Monday, 01 June 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Muhammad Waqas
  4. Bachon Ki Taleem Ka Sab Se Bara Dushman Kon?

Bachon Ki Taleem Ka Sab Se Bara Dushman Kon?

بچوں کی تعلیم کا سب سے بڑا دشمن کون؟

کچھ عرصہ پہلے تک ہم سب حکومت کو موردِ الزام ٹھہرا رہے تھے کہ وہ سکولوں میں غیر ضروری گرمیوں کی چھٹیاں کرکے بچوں کے مستقبل سے کھیل رہی ہے۔ ہم سمجھتے تھے کہ تعلیم کا نقصان صرف حکومتی فیصلوں کا نتیجہ ہے۔ لیکن اب ایک تلخ حقیقت کھل کر سامنے آ رہی ہے اور وہ حقیقت شاید حکومت سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔

پاکستان میں بچوں کی تعلیم کا سب سے بڑا دشمن اب خود والدین بنتے جا رہے ہیں۔ حکومت پنجاب نے 22 مئی سے چھٹیوں کا اعلان کیا، مگر ہزاروں والدین نے 21 مئی کو ہی بچوں کو سکول بھیجنا بند کر دیا۔ گویا تعلیم کوئی سنجیدہ معاملہ نہیں بلکہ ایک ایسی سرگرمی ہے جسے ایک دن پہلے یا بعد میں چھوڑ دینا کوئی مسئلہ نہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر والدین خود تعلیم کو اہمیت نہیں دیں گے تو پھر حکومت، سکول یا اساتذہ کیا کر لیں گے؟

مزید افسوسناک بات یہ ہے کہ جب حکومت نے سمر کیمپ کی اجازت دی تاکہ بچوں کا تعلیمی نقصان کم کیا جا سکے، تو وہی والدین شور مچانے لگے کہ "ہم تو چھٹیاں گزارنے آ گئے ہیں، اب بچوں کو واپس کیسے بھیجیں؟"

گویا مسئلہ گرمی نہیں، مسئلہ ترجیحات ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں تعلیم کو ایک سنجیدہ قومی ضرورت کے بجائے ایک رسمی کارروائی بنا دیا گیا ہے۔ والدین کو بچے کے سکول بند ہونے پر اتنی خوشی ہوتی ہے جتنی شاید بچے کے امتحان میں اچھے نمبر آنے پر بھی نہیں ہوتی۔ کئی گھروں میں تو چھٹیوں کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ کتابیں الماری میں بند کر دو اور تین مہینے کے لیے دماغ کو بھی چھٹی دے دو۔

دوسری طرف کچھ سکول ایسے بھی ہیں جو تمام مشکلات کے باوجود بچوں کو پڑھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ کبھی سمر کیمپ، کبھی اضافی کلاسز اور کبھی کسی اور جائز طریقے سے تعلیمی سلسلہ جاری رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن حیرت کی انتہا دیکھیے کہ انہی سکولوں کے خلاف بعض والدین شکایات لے کر پہنچ جاتے ہیں کہ "یہ سکول کیوں کھلا ہوا ہے؟"

یہ رویہ صرف افسوسناک نہیں، بلکہ خطرناک ہے۔ ایک طرف ہم روتے ہیں کہ ہمارے بچے ڈاکٹر، انجینئر، سائنسدان اور عالمی معیار کے پروفیشنل کیوں نہیں بنتے، دوسری طرف جب کوئی ادارہ انہیں پڑھانے کی کوشش کرتا ہے تو ہم خود اس کے راستے میں دیوار بن جاتے ہیں۔

تلخ حقیقت یہ ہے کہ قومیں حکومتوں سے پہلے اپنے گھروں میں بنتی ہیں۔ اگر والدین کی اولین ترجیح سیاحت، شادیوں کی تقریبات، موبائل فون اور تفریح ہے جبکہ تعلیم فہرست کے آخر میں ہے، تو پھر آنے والی نسلوں کے بارے میں کوئی خوش فہمی نہیں رکھنی چاہیے۔

دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں والدین بچوں کی ایک کلاس بھی ضائع ہونے پر پریشان ہو جاتے ہیں۔ یہاں صورتحال یہ ہے کہ مہینوں کی تعلیم ضائع ہونے پر بھی اکثر والدین کے چہروں پر پریشانی نظر نہیں آتی۔ پھر ہم شکوہ کرتے ہیں کہ ہمارے نوجوان دنیا میں پیچھے کیوں رہ گئے؟

جو قوم اپنی اولاد کی تعلیم کو بوجھ سمجھنے لگے، وہ ترقی کا خواب نہیں دیکھ سکتی۔ سکول بند ہونے سے زیادہ خطرناک وہ ذہن ہیں جو تعلیم کی اہمیت سے بند ہو چکے ہیں۔

وقت آ گیا ہے کہ ہم حکومت سے سوال کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے گریبان میں بھی جھانکیں۔ کیونکہ اگر والدین خود تعلیم کے محافظ نہیں بنیں گے تو کوئی قانون، کوئی پالیسی اور کوئی سکول بچوں کے مستقبل کو نہیں بچا سکے گا۔

Check Also

Kiraye Ka Makan Ho To Istikhara Nahi Aata

By Iffat Navaid