۔ جب تک کسان کو اس کی محنت کا پورا صلہ اور جائز ریٹ نہیں ملے گا، جب تک کھاد، بیج اور پانی کی فراہمی میں اس کے ساتھ دیانتداری نہیں برتی جائے گی، تب تک ہم زراعتی خوشحالی کا دعویٰ نہیں کر سکتے۔ حقیقی خوشحالی کا راستہ شہروں کے بنگلوں سے نہیں بلکہ دیہات کے کچے کھرلیوں اور ہرے بھرے کھیتوں سے ہو کر گزرتا ہے۔
قوم کی خوشحالی کا دارومدار براہِ راست اس بات پر ہے کہ ہم اپنے اندر ایمانداری کو فرضِ اول کے طور پر کتنی جگہ دیتے ہیں۔ ایمانداری صرف ایک اخلاقی قدر نہیں، بلکہ یہ کسی بھی معاشرے کی معاشی اور سماجی عمارت کی بنیاد ہوتی ہے۔ جب تک معاشرے میں ایمانداری کو اولین ترجیح نہیں دی جاتی، وہاں کرپشن، لوٹ کھسوٹ اور اقربا پروری کا راج رہتا ہے۔ ایمانداری کا مطلب صرف یہ نہیں کہ مالی معاملات میں ہیرا پھیری نہ کی جائے، بلکہ اپنے وقت کی ایمانداری، اپنے عہدے کی ایمانداری اور اپنے فرائض کی ایمانداری بھی اسی زمرے میں آتی ہے۔ ایک ادنیٰ اہلکار سے لے کر ایک اعلیٰ افسر تک، جب هر شخص یہ سمجھ لے گا کہ ایمانداری میرا فرضِ اول ہے اور مجھے اپنے خدا اور اپنی قوم کو جوابدہ ہونا ہے، تو معاشرے سے بگاڑ کا خاتمہ خود بخود شروع ہو جائے گا۔
ان تمام باتوں کے ساتھ ساتھ، جو سب سے اہم اور بنیادی نکتہ ہے، وہ ہے قانون کی سب کے لیے برابری۔ قانون کی بالا دستی کسی بھی مہذب معاشرے کی روح ہوتی ہے۔ اگر قانون طاقتور کے لیے موم کی ناک بنا رہے اور کمزور کو اس کے سامنے لوہے کے چنے چبانے پڑیں، تو وہ معاشرہ کبھی پنپ نہیں سکتا۔ ہمارے تھانے کچہری کا نظام گواہ ہے کہ وہاں ایک غریب کسان یا عام مزدور اپنی فریاد لے کر جائے تو اس کی سنوائی نہیں ہوتی، جبکہ کوئی بااثر اور مالدار شخص قانون کو اپنی جیب میں لیے پھرتا ہے۔ تاریخ کا سب سے بڑا سبق یہی ہے کہ تباہی اور بربادی ان اقوام کا مقدر بنی جہاں غریب کو تو معمولی جرم پر سزا دی جاتی تھی لیکن طاقتور اور بااثر طبقہ ہر قانون سے مبرا مانا جاتا تھا۔ ہمارے پیارے نبی کریم ﷺ کا فرمانِ عالی شان ہمارے لیے مشعلِ راہ ہے جس میں آپ ﷺ نے واضح فرمایا کہ تم سے پہلی قومیں اس لیے تباہ ہوئیں کہ وہ غریب پر حد جاری کرتی تھیں اور امیر کو چھوڑ دیتی تھیں۔
آج اگر ہم پاکستان کو ایک عظیم ملک بنانا چاہتے ہیں تو ہمیں ایک ایسا نظام وضع کرنا ہوگا جہاں عدالتیں، پولیس اور تمام ریاستی ادارے کسی دباؤ یا لالچ کے بغیر کام کریں۔ جہاں ملک کا عام شہری اور ملک کا حکمران قانون کی نظر میں ایک برابر کھڑے ہوں۔ جب تک یہ انصاف عام نہیں ہوگا، تھانوں اور کچہریوں سے مظلوم کو حق نہیں ملے گا، تب تک حقیقی خوشحالی کا خواب ادھورا رہے گا۔ وقت آ گیا ہے کہ ہم گلے شکوے چھوڑ کر آگے بڑھیں۔ آئیے عہد کریں کہ ہم نے اپنے حصے کا چراغ جلانا ہے اور اس ملک کو امن، انصاف اور خوشحالی کا گہوارہ بنانا ہے۔

