Mehangai: Taraqi Ke Daawon Aur Awami Haqiqat Ke Darmiyan Fasla
مہنگائی: ترقی کے دعووں اور عوامی حقیقت کے درمیان فاصلہ

پاکستان میں 2026 کا سال معاشی استحکام کے دعووں کے ساتھ شروع ہوا، لیکن عام شہری کی زندگی آج بھی مہنگائی کے بوجھ تلے دبی ہوئی نظر آتی ہے۔ حکومتی اعداد و شمار اور اقتصادی رپورٹس اگرچہ معیشت میں بہتری کے اشارے دیتی ہیں، مگر بازاروں، گلی محلوں اور متوسط طبقے کے گھروں کی حقیقت کچھ اور کہانی سناتی ہے۔ آٹا، چینی، گھی، سبزیاں، دودھ، بجلی، گیس اور پیٹرول جیسی بنیادی ضروریات زندگی کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں، جس کے باعث عام آدمی کی قوتِ خرید کمزور ہوتی جا رہی ہے۔ حالیہ مہینوں میں پاکستان میں مہنگائی کی شرح دوبارہ دو ہندسوں میں داخل ہو چکی ہے اور اپریل 2026 میں تقریباً 10.9 فیصد تک پہنچ گئی، جبکہ مئی میں مزید اضافے کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔
مہنگائی صرف قیمتوں میں اضافے کا نام نہیں بلکہ یہ ایک ایسا معاشی طوفان ہے جو معاشرے کے ہر طبقے کو متاثر کرتا ہے۔ ایک سرکاری ملازم، مزدور، چھوٹا دکاندار یا ریٹائرڈ شخص، سبھی اپنی آمدنی اور اخراجات کے درمیان بڑھتے ہوئے فرق سے پریشان ہیں۔ تنخواہوں میں اضافہ محدود ہے جبکہ روزمرہ اخراجات مسلسل بڑھ رہے ہیں۔ نتیجتاً لاکھوں خاندان اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے قرض لینے یا اپنی بچتیں خرچ کرنے پر مجبور ہیں۔ متوسط طبقہ، جو کسی بھی ملک کی معاشی ریڑھ کی ہڈی سمجھا جاتا ہے، سب سے زیادہ دباؤ کا شکار ہے۔
پاکستان میں مہنگائی کے اس نئے طوفان کے پیچھے کئی عوامل کارفرما ہیں۔ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ، مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی، درآمدی اشیا پر انحصار، روپے کی قدر میں اتار چڑھاؤ اور اندرونی مالیاتی چیلنجز نے قیمتوں کو اوپر دھکیلا ہے۔ ماہرین معاشیات کے مطابق توانائی کی بڑھتی ہوئی لاگت براہِ راست اشیائے خورونوش اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں اضافے کا سبب بنتی ہے، جس کا بوجھ بالآخر عام صارف کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔
افسوسناک پہلو یہ ہے کہ مہنگائی صرف معاشی مسئلہ نہیں رہی بلکہ یہ ایک سماجی بحران کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ جب ایک باپ اپنے بچوں کی تعلیمی فیس ادا کرنے میں مشکل محسوس کرے، ایک ماں راشن خریدتے وقت اشیا کی فہرست مختصر کرنے پر مجبور ہو جائے، یا نوجوان بہتر مستقبل کی امید کھونے لگیں تو معاشرے میں بے چینی، مایوسی اور عدم اعتماد پیدا ہونا فطری بات ہے۔ غربت اور بے روزگاری کے ساتھ مل کر مہنگائی سماجی مسائل کو مزید گہرا کر دیتی ہے۔
دوسری جانب حکومت کا مؤقف ہے کہ معیشت کو درپیش چیلنجز عارضی ہیں اور اصلاحاتی اقدامات کے مثبت نتائج مستقبل میں سامنے آئیں گے۔ بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے ساتھ معاہدے، مالیاتی نظم و ضبط اور محصولات میں اضافے کی کوششیں جاری ہیں۔ تاہم عوام کے لیے اصل پیمانہ یہ نہیں کہ اقتصادی رپورٹس کیا کہتی ہیں بلکہ یہ ہے کہ ان کے گھروں کا بجٹ کس حد تک متوازن رہتا ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ مہنگائی کے خلاف صرف وقتی اقدامات پر انحصار نہ کیا جائے بلکہ زرعی پیداوار میں اضافہ، مقامی صنعتوں کی ترقی، توانائی کے متبادل ذرائع، ذخیرہ اندوزی کے خلاف سخت کارروائی اور کم آمدنی والے طبقات کے لیے مؤثر سماجی تحفظ کے پروگراموں کو ترجیح دی جائے۔ جب تک معیشت کے ثمرات عام شہری تک نہیں پہنچتے، ترقی کے اعداد و شمار عوام کے زخموں پر مرہم نہیں رکھ سکتے۔
پاکستان کا اصل امتحان یہی ہے کہ آیا وہ معاشی استحکام کو عوامی خوشحالی میں تبدیل کر سکتا ہے یا نہیں۔ اگر مہنگائی کا جن قابو میں نہ آیا تو ترقی کے تمام دعوے صرف کاغذی کامیابیاں بن کر رہ جائیں گے۔ قوم کو ایسی معاشی پالیسیوں کی ضرورت ہے جو صرف اشاریوں کو نہیں بلکہ انسانوں کی زندگیوں کو بہتر بنائیں، کیونکہ کسی بھی ریاست کی حقیقی ترقی کا معیار اس کے عوام کا معیارِ زندگی ہوتا ہے، نہ کہ صرف اقتصادی رپورٹوں کے اعداد و شمار۔

