Wednesday, 15 July 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Sarfraz Saeed Khan
  4. Durustgi Ka Waqt

Durustgi Ka Waqt

درستگی کا وقت

شیننڈووا آئیوا میں اپریل یا مئی کی ایک بے حد خوشگوار چمکتی ہوئی صبح کو میں نے یہ سوچا کہ زندگی کے مسائل ختم ہو گئے ہیں۔ اتنے خوبصورت اور سنہری دھوپ والے دن بہت کم ہوتے ہیں لیکن آج بھی میں گویا وہ دن دیکھ سکتا ہوں۔

چند دنوں بعد مجھے اپنے جسم میں بہت عجیب سا درد محسوس ہونے لگا اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ گویا مجھے میرے جوڑوں میں درد شروع ہوگیا ہے۔ انہی دنوں میں میں نے تیزابیت کی ایک دوا بھی شروع کی تھی۔ بحثیت ڈاکٹر مجھے کئی بیماریوں کا خیال آیا جن میں سرفہرست Rheumatoid Arthritis جو جوڑوں کی ایک معروف، پیچیدہ اور معذوری کی حد تک بڑھ جانے والی بیماری ہے۔ اگر میڈیسن کی ٹیکسٹ بُک پڑھیں تو کم و بیش کتابی تعارف بالکل ہی ایسا تھا کہ کوئی شبہ نہیں رہا۔

چند ھفتوں بعد کسی کھانے پر مدعو تھے اور وہاں ایک قریبی دوست جو پیشے کے اعتبار سے ڈاکٹر تھے اُن سے ذکر کیا جنہوں نے اس بات کی تائید کی کہ یہ بیماری بالکل ایسی ہی دکھائی دیتی ہے۔ اُنہوں نے فوراََ لائف یا ڈاکٹروں کی ایک انشورنس پالیسی لینے کا کہا جس میں ڈاکٹر کی بیماری کی صورت میں آپ کو آپ کی تنخواہ کا تین چوتھائی حصہ باقی زندگی تک ملتا رہتا ہے۔ مذھبی بنیادوں پر وہ تو میں نہیں لینا چاہتا تھا لیکن بہرحال پریشانی سوا ہوگئی۔ اس زمانے میں امریکہ میں ڈاکٹروں کو اپنے ٹیسٹ لکھ کر خود دیکھنے کی اجازت تھی جو اب نہیں رہی۔ میں نے فوراََ سارے ٹیسٹ لکھے اور لیبارٹری میں دے کر آیا۔ حیران کُن طور پر سارے ٹسٹ درست تھے۔

شیننڈووا میڈیکل سینٹر میری زندگی کے سفر میں ان چند جگہوں میں سے ایک تھا جہاں مجھے بہت محبت سے رکھا گیا۔ امریکہ کے دیہات پاکستان کے دیہاتوں کی طرح ہی ہیں۔ لوگ مل جُل کر رہتے ہیں اور بہت سے معاملوں میں پچاسیوں سالوں تک نسل در نسل رہتے اور ایک دوسرے کو جانتے ہیں۔ ہم اُن میں یا اُن جیسے نہیں تھے لیکن ہمیں بہت خوش دلی سے اپنا لیا گیا۔ میرے ایک ہم عصر ڈاکٹر جو بہت عمر کے جہاں دیدہ ڈاکٹر تھے اور میری پیشہ ورانہ محنت سے خوب واقف تھے، میرا معائنہ کیا اور کہنے لگے کہ آپ کو Rheumatoid arthritis تو نہیں ہے لیکن بہت محبت سے سمجھانے لگے کہ اب آپ اب بہت نوجوان نہیں ہیں اور اپنے جسم کو آرام دینا سیکھئیے۔

درد بڑھتا رہا اور ایک دن سارے خون کے ٹیسٹ دوبارہ لکھے اور دے کر آیا۔ اس مرتبہ ایک آدھ ایسا ٹیسٹ بھی لکھا جو بہت معمولی سی بیماری بھی پکڑ لیتا ہے اور اس مرتبہ بھی حیران کُن طور پر سب کچھ ٹھیک آیا.

ایک دن مجھے ایسے ہی خیال آیا اور میں نے اس دوا کے سائیڈ ایفیکٹ پڑھنے شروع کئیے اور ایک بہت چھوٹی سی لائن میں جسم کے چھوٹے جوڑوں میں درد کا ذکر تھا۔ دوا بند ہوئی اور آہستہ آہستہ درد جاتے جاتے بالکل ختم ہوگیا۔ شفا مل گئی اور زندگی ایک مرتبہ پھر خوشگوار لگنے لگی۔

تب تک اماں جا چُکی تھیں اور پاپا ہمارے ساتھ ہی رہتے تھے۔ ایک کمزور لمحے میں۔ ایک صبح جب میں بہت پریشان ہوا تو وہ ابھی اپنے کمرے میں ہی تھے۔ میں جا کر اُن کے ساتھ ہی لیٹ گیا۔ انہوں نے محبت سے مجھے تھام لیا اور تسلی تشفی دی۔ باپ اور بیٹے کا ایک رشتہ جس محبت اور یقین کا متقاضی ہوتا ہے، وہ دن ویسا ہی رہا۔

اس ساری بیماری کے خوفناک اور مہیب اذیت ناک دنوں میں امبر کی تسلی میرے ساتھ ہی رہی۔ میرے قریب ترین عزیز میرے لئیے اذیت کا باعث نہیں بنے لیکن یہ لوگ کبھی کسی اور کیلئے بھی اذیت اور تکلیف کا باعث نہیں بنے۔ پاپا کی ہمیشہ عزت کی گئی۔

1988 میں پنجاب کے ایک حصے میں خوفناک سیلاب آیا اور وہ حصہ لاہور سے بالکل کٹ گیا۔ سیلاب ابھی اترا بھی نہیں تھا اور ہمارے ایک دور پار کے عزیز وہاں رہتے تھے۔ اماں مرحومہ نے کھانا بنایا۔ سیلابی کیچڑ اور پانی جہاں سانپوں کا خطرہ درجہ اتم موجود تھا۔ پاپا جانے کتنے میل پانی میں پیدل چل کر کھانا لے کر اُن کے گھر پہنچے جہاں سے وہ خود بھی نہیں نکل سکتے تھے۔ پاپا کو آتے دیکھ کر وہ عزیز بچوں کی طرح رو پڑے۔ ایک روشن چراغ کی روشنی صرف اپنے تک ہی محدود نہیں رہتی۔

ہم سب نے کہیں ایک دوسرے کو بھی برداشت کیا ہوگا لیکن ہم ایک کامیاب گھر بنا سکے جہاں بچوں کی کلکاریاں اور بوڑھوں کی موافقت، رفاقت کی اینٹوں پر محبت کا رنگ و روغن کرتی رہیں۔ مکان گھر میں بدل جاتے اور واپسی ہمیشہ ایک ایسے گھر میں ہوتی جہاں رشتے اہم رہے اور ان رشتوں کا اجالا بہت سے کونوں کو منور کرتا رہا۔ میں خوش نصیب اور سفر نصیب رہا۔

سالہا سال گزر گئے اور شاید کچھ خوشحال اور اچھی زندگی گزاری۔ کم و بیش اٹھارہ بیس برس پہلے ایک مرتبہ ایک کار خریدی تھی جو اس زمانے میں ایک اچھی کار گنی جاتی تھی لیکن وقت کے ساتھ ساتھ ہم اور ہماری کار نے گزرتے سالوں سے اکٹھے ہار مانی۔ رفاقت تو پُرانی ہوگئی لیکن بہت سی دلکش یادیں اس کار سے جُڑی رہیں۔ ایک بھولی بسری نوجوانی کی گم گشتہ محبت کی طرح جو دل کے کسی کونے کھدرے میں رہے اور برسوں یاد نہ آئے اور جب یاد آئے تو

اور یاد آئے تو محبوب گزشتہ یاد آئے
روبرو آنے سے جی گھبرائے

ہاں مگر جیسے کوئی
ایسے محبوب یا محبوبہ کا دل رکھنے کو

آ نکلتا ہے کبھی رات بتانے کے لیے

(فیض صاحب)

ایک آدھ کچھ بہتر کار خرید لی گئی جو بعضے متمول کہانی سُناتی ہے لیکن وہ کار بہرحال موجود رہی۔ کچھ عرصہ پہلے شہر کے ایک دوسرے حصے میں ایک مقابلتاََ صاحب ثروت انسان کے گھر کھانے پر جانا ہوا۔ اس مرتبہ اپنی بزرگ عزیزہ کار میں سفر طے کیا، جہاں کار پارک کی وہاں ایک صاحب اور بھی اپنی کار پارک کر رہے تھے۔ ہماری کار اور ہماری طرف ایک نگاہ غلط انداز سے دیکھا اور ہمارے سلام کی طرف نگاہ التفات نہیں کی۔ ہم بظاہر ان کے شخصی معیار پر پورے نہیں اُترے۔ انسانی کسوٹی نے طلائی جانچ ناخالص بتائی۔ ساری شام ان کے آس پاس گزاری لیکن انسانی اہمیت بھی نہیں ملی۔ نظام سقہ نے اپنی مُشک سنبھال کر جواں عمری کا سبق قدامت کے سالوں میں دوبارہ سیکھ ڈالا

اگلے وقتوں کی عربی زبان کی کہاوت

العِرُقُ دَسَّاسٌ" (یا "العِرُقُ النَّزَّاعُ")

کا اردو میں بنیادی مفہوم یہ ہے کہ انسان کی خاندانی و نسلی خصوصیات اور اخلاق و عادات چھپے نہیں رہتے، بلکہ کسی نہ کسی شکل میں اولاد یا نسل میں منتقل ہو ہی جاتے ہیں.

زندگی کی آخری سیڑھیوں پر قدم رکھتے ہوئے کسی ماہر نفسیات سے کوئی پوچھے تو وہ ایسی اخلاقیات کا سبق سکھلائے گا جہاں بس زبان اور اخلاق نہ پھسلنے پائیں۔ آج اگر اپنی زبان یا اپنے اخلاق میں کمی پاتے ہیں تو کل کلاں وہی آپ کی اولاد میں بھی جا پہنچے گی۔

آپ کی اگلی نسل ایک دن اُسی زہر میں بجھی تلوار سے مُڑ کر اپنی والدین کو بھی ایک آخری کچوکا ضرور دے ڈالے گی۔ کبھی جلد اور کبھی دیر سے۔ کوئی بھی کمی اگلی نسل تک پہنچنا ایک خاندانی ناکامی ہے۔ درستگی کا وقت آج ہی ہے ذرا شام ڈھلنے سے پہلے۔۔

راستوں کے انتخاب کے بھی وقت ہوتے ہیں.

Check Also

Jharpein Aur Arab Maeeshat

By Hameed Ullah Bhatti