Monday, 01 June 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Mohsin Khalid Mohsin
  4. Saaye Ka Qarz

Saaye Ka Qarz

سائے کا قرض

کسی گاؤں کے کنارے ایک چھوٹا سا گھر تھا، جس کے صحن میں ایک پرانا نیم کا درخت کھڑا تھا۔ وہ درخت برسوں سے اسی طرح کھڑا تھا، جیسے کسی صابر باپ کی خاموش دُعا۔ اسی گھر میں ایک نوجوان رہتا تھاجس کا نام علی تھا۔ علی ذہین تھا لیکن اس کے دل میں ایک عجیب سی آگ جلتی رہتی تھی۔ یہ آگ اپنے باپ کے خلاف بلاوجہ کی نفرت لیے ہوئی تھی۔

اس کے باپ کا نام حامد تھا۔ حامد ایک سیدھا سادہ آدمی تھا۔ اس کے ہاتھوں میں محنت کی لکیریں تھیں اور چہرے پر وقت کی تھکن۔ علی کو اپنے باپ کی سادگی ہمیشہ کمزوری لگتی تھی۔ وہ اکثر دوستوں میں کہتا، "میرا باپ دُنیا سے بہت پیچھے ہے، اس کے پاس نہ سوچ ہے نہ سمجھ"۔

حالانکہ وہ جانتا تھا کہ یہی باپ دن رات محنت کرکے اسے پڑھا رہا ہے۔ اس کے خوابوں کو پانی دے رہا ہے جیسے کوئی باغبان پودے کی پرورش کرتا ہے۔ علی بات بات پر باپ سے اُلجھتا۔ اس کی عزت نہ کرتا اور اکثر گھر دیر سے آتا۔ حامد سب کچھ خاموشی سے برداشت کرتا جیسے "خاموشی سب سے بڑا صبر ہے"۔

ایک دن علی نے فیصلہ کیا کہ وہ گھر چھوڑ دے گا۔ اس کا خیال تھا کہ دُنیا بہت بڑی ہے اور وہ یہاں اکیلا ہی سب کچھ حاصل کر سکتا ہے۔ وہ دل میں سوچ رہا تھا کہ باپ کی زندگی ایک پرانی کتاب ہے جس میں اب کچھ نیا نہیں بچا۔

وہ ایک صبح خاموشی سے گھر سے نکل گیا۔ نہ سلام کیا، نہ دُعا لی۔ حامد نے اِسے جاتے دیکھا مگر کچھ نہ کہا۔ بس نیم کے درخت کی طرف دیکھا اور آہستہ سے کہا: "وقت سب کچھ سکھا دے گا"۔

شہر پہنچ کر علی کو حقیقت کا پہلا جھٹکا لگا۔ شہر وہ نہیں تھا جو اس نے خوابوں میں دیکھا تھا۔ یہاں ہر شخص اپنی فکر میں گم تھا۔ کسی کو کسی کی پروا تھی نہ ہمدردی۔

علی نے اپنے چند دوستوں کے ساتھ رہنا شروع کیا۔ وہ دوست بڑے خوش مزاج لگتے تھے مگر ان کے دل برف کی طرح ٹھنڈے تھے۔ جب علی کے پاس پیسے ختم ہوئے تو دوست ایک ایک کرکے دور ہونے لگے جیسے پتوں سے خزاں سبزہ چھین لیتی ہے۔

پھر ایک دن ایسا آیا کہ علی بالکل اکیلا رہ گیا۔ نہ دوست، نہ پیسہ، نہ رہنے کی جگہ۔ اسے پہلی بار احساس ہوا کہ تنہائی کیا ہوتی ہے۔ وہ سڑک کے کنارے بیٹھا سوچ رہا تھا کہ دُنیا نے اسے کیوں دُھوکا دیا۔

اسے یاد آیا کہ باپ کے ساتھ وہ کتنی بدتمیزی کرتا تھا، پھر بھی باپ کبھی اس سے منہ نہیں موڑتا تھا۔ وہ ابھی بھی اپنے باپ کے بارے میں نرم نہیں ہوا تھا بلکہ دل میں کہیں نہ کہیں نفرت کی چنگاری سلگتی رہتی تھی۔

اسی شہر میں ایک بوڑھا آدمی تھا جو ہر وقت خاموش رہتا تھا۔ وہ کسی سے زیادہ بات نہیں کرتا تھا۔ وہ علی کی وقتاً فوقتاً مدد کر دیتا۔ کبھی اسے کھانا دے دیتا کبھی کچھ پیسے اور کبھی کام دلانے کی کوشش کرتا۔

علی اسے جانتا نہیں تھا۔ وہ سمجھتا تھا کہ شاید کوئی ہمدرد انسان ہے جو دُنیا میں ابھی باقی ہے۔ علی یہ نہیں جانتا تھا کہ یہ بوڑھا آدمی کوئی اور نہیں بلکہ اس کا اپنا باپ حامد ہے جو اپنی عزت، اپنی زمین اور اپنی چیزیں بیچ کر شہر آگیا تھا تاکہ اپنے بیٹے کو گمنامی میں سہارا دے سکے۔

حامد نے کبھی اپنے بیٹے کو بتایا نہیں کہ وہ کون ہے۔ وہ دور سے اپنے بیٹے کو ٹوٹتے اور سنبھلتے دیکھتا رہا جیسے کوئی باغبان اپنے سوکھتے پودے کو پانی دیتا ہے مگر خود کو ظاہر نہیں کرتا۔

علی بار بار مشکلات میں گرتا اور بار بار وہی بوڑھا اسے سہارا دیتا۔ کبھی وہ سوچتا کہ یہ بوڑھا آخر کون ہے؟ پھر اپنی زندگی کی الجھنوں میں کھو جاتا۔

وقت گزرتا گیا اور علی کی حالت مزید خراب ہوتی گئی۔ وہ بیماری، بھوک اور بے روزگاری کا شکار ہوگیا۔ زندگی اس کے لیے ایک سخت امتحان بن گئی۔ ایک رات جب وہ شدید بیمار تھا، اسے لگا کہ اب سب ختم ہو جائے گا۔ اس کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا پھیل رہا تھا جیسے رات نے دن کو نگل لیا ہو۔

اسی رات وہ بوڑھا آدمی اسے تلاش کرکے ایک چھوٹے سے کمرے میں لے گیا۔ وہاں اس کا علاج کیا، اس کے لیے دوائی لایا اور اس کے پاس بیٹھا رہا۔ علی نے کانپتی ہوئی آواز میں کہا: "آپ آخر کون ہیں؟ آپ کیوں میری مدد کر رہے ہیں؟"

بوڑھا خاموش رہا۔ پھر آہستہ سے بولا: "کچھ رشتے لفظوں کے محتاج نہیں ہوتے"۔

بوڑھے کی مسلسل دیکھ بھال سے کچھ دن میں علی کی حالت بہتر ہوئی لیکن پھر قسمت نے آخری وار کیا۔ بوڑھا آدمی ایک حادثے کا شکار ہوگیا۔ اس کی نعش کے پاس سے ایک پرانی ڈائری ملی۔

جب علی نے وہ ڈائری کھولی تو اس کے ہاتھ کانپنے لگے۔ ہر صفحے پر ایک ہی درد لکھا تھا: باپ کا درد، محبت، قربانی اور خاموش آنسو۔ اس میں لکھا تھا کہ وہ بوڑھا آدمی اس کا باپ حامد تھا۔ جس نے اپنی زمین بیچی، اپنا گھر چھوڑا، اپنی عزت کو پسِ پُشت ڈالا صرف اپنے بیٹے کے لیے۔

علی کے سامنے دُنیا جیسے رُک گئی۔ اس کے کانوں میں صرف ایک جملہ گونج رہا تھا: "میں نے اپنے بیٹے کے لیے سب کچھ چھوڑ دیا، مگر اسے خبر تک نہ ہونے دی"۔

علی زمین پر گر گیا۔ اس کی آنکھوں سے آنسو ایسے بہہ رہے تھے جیسے بارش کے بعد ندی بے قابو ہو جاتی ہے۔ وہ چیخ چیخ کر رونے لگا۔ اسے احساس ہوا کہ جس شخص کو وہ سب سے زیادہ کمزور سمجھتا تھا اُسی نے خود کو سب سے زیادہ مضبوط ثابت کیا۔ جس سے وہ بلاوجہ نفرت کرتا تھا، اُسی نے اِسے زندگی عطا کی۔

علی نے اپنے دل میں کہا: "میں نے اپنے ہاتھوں سے اپنے جنت جیسے باپ کو زخمی کیا۔ میں نے ناشکری اور نافرمانی کی انتہا کر دی"۔ وہ بار بار خود کو کوستا رہا لیکن اس کا پچھتانا اس کے کسی کام نہ آسکا۔

وہ اپنے گاؤں واپس آیا۔ نیم کا وہی پرانا درخت اب بھی کھڑا تھا مگر اب وہ علی کو اجنبی نہیں لگ رہا تھا۔ وہ اس کے باپ کی طرح خاموش مگر مضبوط تھا۔

علی نے باپ کی قبر پر جا کر سر رکھ دیا اور روتے ہوئے کہا: "ابا! میں نے آپ کو پہچانا نہیں۔ میں نے آپ کے احسانوں کو ٹھکرا دیا۔ مجھے معاف کر دیں۔ میں نے خود کو خود ہی برباد کیا"۔

ہوا جیسے تھم گئی ہو۔ پرندے خاموش ہو گئے۔ نیم کے پتے جیسے اس کی بات سُن رہے ہوں۔

اس دن کے بعد علی بدل گیا۔ وہ اب پہلے جیسا نہ رہا۔ اس نے باپ کی محبت کو اپنی زندگی کا مقصد بنا لیا۔ وہ دوسروں کی مدد کرتا، محنت کرتا اور ہر قدم پر اپنے باپ کی قربانی کو یاد رکھتا۔

وہ اکثر کہتا: "باپ سایہ ہوتا ہے۔ افسوس! میں نے اس سائے کی قدر نہ کی"۔

اب وہ جان چکا تھا کہ دُنیا میں سب چھوڑ سکتے ہیں لیکن باپ وہ سایہ ہے جو آخری سانس تک ساتھ رہتا ہے۔

کہتے ہیں علی کے گاؤں میں نیم کا وہ درخت آج بھی گاؤں کے کنارے کھڑا ہے۔

یہ درخت محبت کی وہ علامت ہے جو لفظوں سے نہیں، قربانی سے لکھی جاتی ہے۔

Check Also

Faiz Sahab Ki Realist Film Buri Tarah Nakam Kyun Hui?

By Zafar Syed